مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


وارثت سے محروم رکھنے کے لیےخواجہ سراؤں کو زندگی سے محروم کیا جانے لگا

وارثت سے محروم رکھنے کے لیےخواجہ سراؤں کو زندگی سے محروم کیا جانے لگا

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

تحریر و تحقیق: کنزہ کنول
بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے ڈیرہ نواب میں 12 فروری 2026 کو ایک خواجہ سرا کو اس کے والد اور بھائیوں نے قتل کر دیا۔ پولیس ریکارڈ اور ایف آئی آر کے متن کے مطابق، مقتول کو پہلے ایک درخت کے ساتھ باندھا گیا اور پھر لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے اس وقت تک پیٹا گیا جب تک کہ اس کی موت واقع نہیں ہو گئی۔ تشدد کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا واقعے کے بعد مقتول کی لاش چند گھنٹوں تک وہیں درخت سے بندھی رہی اور جسے دیکھ کر ایک پڑوسی نے پولیس ہیلپ لائن 15 پر کال کر کے واقعے کی اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کا آغاز کیا پولیس تفتیش اور ایف آئی آر کے ریکارڈ کے مطابق، ملزمان نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول کو خواجہ سراؤں کے گھر آنے جانے سے روکا تو وہ نہیں رکا پھر آہستہ آہستہ وہ ان جیسا بننے لگا خواجہ سراؤں جیسے رہنا سہنا بات چیت کرنا اور کپڑے پہننا شروع کر دیے جس کے نتیجے میں ہمیں لوگوں کے طعنے اور مختلف باتیں سننا پڑتی تھیں ہمارے لاکھ سمجھانے پر بھی اس نے اپنا ارادہ نا بدلہ ہمیں باہر جا کر محلے میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا تھا مقتول کا خواجہ سرا ہونا برادری میں ان کے لیے شرمندگی کا باعث تھا اور لوگوں کے طعنوں سے تنگ آ کر انہوں نے یہ قدم اٹھایاسرکاری دستاویزات اور خاندانی کوائف کے مطابق، مقتول کا خاندانی نام بلال تھا، جبکہ وہ برادری اور اپنی برادری میں بلو رانی کے نام سے جانا جاتا تھا مقتول کی عمر 20 سال تھی اور وہ پرائمری پاس تھا مقتول کے کزن (ماموں کے بیٹے) کے مطابق، وہ گزشتہ 6 سے 7 سال سے اپنی شناخت کے ساتھ الگ رہ رہا تھا اور اس کی کوئی پیچیدہ میڈیکل ہسٹری نہیں تھی

تصویر کا دوسرا رخ
مقامی سماجی و سیاسی کارکن طارق لودھی کے مطابق، اس معاملے کو محض “غیرت” کا نام دینا درست نہیں، بلکہ اس کے پیچھے جائیداد کا تنازع اور سماجی دباؤ جیسے تلخ حقائق چھپے ہوئے ہیں مقتول کی گلی میں چند گھر دور رہنے والے ایک پڑوسی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ مقتول کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے اپنے خاندان سے جائیداد میں اپنا قانونی حصہ مانگا تھا مقتول کے کزن نے بھی تصدیق کی کہ یہ مطالبہ گھر میں روز روز کے لڑائی جھگڑے کا باعث بنا ہوا تھا خاندان والے مسلسل دباؤ ڈال رہے تھے کہ اس کا خواجہ سرا بن کر رہنا برادری میں ان کے لیے شرمندگی کا باعث ہے، اسی لیے اسے اپنی کمیونٹی سے ملنے جلنے سے بھی روکا جاتا تھا

خواجہ سرا برادری کا مؤقف
واقعے کے بعد بہاولپور کی خواجہ سرا برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے مقتول کے گرو لیلیٰ نے ہم سے بات کرتے ہوئے کہا: “اسے جائیداد سے محروم کرنے کے لیے پہلے بھی کئی بار دھمکیاں دی گئی اور کہا گیا کہ اگر خواجہ سرا بننا ہے تو کوئی حصہ نہیں ملے گا ہمارا بچہ صرف اپنا حق مانگ رہا تھا، جسے غیرت کا بہانہ بنا کر قتل کر دیا گیا۔” خواجہ سرا برادری کی مقامی سماجی رہنما فرحان عرف فری نے اس واقعے پر آواز اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو کڑی سزا دی جائے تاکہ دیہی علاقوں میں مقیم خواجہ سراؤں کو تحفظ مل سکے

اعداد و شمار اور پس منظر
‘ٹرانس مرڈر مانیٹرنگ’ (TMM) 2025 کی عالمی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان میں خواجہ سراؤں کے قتل کی شرح ایشیا بھر میں سب سے زیادہ ہے اور یہاں خواجہ سرا برادری شدید جانی خطرات کی زد میں ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان (PBS) کی 2023 کی مردم شماری (صفحہ 2 اور 4) کے مطابق پنجاب میں خواجہ سراؤں کی ایک بڑی آبادی موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس بڑی آبادی کے باوجود انہیں خاندان کی طرف سے وراثتی حقوق فراہم نہیں کیے جاتے۔

قانونی اور سماجی پہلو:
‘ٹرانس جینڈر پرسنز (تحفظِ حقوق) ایکٹ 2018’ واضح طور پر خواجہ سراؤں کو وراثت کا حق دیتا ہے، لیکن ڈیرہ نواب جیسے دیہی علاقوں میں قبائلی سوچ اس قانون پر بھاری ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کی سالانہ رپورٹ 2024-25 کے مطابق، جنوبی پنجاب میں “غیرت” کو اکثر مالی مفادات اور جائیداد پر قبضے کے لیے ایک ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جس کی تصدیق مقامی سماجی رہنما اور قانونی ماہرین بھی کرتے ہیں

قانونی و مذہبی ماہرین کی رائے
اس کیس کے قانونی ماہر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ شفیع لنگاہ، جو کہ اس کیس کے وکیل رہ چکے ہیں، کا کہنا ہے: “ہم نے پرزور کوشش کی کہ اس خواجہ سرا کے قاتلوں کو سزا ہو سکے مگر ہمیشہ کی طرح ایسے کیسز میں خاندان ہی قاتل ہوتا ہے، اس لیے پولیس پر دباؤ ڈال کر کیس کو خراب کر دیا جاتا ہے۔”احمد پور شرقیہ کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب اور مقامی مدرسے کے مدرس، مفتی ممتاز کے مطابق، دینِ اسلام میں وراثت کے حقوق بالکل واضح ہیں اور کسی کی جنس کی بنیاد پر اسے محروم کرنا سراسر ظلم ہے جب ان سے اسلام میں خواجہ سرا کے قتل کی سزا کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے شرعی اصول واضح کرتے ہوئے بتایا: “اسلام میں ایک خواجہ سرا بھی انسان ہے اور اس کا قتل بھی کسی دوسرے انسان کے قتل کی طرح ‘قتلِ ناحق’ کے زمرے میں آتا ہے قرآن و سنت کی رو سے اس کی سزا قصاص (موت) یا سخت ترین تعزیر ہے اولاد کو اس کی شناخت کی وجہ سے قتل کرنا یا جائیداد سے نکالنا غیر اسلامی فعل ہے، لیکن معاشرہ ‘لوگ کیا کہیں گے’ کے خوف میں مبتلا ہو کر انسانی جان کی حرمت بھول چکا ہے۔”ڈیرہ نواب کا یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جب تک خواجہ سراؤں کو قانونی و وراثتی حقوق فراہم نہیں کیے جائیں گے، ایسے واقعات کا سدِباب ممکن نہیں۔ سماجی و قانونی ماہرین کے مطابق، حکومت کو چاہیے کہ نادرا اور پولیس کے ذریعے ایسے کمزور طبقات کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے تاکہ جائیداد کے تنازعات کی بھینٹ مزید جانیں نہ چڑ ھ سکیں

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author