Author Editor Hum Daise View all posts
تحریر : اعجاز بھٹی
پاکستان میں کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبائی حکومتوں نے سخت اقدامات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔ 2025 میں “اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل” اور 2026 میں “پنجاب چائلڈ میرج آرڈیننس” کے نفاذ کے بعد اب 18 سال سے کم عمر کے بچوں کی شادی کو قانونی طور پر جرم قرار دے دیا گیا ہے۔نئے قانون کے تحت نکاح کے وقت دولہا اور دلہن دونوں کی عمر کم از کم 18 سال ہونا لازمی ہے۔ 18 سال سے کم عمر کی شادی کو “زیادتی” کے زمرے میں شمار کر کے 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کم عمر بچے سے شادی کرنے والے کو 3 سال قید، نکاح خواں اور رجسٹرار کو 1 سال قید اور سرپرستوں کو 2 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے 31 اگست 2026 کو اپنے ایک اہم فیصلے میں بھی قرار دیا کہ کم عمر کی شادی غیر قانونی ہے اور بچوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ قانون سخت بنا دیا گیا ہے، لیکن اس مسئلے کے مکمل خاتمے کے لیے موثر نفاذ، عوامی آگاہی اور سماجی رویوں میں تبدیلی ناگزیر ہے۔

میڈم رضیہ شوکت صدر ویمن شیلٹر آرگنائزیشن فیصل آباد نے انٹرویو میں کہا کہ کم عمری کی شادی روکنے کے لیے صرف قانون بنانا کافی نہیں۔ یونین کونسل، نکاح رجسٹرار/نکاح خواں، پولیس، چائلڈ پروٹیکشن اداروں اور عدالتوں کو اپنا کردار مؤثر طریقے سے ادا کرنا ہوتا ہے ایڈووکیٹ شاہد انور گل نے بتایا کہ پنجاب چائلڈ میرج آرڈیننس 2026 اور ایکٹ 2025 نے 1929 کے پرانے قانون کو ختم کر کے لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کر دی ہے۔ نئے قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر کی شادی کو “چائلڈ ابیوز” قرار دے کر اسے ناقابلِ ضمانت جرم بنا دیا گیا ہے۔ نکاح رجسٹرار کے لیے نادرا دستاویزات سے عمر کی تصدیق لازمی ہے۔ قانونی جواز یہ ہے کہ 18 سال سے کم بچہ ازدواجی تعلق کے لیے باخبر رضامندی نہیں دے سکتا۔ یہ عمل آئین کے تحت بچوں کے حقوق اور صحت کے خلاف ہونے کی وجہ سے “جسمانی زیادتی” کے زمرے میں آتا ہے جس کی تائید عدالتی فیصلوں سے بھی ہوتی ہے۔سماجی کارکن یوسف عدنان، صدر کیئر فاؤنڈیشن فیصل آباد نے بتایا کہ پنجاب، پاکستان میں کم عمری کی شادی کی کئی سماجی، معاشی، ثقافتی اور قانونی وجوہات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے بڑی وجہ غربت اور معاشی مشکلات ہیں۔غریب خاندان بیٹی کی جلد شادی کو اپنی مالی ذمہ داری کم کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ دوسری اہم وجہ تعلیم کی کمی ہے، والدین میں کم عمری کی شادی کے نقصانات سے متعلق آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے یہ روایت برقرار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بعض علاقوں میں لڑکیوں کے لیے اسکول، کالج اور محفوظ آمد و رفت کی سہولیات محدود ہونے کے باعث ان کی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے اور کم عمری میں شادی کر دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سماجی و ثقافتی روایات، عزت اور سماجی دباؤ کا تصور بھی اس کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں، جہاں بعض والدین بیٹی کی جلد شادی کو خاندان کی عزت اور تحفظ کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔یوسف عدنان کا کہنا تھا کہ ہراسانی، جنسی تشدد اور اغوا کے خوف سے بھی والدین جلد شادی کو تحفظ کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ لڑکیوں کو بوجھ سمجھنے کا فرسودہ رویہ، والدین کا خود کم عمری میں شادی شدہ ہونا، دیہی علاقوں میں آگاہی کی کمی، جہیز اور شادی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، خاندانی و برادری کا دباؤ اور قانون پر مؤثر عملدرآمد کی کمزوری بھی اس مسئلے کو جنم دیتی ہے۔مولانا محمد یاسر علوی ڈپٹی جنرل سیکرٹری پاکستان علماء کونسل پنجاب سے پوچھا گیا کہ اسلام میں نکاح کی عمر کے حوالے سے کیا راہنمائی ہے اور اسے جدید قانون سے کیسے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ
اسلام نے نکاح کے لیے کوئی خاص عمر مقرر نہیں کی بلکہ بلوغت اور رشد (سمجھداری) کو معیار بنایا ہے، جیسا کہ سورۃ النساء آیت نمبر 6 میں ارشاد ربانی ہے “اور یتیموں کو آزماتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں، پھر اگر ان میں ہوشیاری (عقل کی پختگی) دیکھو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو۔۔
فقہاء نے واضح کیا کہ نکاح منعقد ہو سکتا ہے مگر رخصتی بلوغت اور جسمانی برداشت کے بعد ہی جائز ہے۔ آج کے دور میں رشد کا مفہوم تعلیم، شعور اور معاشی سمجھ تک وسیع ہو چکا ہے۔ اسی مصلحت کے تحت پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک نے قانونی عمر 18 سال مقرر کی ہے جو مقاصدِ شریعت یعنی حفظِ نفس و نسل کے عین مطابق ہے۔ اسلام حاکم کو عوامی مفاد میں ضابطہ بنانے کا اختیار دیتا ہے۔ کم عمری کی شادی سے صحت،تعلیم اور خاندانی استحکام کو نقصان پہنچتا ہے، اس لیے قانونی عمر اور شرعی اصول میں کوئی تضاد نہیں بلکہ یہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔اسلامی اسکالر و نکاح خواں علامہ پیرزادہ محمد عرفان جاوید قادری سے جب پوچھا گیا کہ 18 سال سے کم عمر شادی کی ممانعت کے بل کو “غیر اسلامی” کیوں قرار دیا جا رہا ہے، تو انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اور جید علماء کرام کے اعتراض کی بنیاد یہ ہے کہ اسلام میں نکاح کے لیے کوئی متعین عددی عمر مقرر نہیں۔ شریعت میں معیار بلوغت، جسمانی و ذہنی پختگی اور رُشد ہے۔ قرآن و سنت میں 18 سال کی شرط موجود نہیں، اس لیے جب ریاست ایک قطعی عمر مقرر کر کے اس سے پہلے کے نکاح کو باطل یا جرم قرار دیتی ہے تو علماء اسے شریعت کی تعبیر میں مداخلت سمجھتے ہیں۔
انہوں نے اپنی رائے میں کہا کہ بل کا مقصد یعنی کم عمر بچیوں کو جبر سے بچانا بالکل درست ہے، لیکن طریقہ کار میں فقہی تنوع کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ فقہاء نے ہمیشہ ولی کی اجازت، رضامندی اور مصلحت کو بنیاد بنایا ہے۔ اگر 16 یا 17 سال کی عمر میں بلوغت اور رُشد کے باوجود ہونے والے شرعی نکاح کو زنا کے زمرے میں لایا گیا تو یہ فقہی طور پر بڑا مسئلہ بنے گا۔قانونی پابندی کے ساتھ دینی تعلیم اور آگاہی کی ضرورت پر انہوں نے کہا کہ صرف قانون سے معاشرہ نہیں بدلتا۔ دیہی علاقوں میں کم عمری کی شادی کی بڑی وجوہات غربت، جہیز کا خوف، تعلیم کی کمی اور غلط رسم و رواج ہیں۔ پولیس اور عدالت سے پہلے مسجد اور مدرسہ کا کردار اہم ہے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ نکاح خواں اور ائمہ مساجد کو تربیت دی جائے، خطبہ جمعہ میں قرآن و سنت کی روشنی میں کم عمری کی شادی کے طبی و معاشرتی نقصانات اور عورت کی تعلیم کی اہمیت پر آگاہی دی جائے اور والدین کو سمجھایا جائے کہ جلد بازی سے بہتر اچھی تربیت ہے۔ لہذا قانون اور دین کی راہنمائی سے کم عمری کی شادی کے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔















1 Comment
محمد عابد رشید ملتان
September 23, 2026, 12:33 pmبہت بہت اعلیٰ
REPLY