Author Editor Hum Daise View all posts
شوکت جاوید
یہ اٹل حقیقت ہے کہ جمہوریت کی اصل خوبصورتی یہ ہے کہ اختلاف رائے کو برداشت کیا جائے، مخالف کو دشمن نہیں بلکہ حریف سمجھا جائے، اور اقتدار کے حصول کے لیے بندوق نہیں بلکہ بیلٹ باکس کا سہارا لیا جائے۔ مگر جب سیاسی اختلاف نفرت میں بدل جائے، جب مخالف کی شکست کافی نہ رہے بلکہ اس کا وجود ناقابلِ برداشت محسوس ہونے لگے، تو پھر سیاست اپنے مہذب لباس سے باہر آ جاتی ہے۔ تب دلیل خاموش اور گولی بولنے لگتی ہے۔ امریکی تاریخ اس تلخ حقیقت کی گواہ ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور جمہوریت بھی سیاسی تشدد کے اس ناسور سے محفوظ نہیں رہی۔امریکی صدارت صرف ایک آئینی منصب نہیں؛ یہ دنیا کے طاقتور ترین سیاسی عہدے کی علامت ہے۔ اسی لیے امریکی صدر نہ صرف داخلی سیاسی کشمکش کا مرکز ہوتا ہے بلکہ عالمی نظریاتی معرکوں کی علامت بھی بن جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ امریکہ کی تاریخ میں بارہا صدور اور صدارتی امیدوار قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنے۔اس خونی داستان کا آغاز 14 اپریل 1865 کو ہوا جب امریکی صدر ابراہام لنکن واشنگٹن کے فورڈ تھیٹر میں ڈرامہ دیکھ رہے تھے کہ جان ولکس بوتھ نے انہیں گولی مار دی۔ لنکن اگلے دن چل بسے۔ یہ واقعہ امریکی خانہ جنگی کے فوراً بعد پیش آیا اور نئی جمہوری ریاست کو لرزا گیا۔اس کے بعد 2 جولائی 1881 کو صدر جیمز اے گارفیلڈ کو ریلوے اسٹیشن پر گولی ماری گئی۔ وہ دو ماہ تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد وفات پا گئے۔ پھر 6 ستمبر 1901 کو صدر ولیم میک کنلی نیویارک میں ایک عوامی تقریب کے دوران حملے کا شکار ہوئے اور چند دن بعد دم توڑ گئے۔گویا صرف چند دہائیوں میں امریکہ اپنے تین صدور کھو چکا تھا۔مگر ہر حملہ جان لیوا ثابت نہیں ہوا۔ 14 اکتوبر 1912 کو سابق صدر تھیوڈور روزویلٹ پر انتخابی مہم کے دوران گولی چلائی گئی، مگر وہ زخمی ہونے کے باوجود اسٹیج پر کھڑے رہے اور تقریر مکمل کی۔ یہ منظر امریکی سیاسی تاریخ کی علامتی تصاویر میں شمار ہوتا ہے۔اسی طرح 15 فروری 1933 کو منتخب صدر فرینکلن روزویلٹ پر حملہ ہوا مگر وہ محفوظ رہے۔
پھر آیا 22 نومبر 1963 امریکی تاریخ کا وہ دن جسے آج بھی قوم بھلا نہیں پائی۔ صدر جان ایف کینیڈی ڈلاس کی سڑکوں پر عوامی استقبال قبول کر رہے تھے کہ گولیوں نے انہیں خاموش کر دیا۔ اس قتل نے صرف ایک صدر نہیں لیا، اس نے امریکی معصومیت کا ایک دور ختم کر دیا۔بعد کے برسوں میں بھی خطرات ختم نہ ہوئے۔ رونالڈ ریگن پر 30 مارچ 1981 کو حملہ ہوا تو وہ شدید زخمی ہوئے مگر بچ گئے۔ جیرالڈ فورڈ دو مختلف قاتلانہ کوششوں سے محفوظ رہے۔ جارج ڈبلیو بش پر 2005 میں دستی بم سے حملہ کیا گیا جو ناکام رہا۔اور پھر حالیہ دور میں سیاسی تشدد نے ایک بار پھر دنیا کو چونکا دیا۔13 جولائی 2024 کو ڈونلڈ ٹرمپ پنسلوانیا میں انتخابی جلسے سے خطاب کر رہے تھے کہ اچانک فائرنگ ہوئی۔ گولی ان کے کان کے قریب سے گزری، ایک حاضرین ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ خون آلود چہرے کے ساتھ ٹرمپ کی وہ تصویر جس میں وہ مکا لہرا رہے تھے، لمحوں میں عالمی علامت بن گئی۔اس کے بعد 15 ستمبر 2024 کو ان کے فلوریڈا گالف کلب کے قریب ایک اور مشتبہ شخص گرفتار کیا گیا۔ اور اب ایک مشہور و معروف ہوٹل میں سکیور ٹی اہلکار پر گولیوں کی بارش اور اہلکار کو بلٹ پروف جیکٹ کا بچانا ان واقعات نے ثابت کیا کہ امریکی سیاست اب محض انتخابی مقابلہ نہیں بلکہ شدید جذباتی اور نظریاتی تصادم کا میدان بن چکی ہے۔یہ سوال اہم ہے کہ آخر امریکہ جیسے ترقی یافتہ، مستحکم اور سکیورٹی کے لحاظ سے مضبوط ملک میں یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟جواب صرف سکیورٹی کی خامیوں میں نہیں بلکہ سیاسی ماحول میں پوشیدہ ہے۔امریکہ اس وقت شدید نظریاتی تقسیم کا شکار ہے۔ دائیں اور بائیں بازو کے درمیان اختلاف محض پالیسی کا نہیں رہا اب یہ شناخت، اقدار، نسل، مذہب، اور قومی سمت کا تنازع بن چکا ہے۔ مخالفین کو سیاسی حریف نہیں بلکہ قومی خطرہ سمجھا جانے لگا ہے۔ سوشل میڈیا نے اشتعال، سازشی نظریات اور نفرت انگیز بیانیے کو عام کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں جب سیاسی زبان زہر آلود ہو جائے تو بندوق اٹھانے والے ہاتھ پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
یہ صرف امریکہ کا مسئلہ نہیں یہ پوری دنیا کے لیے سبق ہے۔ہر وہ معاشرہ جو سیاسی مخالف کو غدار، دین دشمن، ملک دشمن یا قوم کا دشمن قرار دیتا ہے، وہ دراصل تشدد کے بیج بو رہا ہوتا ہے۔ سیاسی رہنما جب اپنے حامیوں کو مشتعل کرتے ہیں تو اکثر نتائج ان کے قابو سے باہر نکل جاتے ہیں۔امریکی صدور پر حملوں کی یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جمہوریت کے سب سے بڑے دشمن بیرونی طاقتیں نہیں ہوتیںبلکہ اندرونی نفرت، سیاسی انتہا پسندی اور عدم برداشت ہوتی ہے۔طاقت کے ایوان جتنے بلند ہوں،نفرت کی گولی اتنی ہی دور تک جاتی ہے۔امریکہ آج بھی طاقتور ہے، اس کے ادارے آج بھی مستحکم ہیں، مگر اس کی سیاسی فضا میں بڑھتا ہوا تشدد یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ اگر جمہوریت مکالمے کے بجائے دشمنی میں بدل جائے تو کیا طاقتور ترین ریاست بھی اپنے آپ کو اندر سے بچا سکتی ہے؟شاید نہیں
کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہسلطنتیں باہر سے کم، اندر سے زیادہ ٹوٹتی ہیں۔بات سے بات نکلتی ہے تو بنتی ہے دلیل
گولی سے بات نکلے تو فقط لاش گر تی ہے
ڈونلڈ ٹرمپ آپکا شکریہ کہ آپ نے اس واقعہ کو ایران پر حملے کا جواز نہیں بنایا خدا آپکا حامی و ناصر ہو۔

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *