مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


ماموں ناتن رابرٹ سٹونزآباد کاایک دیو مالائی کردار

ماموں ناتن رابرٹ سٹونزآباد کاایک دیو مالائی کردار

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

عطاالرحمن سمن
ایک آدھ برس قبل میں سٹونزآباد میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ ماموں ناتن تشریف لے آئے۔ مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ ہلکی سی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے شکایت کرنے لگے کہ گاؤں میں آتے ہو تو چکر نہیں لگاتے۔ عرض کیا کہ چند گھنٹوں کے لئے آنا ہوتا ہے تو وہ میں امی اور ابو کے پاس ہی بیٹھا رہتا ہوں اور واپسی سے پہلے چرچ کی زیارت کر کے دوبارہ واپس روانہ ہو جاتا ہوں اِس دوران کسی سے راہ چلتے ملاقات ہو تو میں اسے اپنا نصیب سمجھتا ہوں۔ ماموں ناتن ہفتہ یا دو ہفتہ میں وہ عموماً امّی اور ابو کو ملنے کے لئے ضرور آیا کرتے تھے۔ کافی دیر بیٹھے رہے۔باتوں باتوں میں میری نظر اچانک اُن کے چہرے پر پڑی۔ غور سے دیکھا تو اُن کی آنکھوں کے پاس سے لکیریں نمودار ہو گئیں تھیں۔ چہرے پر عمر کے اثرات نمایاں ہوگئے تھے۔ یہ کوئی انہونی بات تو نہیں تھی مگر میرے دِل میں جیسے اِس سچ کو تسلیم کرنے کا حو صلہ نہیں تھا۔ میں نے ماموں ناتن کو ہمیشہ ایک خوبصورت جوان کی صورت میں دیکھا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ ماموں ناتن اسی طرح رہیں گے۔ میرے لئے وہ ایک ہرکولیس کی مانند تھے۔ ایک دیومالائی کردار۔ ہمیشہ جوان رہنے والا کوئی یونانی دیوتا۔جیسے کوئی دیومالائی کہانی کا ہیرو ہو۔16مئی 2024ء کی صبح ہی فیس بک کے ذریعے ماموں ناتن کی وفات کی خبر مل گئی تھی۔ پھر گھر میں فون کر کے تصدیق کی۔مانو کہ جیسے آسمان گر گیا ہو۔ آدھ گھنٹہ بعد ایک سیشن میں مجھے پاکستان میں انسانی حقوق کی تاریخ اور صورت حال پر گفتگو کرنا تھی تاہم دھیان ماموں ناتن سے ہٹ نہیں رہا تھا۔ ایک ایک کر کے بہت سے باتیں یاد آنے لگیں۔ وہ ہم سے تھوڑے بڑے تھے۔ گھر میں آنا جانا تھا۔ ابو ہارمونیم بجاتے تو وہ طبلہ بجایا کرتے تھے۔ طبلہ پر اُن کا ہاتھ بہت صاف تھا۔ جب وہ طبلہ بجاتے تو میرے چھوٹے بھائی ضیا الرحمن سمن (کا کو) اُن کے پاس بیٹھ جاتے۔ بعد ازاں ضیا نے بہت چھوٹی عمر میں طبلہ بجانے کا آغاز کر دیا۔ اُس کا بھی ہاتھ غیر معمولی تھا۔ کوئی ضیا سے پوچھتا کہ تیرا استاد کون ہے تو جواب دیتا۔ ماموں ناتن۔ ضیا بڑا ہوا تو وہ انہیں استاد جی کہہ کر ہی پکارتے تھے۔میں ذرا بڑا ہوا تو وہ نوجوان تھے۔ اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ پہلی بار کبڈی کا میچ دیکھنے گیا تو ماموں ناتن اور ماموں ڈیبا (ڈیوڈ دانی ایل نہال داس) لنگوٹ کس کر میدان میں تھے۔ دونوں کی پھرتی اور رفتار ایک ایسی تھی۔ کبڈی ڈالنے جاتے اور پھر”جاپھی“کو ہاتھ لگانے کے بعد آنکھ جھپکتے نکل آتے۔ ماموں ناتن جب ہاتھ لگا کر پیچھے ہٹتے تو بھاگنے سے پہلے اونچی آواز میں نعرہ بلند کرتے، ”او گیا ای گھوڑا“ اور پھر کسی گھوڑے کی طرح سر پٹ بھاگتے اپنی منزل پر پہنچ جاتے۔کسی مجال نہیں تھی کہ اِس گھوڑے کی ہوا کو بھی چھو پائے۔ ایسے کئی کبڈی کے میچ دیکھے جن میں وہ اِسی طرح اپنی ٹیم کی کامیابی کا موجب بنتے۔ اُن کی نسبت ماموں بگی (مرحوم پاسٹر وکٹر سائمن) کا کبڈی کھیلنے کا انداز فرق تھا۔ وہ مخالف کھلاڑی کو بائیں ہاتھ کی چپیڑمارتے تھے۔ ہاتھ وزنی تھا۔ ہم نے اُن کا ہاتھ پڑنے کے بعد مخا لف کھلاڑیوں کو زمین پر گرتے اور بعض کو بے ہوش ہوتے دیکھا تھا۔ اُن دنوں کبڈی کے کھیل میں مخالف کھلاڑی کو چپیڑ مارنا کھیل کے جملہ اسلوب کا حصہ ہوا کرتا تھا اور چپیڑ مارنے والے کھلاڑی کو زیادہ اچھا کھلاڑی مانا جاتا تھا تا ہم ماموں ناتن کی کبڈی اُن کے مزاج کی مانند بہت صاف ستھری اور تشدد سے پاک تھی۔چوہدری شمعون اور چوہدری نسیم کے ساتھ ماموں ناتن کی بہت سنگت تھی۔ چوہدری شمعون جب رکن پنجاب اسمبلی بنے تو ماموں ناتن عام لوگوں کے مسائل کے حل کرنے میں پیش پیش رہے۔ خوش مذاق، خوش گفتار اور خوش مزاج ماموں ناتن شستہ مذاق کرتے ہوئے بعض اوقات خود کو بھی نشانہ بنالیتے تھے۔ایک دفعہ میں اور ماموں چھیما (چوہدری نسیم حزقی ایل) اور ماموں ناتن بیٹھے تھے۔ بتانے لگے کہ میٹرک کے امتحانات میں اُن کا ڈیل ڈول عام لڑکوں کی نسبت کھلا ڈھلا تھا۔ میاں چنوں میں ایم سی ہائی اسکول میں سنٹر تھا۔ مَیں سکول کے گیٹ سے داخل ہوا تو ایک بچے کے ساتھ آئے ہوئے باپ مجھے نگران سمجھ کر کہنے لگا ”اے بچے دا ذرا خیال رکھنا“ تو میں نے اُسے جواب دیا
”تے میرا خیال کون رکھے گا؟“ماموں ناتن نہایت شریف النفس اور صلح جو انسان تھے۔ ہم نے کبھی انہیں مشتعل اور تشدد پر مائل نہیں دیکھا۔ ہاں ایک بار سکول کے لڑکوں کے تحفظ کے لئے سامنے آ کر حملہ آور لڑکوں کی درگت بنانے کا منظر آج بھی میری آنکھوں میں محفوظ ہے۔ ہم سکول میں تھے۔ شائد آٹھویں جماعت ہو گی۔ ماموں ناتن ہائی سیکشن میں تھے۔ لڑکوں میں سکول کے بعد لڑائی کی خبر گردش کر رہی تھی۔ سکول سے باہر نکلے تو کچھ نوجوان جو سکول سے نہیں تھے سکول کے لڑکوں کے ساتھ ہاتھا پائی کر رہے تھے۔ مجھ سمیت سب لڑکے دائرے میں کھڑے لڑائی دیکھ رہے تھے مگر کوئی بیچ میں جا کر لڑائی روکنے کا حوصلہ نہیں کر رہا تھا۔ سکول کے لڑکوں پر حملہ آور لڑکے بھاری تھے۔ ایسے میں ماموں ناتن بھی سکول سے نکلے تو سیدھے لڑائی میں گھُس گئے۔ انہوں نے حملہ آور لڑکوں میں سے ایک کے ہاتھ سے ڈنڈا چھین لیا۔ اور پھر یہ ڈنڈا انہوں نے باری باری سب حملہ آور لڑکوں پر اِس سلیقے سے برسایا کہ دیکھتے دیکھتے وہ گراونڈ سے بھاگ گئے۔ پُر تشدد ہونا اُن کے مزاج کا حصہ نہیں تھا تا ہم اپنے سکول کی غیرت کے جذبے نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کر دیا تھا جیسے ہیکل کے احاطہ سے کاروبار کرنے والوں کو اٹھانے کے لئے یسوع مسیح نے کوڑا کھینچ لیا تھا۔
پاپا ولسن کے انتقال کر جانے کے بعد سے انہوں نے ڈاک کا انتظام سنبھالا ہوا تھا۔ اِس خدمت میں مشاہرہ نا ہونے کے برابر تھا۔ لیکن پا پا جی سی ملی ہوئی خدمت کی ذمہ داری سے پہلو تہی کرنا اُن سے ممکن نہیں ہوا۔ محدود آمدن تھی مگر دسترخوان بادشاہوں کی طرح تھا۔ جہاں ہر کھانے پر خوشی سے مہمانوں کی تواضع کی جاتی تھی۔ اُن کی خدمت اور نیک نامی کے پیچھے خوش مزاج اور خدمت گزار مامی ایوا فلورنس کا سب سے بڑا ہاتھ تھا۔ ماموں ناتن کی ساری خدمت، عوام میں پذیرائی کے لئے انہوں نے ہی گنجائش مہیا کی تھی۔
جنازہ پر شرکت ممکن نہیں تھی تاہم اگلے روز میموریل سروس میں شریک ہونے گاؤں پہنچ گیا۔ اتفاق ہے کہ میں ماموں بگی (پاسٹر وکٹر سائمن) کے جنازے کے روز بھی بہت دور تھا اور میموریل سروس پر شرکت کرنے پہنچا تھا۔ یہاں پنڈال میں پچھلے روز جنازے کی باتیں کی جارہی تھیں۔ بتایا گیا کہ ماموں ناتن کے جنازہ پر سٹونزآباد کے علاوہ دور و نزدیک سے لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔ دو ہفتہ بعد دوبارہ گاؤں جانا ہوا تو مَیں اور میری چھوٹی بہن نبیلہ (گوگے) ماموں ناتن کے گھر گئے۔ ماموں خان (نیلسن ولسن) بھی موجود تھے۔ وہ بہت دلگیر تھے۔ کہنے لگے مجھے لگتا ہے کہ میرا باپ آج فوت ہو ا ہے۔ ایک لمحہ کو ایسا لگتا ہے کہ 16مئی2024ء کو جب انہوں نے اِس دنیا سے جانے کا بلوا آیا تو کبڈی ڈالنے کے انداز میں انہوں نے کسی کو ہلنے تک کی مہلت نہ دیتے ہوئے للکار کر کہا ہو گا ”او گیا ای گھوڑا“۔

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author