مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


بھولی قوم اور ڈھونگی لیڈر۔۔۔۔!

بھولی قوم اور ڈھونگی لیڈر۔۔۔۔!

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

سمیر اجمل
ایک مشہور کہاوت ہے ”امیر کی دائی سیکھی سکھائی“جس کا مطلب یہ کہ امیر یا صاحب حثیت آدمی کا ملازم بھی سیکھا سکھایا ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو عقل کل سمجھتاہے جس کی وجہ سے وہ کسی دوسرے سے رائے لینا مناسب نہیں سمجھتا یہی حال آج کل ہمارے سیاستدانوں کا ہے جو جی میں آتا ہے بول دیتے ہیں سوچتے بھی نہیں کہ اس کے مضمرات کیا ہوں گے ابھی ایک سابق صوبائی وزیر کے کہے گئے محاورے کی گونج ختم نہیں ہوئی تھی کہ صوبائی اسمبلی کے ایک اور رکن کا بیان منظر عام پر آگیا ہے جس میں موصوف اپنے تئیں دانش و حکمت کی معراج پر پہنچے ہوئے ہیں اور ایک کیمونٹی (جس کے وہ خود بھی نمائندہ ہیں)بارے فرما رہے ہیں کہ یہ ثابت ہو گیا کہ یہ قوم پڑھی لکھی نہیں جاہل ہے اگر ان کے الفاظ ہو بہو بیان کئے جائے تو کچھ اس طرح سے ہیں کہ ”یہ جاہلانہ حرکتیں ہمیں بہت پیچھے لے کر جارہی ہیں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ مسیحی قوم پڑھی لکھی نہیں بلکہ جاہل قوم ہے“ میں نے ان کا جب یہ بیان سنا تو مجھے قطعا حیرت نہیں ہوئی کیونکہ پنجابی محاورے کے مصداق ”ایہو جیہاں دے گلے چے ایہو جیہے ہوندے نہیں“ اس طرح کے لوگوں سے ایسی باتوں کی ہی توقع کی جا سکتی ہیں مگر اس بات پر تشویش ضرور ہوئی تھی کہ انہوں نے اس قوم کو پڑھا لکھا نہ ہونے کا طعنہ کیوں دیا ہے جنہوں نے ہر شہری کو تعلیم دینے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں قیام پاکستان کے بعد تعلیم و تربیت کا بیڑا جنہو ں نے اٹھا یا وہ مسیحی ہی تھے بڑے شہروں سے لیکر چھوٹے چھوٹے قصبوں حالانکہ دیہات تک انہوں نے تعلیمی اداروں کا ایسا جال بچھا دیا تھا جس سے ہزاروں نہیں لاکھوں افراد فیض یاب ہوئے ہیں ان میں وطن عزیز میں کلیدی عہدوں پر فائز رہنے والے افراد (وزیر اعظم‘ وزیر اعلی‘ وزراء اور اعلی افسران) بھی شامل ہیں پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ قوم جس نے دوسروں کو پڑھانے کا بیڑا اٹھا رکھا ہووہ پڑھی لکھی نہ ہو؟ میرا خود اسی کیمونٹی سے تعلق ہے اور میں نے ڈبل ایم اے ( ایم اے پولٹیکل سائنس‘ ایم اے اردو‘ اقبالیات ) کر رکھا ہے مگر فیلڈ ڈیوٹی کے دوران میں جب مسیحی لوگوں سے ملتا ہو تو تعلیمی لحاظ سے اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے ہر شعبہ میں اعلی تعلیم یافتہ مسیحی ملتے ہیں پی ایچ ڈی‘ ایم فل‘ سکالرز‘ فنی تعلیم میں مہارت حاصل کرنے والے لوگ‘ جنہیں دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ یہ تعلیمی لحاظ سے مجھ سے بہت آگے ہیں پھر سمجھ نہیں آتی کہ انہوں نے کیسے یہ بیان داغ دیا کہ یہ پڑھے لکھے نہیں ہیں بیان دینے سے قبل موصوف اگر جس شہر یا علاقے میں رہتے ہیں وہاں پر ہی جائزہ لے لیتے کہ کتنے لوگ تعلیم یافتہ ہیں تو شاید یہ بیان دینے کی نوبت نہ آتی مگر نظر یہ آرہا ہے کہ ان کا اٹھنا بیٹھنا پڑھے لکھے لوگوں میں کم اوران (جہلاء) میں زیادہ ہیں جن میں بیٹھ کر یہ خود کو راجہ سمجھتے ہیں اس لئے انہوں نے اپنی قوم کے کم تعلیم یافتہ ہونے بارے بیان دے دیا ہے میں جس شہر میں رہتا ہوں یہاں پر دل کے ہسپتال میں پانچ سینئر ڈاکٹرز مسیحی ہیں جبکہ مجموعی طور پر ضلع کے سرکاری ہسپتالوں میں مسیحی ڈاکٹرز کی تعداد 15ہے (نجی ہسپتالوں میں کام کرنے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے)یہاں میونسپل اور تحصیل آفیسرز سمیت سول سروس میں پانچ مسیحی بڑے عہدوں پر فائز ہیں‘ تعلیمی ادارو ں میں اساتذہ (پروفیسرز‘ ٹیچرز) کی تعداد پچاس سے زائد ہے جبکہ ایک سرکاری کالج کے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ بھی مسیحی ہیں۔یہاں پر کچھ عرصہ پہلے سیکنڈری بورڈ میں ٹاپ پوزیشن بھی مسیحی طالبعلم نے ہی حاصل کی تھی جبکہ تعلیمی بورڈ میں اعلی پوزیشنیں حاصل کرنے والو ں میں بھی مسیحی طلباء شامل ہیں میں جس شعبہ سے وابستہ ہوں اس میں بھی مسیحوں کی تعداد قابل رشک ہے اور سب کے سب پڑھے لکھے ہیں ایسے میں یہ کہنا کہ یہ لوگ پڑھے لکھے نہیں حماقت اور جہالت کے سواء کچھ نہیں ہے یہ قوم ان پڑھ یا جاہل نہیں بھولی ضرور ہے ان کے سامنے اگر کوئی ڈھونگی سر میں خاک ڈال لے لیتے تو یہ اس کو اپنا لیڈر مان لیتے ہیں چاہے بعد میں وہ دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک میں ہی جا کر رہائش اختیارکر لے اور لگژری گاڑیوں اور جہازو ں میں گھومے مگر یہ اس کو غریبوں کا ہمدرد اور لیڈر ہی سمجھتے ہیں‘ یہ تو سیاست کے ایوانوں میں دو مذہبی بول کر مخصوص مقاصد حاصل کرنے والوں کو بھی اپنا حقیقی نمائندہ تصور کر لیتے ہیں بعد چاہے وہ یہ کہہ کر ان مجبوریوں کا سودا کر لے کہ انہیں ریاست کی جانب سے کسی امیتازی سلوک کا سامنا نہیں یہ پھر بھی گلہ نہیں کرتے یہ تو اس قدر بھولے ہیں کہ اگر کوئی دو گھونٹ لگا کر اقتدار کے ایوانوں میں للکارا مار دے تو اس کے ماضی کے سب گناہ بھول جاتے ہیں اور منہ بگاڑ کر اداکاری کرنے والے ڈھونگی کو اپنا ترجمان سمجھ لیتے ہیں اور ان کے یہی ترجمان بعد میں ان پر جہالت کے فتوتے صادر کرتے ہیں یہی وہ بھولا پن ہے جس کی وجہ سے اس بھولی قوم کا ستارہ گردش میں اور ڈھونگی نمائندگان کا عروج پر ہے

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author