مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


شانتی نگر ۔۔۔ویران زمین سے آبادی کاری تک ( قسط نمبر 1)

شانتی نگر ۔۔۔ویران زمین سے آبادی کاری تک ( قسط نمبر 1)

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

تحریر و تحقیق :عدیل سیموئیل گل

آج جب ہم شانتی نگر کی کشادہ گلیوں، سرسبز کھیتوں، گھروں، گرجا گھروں اور آباد زندگی کو دیکھتے ہیں تو شاید یہ تصور کرنا مشکل ہو کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب یہاں زندگی کا کوئی نشان نہیں تھا۔جہاں آج شانتی نگر آباد ہے، وہاں ایک صدی سے بھی کچھ زیادہ عرصہ پہلے دور دور تک بھل کی ریتلی مٹی کے ٹیلے پھیلے ہوئے تھے۔ زمین پر جھاڑیوں اور “ونڑ” کا جنگل تھا، جو گرمیوں کی تپتی دھوپ اور صحرائی ہواؤں کے ساتھ اس علاقے کو ایک ویران منظر پیش کرتا تھا۔ نہ کوئی باقاعدہ آبادی تھی، نہ کھیت تھے، نہ گلیاں تھیں اور نہ ہی وہ رونق جو آج اس علاقے کی پہچان ہے۔البتہ اس ویرانے کے اردگرد زندگی کے چند چھوٹے چھوٹے آثار ضرور موجود تھے۔ آریا نگر اور ڈوگرا برادری کی چند بستیاں آس پاس آباد تھیں، جبکہ سکھ اور ہندو خاندان بھی مختلف مقامات پر رہتے تھے۔ لیکن وہ وسیع علاقہ جہاں بعد میں شانتی نگر وجود میں آیا، ابھی تک ایک غیر آباد سرزمین تھا جو اپنے مستقبل سے بے خبر خاموش کھڑا تھا۔پھر برطانوی حکومت نے پنجاب کی تاریخ کے بڑے آبپاشی منصوبوں میں سے ایک، لوئر باری دوآب کینال کے منصوبے کا آغاز کیا۔ اس منصوبے کا مقصد جنوبی پنجاب کی بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانا تھا۔ جب یہ خبر پھیلی کہ نہری پانی جلد اس علاقے تک پہنچنے والا ہے، تو بہت سے لوگوں نے اس زمین کے مستقبل کو ایک نئی نظر سے دیکھنا شروع کیا۔
انہی دنوں سالویشن آرمی کی قیادت بھی ایک بڑے خواب پر کام کر رہی تھی۔
فریڈرک بوتھ ٹکر اور ان کے ساتھی برصغیر میں ایسے مسیحی خاندانوں کے حالات سے بخوبی واقف تھے جو نئے مسیحی ہونے کے باوجود ذات پات، سماجی تفریق اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ ان میں سے اکثر خاندان نچلے سماجی طبقات سے تعلق رکھتے تھے۔ اگرچہ انہوں نے مسیحیت قبول کر لی تھی، لیکن معاشرے کے رویے میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی تھی۔سیلویشن آرمی ایک ایسی بستی قائم کرنا چاہتی تھی جہاں انسان کی پہچان اس کی ذات یا برادری نہیں بلکہ اس کی محنت، کردار اور ایمان ہو۔اسی سوچ کے تحت سالویشن آرمی نے لوئر باری دوآب منصوبے کی تکمیل سے پہلے ہی برطانوی حکومت سے 1908ء اس علاقے میں تقریباً 110 مربعے زمین نئی آبادکاری کے لیے خرید لی۔ اس وقت شاید بہت کم لوگوں کو اندازہ تھا کہ یہ فیصلہ آنے والی نسلوں کی تقدیر بدلنے والا ہے۔
زمین خریدنے کے بعد ماہرینِ آبادکاری، انجینئروں اور منتظمین نے اس علاقے کا جائزہ لینا شروع کیا۔ جنگلی جھاڑیوں اور “ونڑ” کے گھنے حصوں کو صاف کیا گیا، زمین کی پیمائش کی گئی، نقشے تیار کیے گئے اور ایک ایسی بستی کا خاکہ بنایا گیا جو اپنے وقت کے دیہی پنجاب میں منفرد حیثیت رکھتی تھی۔دوسری جانب سیلویشن آرمی برصغیر کے مختلف علاقوں میں اپنی کلیسیائی اور سماجی خدمات کے ذریعے لوگوں کو ایس نئی بستیوں کے بارے میں آگاہ کر رہی تھی۔ پنجاب ، ہریانہ ، اتر پردیش ، راجستھان اور برصغیر کے دیگر علاقوں میں موجود نئے مسیحی خاندانوں کو ایک ایسی جگہ آباد ہونے کی دعوت دی جا رہی تھی جہاں وہ ایک نئی زندگی کا آغاز کر سکیں۔یہ صرف ہجرت کی دعوت نہیں تھی۔یہ ایک نئے معاشرے کا آغاز تھا
ایک ایسی برادری کی دعوت جہاں ذات پات کی دیواریں پیچھے رہ جائیں، جہاں محنت کو عزت ملے، اور جہاں لوگ اپنی شناخت کے ساتھ باوقار زندگی گزار سکیں۔پھر 1912ء میں نہری پانی نے اس خطے کا رخ کیا۔خشک زمین نے پہلی بار نمی محسوس کی۔ویران مٹی نے پہلی بار فصل کا خواب دیکھا۔اور ایک ایسی کہانی شروع ہوئی جو چند سال بعد 1916 میں “شانتی نگر” کے نام سے دنیا کے نقشے پر ظاہر ہونے والی تھی۔لیکن شانتی نگر ابھی وجود میں نہیں آیا تھا۔ابھی لوگوں کو آنا تھا۔ابھی گھر بننے تھے۔ابھی پانی کی جدوجہد ہونی تھی۔ابھی ایک خواب کو حقیقت بننا تھا۔ا س بارے میں اگلی اقساط میں مرحلہ وار بیان کیا جاِئے گا

Author

1 comment
Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

1 Comment

  • Hephzibah phenhas
    June 23, 2026, 10:28 am

    Congratulations on your first published article 👏👏👏
    I am sure it's just the beginning of many more successes to come ❤️

    REPLY

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author