Author Editor Hum Daise View all posts
تحریر و تحقیق : اعجاز بھٹی
پاکستان کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد کے قدیم ترین مسیحی علاقے وارث پورہ کی کہانی نام سے شروع ہو کر محرومی پر ختم ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کہ اس کے موجودہ بحران کو سمجھا جائے، یہ جاننا ضروری ہے کہ مسیحوں کی اس بڑی آبادی کا نام “وارث پورہ” نام کیسے رکھا گیا تھا
وارث پورہ کا تاریخی پسِ منظر
فیصل آباد کے اس قدیم مسیحی محلے کا نام “خان وارث مسیح خان” سے منسوب ہے۔ وارث مسیح خان کے دادا پٹھان خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور بعد میں مسیحیت قبول کی۔ ان کے داماد البرٹ ہرکت آج بھی ان کے ذاتی گھر میں مقیم ہیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ وارث مسیح خان پیشے کے لحاظ سے معمار اور پنجابی زبان کے شاعر تھے۔ ان کا کلامی دیوان آج بھی ان کی بیٹی کے پاس محفوظ ہے۔ ان کا ایک بیٹا امریکہ میں ڈاکٹر ہے اور بیٹی ریٹائرڈ سٹاف نرس اسی گھر میں رہتی ہے۔

وارث مسیح خان نے اس جگہ پر پہلا مسیحی گھر، پھر اپنا گھر اور تیسرا گھر تعمیر کیا۔ کیتھولک اور پریسبیٹیرین چرچ بھی انہوں نے اپنے ہاتھوں سے بنائے۔ ایک دن دوستوں کے ساتھ سایہ دار درخت تلے بیٹھے انہوں نے کہا: “ہم پہلے کرائے کے گھروں میں رہتے تھے، آج اپنے گھروں کے وارث ہیں۔ اس لیے اس بستی کا نام وارث پورہ رکھا جائے”۔ سب نے تائید کی، نام دیوار پر لکھ دیا گیا اور فادر پنٹو نے برکت دے کر اسے لائل پور کی تاریخ کا حصہ بنا دیا۔وارث مسیح خان 2000ء میں وفات پا گئے۔ آج وارث پورہ میں 4 سے زائد یونین کونسلیں ہیں، ہر ایک میں 20 ہزار سے زائد افراد آباد ہیں۔ 70 فیصد سے زائد مسیحی اور 30 فیصد مسلم بہن بھائی یہاں محبت سے رہتے ہیں۔ 1947 کی تقسیم کے بعد مشرقی پنجاب سے آ کر بسنے والے مسیحی خاندانوں نے یہاں مذہبی و سماجی ادارے قائم کیے، جس سے آبادی بڑھتی گئی۔
ترقی کے نام پر محرومی
فیصل آباد کے اس قدیم ترین اقلیتی محلے کی آج حالت یہ ہے کہ رہائشی اسے “لاوارث پورہ” کہنے لگے ہیں۔ ضمنی الیکشن 2025 میں سڑکوں کی تعمیر شروع ہوئی، مگر ادھوری چھوڑ دی گئی۔ گلیوں میں گٹر ابل رہے ہیں، بازاروں میں گندگی اور کھڑا پانی معمول بن چکا ہے۔ وارث پورہ کے ساتھ کھلا گندا نالہ گزرتا ہے جو مہلک بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ رہائشیوں کا شکوہ ہے کہ شکایت پر متعلقہ عملہ عارضی مرمت کر کے چلا جاتا ہے

مقامی رہنما کیا کہتے ہیں؟
جیزز پلس منسٹری کے ڈائریکٹر منیر آکاش نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ترقیاتی کام نہیں ہوتے کیونکہ ہم اقلیت ہیں۔ ہماری بستیاں زیادہ تر نالوں اور کچرے کے ڈھیروں کے قریب ہیں۔ انتظامیہ توجہ نہیں دیتی”۔ انہوں نے حکمرانوں سے اپیل کی کہ ہمیں صاف ماحول دیا جائے تاکہ ہمارے بچے کھلی سانس لے سکیں۔ انہوں نے سیاسی قیادت پر بھی سوال اٹھایا کہ ووٹ لے کر لیڈر ہمیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔

ہیل فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شہباز ایزی ایل گل کے مطابق، ناقص نکاسی کی وجہ پرانا سیوریج سسٹم، منصوبہ بندی کی کمی اور اداروں کی غفلت ہے۔ آبادی بڑھی، مگر نظام جدید تقاضوں پر اپ گریڈ نہ ہو سکا۔ انہوں نے واسا، مقامی حکومت اور کمیونٹی کے اشتراک سے جامع منصوبے کی ضرورت پر زور دیا

آرگنائزیشن اے آئی ایم سینٹر فیصل آباد کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میڈم شاہین انتھونی نے کہا کہ ٹوٹی سڑکیں، کچرے کے ڈھیر اور کھلے گٹر صحت کے لیے خطرہ ہیں۔ راستہ این جی اوز نیٹ ورک کے ذریعے ایم پی اے میاں طاہر جمیل سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے جلد کام کا یقین دلایا

سابق کونسلر ڈاکٹر دلنواز تیجا کا کہنا ہے کہ بجٹ کی کمی کے ساتھ عدم اتحاد بھی بڑی وجہ ہے۔ “ہم ایک گلی میں رہ کر 20 چوہدری بنے بیٹھے ہیں۔ الیکشن میں الگ الگ پارٹیوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ جیتنے والی پارٹی کہتی ہے ہمیں ووٹ نہیں ملے۔ متحد ہو کر ایک پلیٹ فارم سے فیصلہ کریں تو کام ممکن ہے

وارث پورا کے رہائشیوں کاکہناہے کہ وہ لوگ یہاں کی ناقص صفائی سے اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ بارش کے وقت یہاں سے ان کا گزرنا محال ہوتا ہے،بچوں کو اسکول جاتے ہوئے بہت سی پریشانیوں سے گذرتے ہیں،بیماروں اور میتوں کو لے جانے کےلیے دقت اٹھانا پڑتی ہے،کرسمس اور دوسرے تہواروں میں جب سے نئے اورستھرے کپڑے پہن کر نکلتے اور گھروں کو سجاتے ہیں تو تب بھی گلیاں ایسی ہی گندی پڑی رہتی ہیں اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت صفائی کرتے ہیں
واسا کا مؤقف اور امید کی کرن

“ہم دیس” سے بات کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر واسا و صدر سی بی اے میاں مقصود احمد نے بتایا کہ وارث پورہ کی لائنیں پرانی اور چھوٹی تھیں۔ 11 ارب روپے کے ماسٹر پلان کے تحت مین لائنیں بڑی کر کے مین نالے سے جوڑی جائیں گی۔ جون کے بعد کام شروع ہو چکا ہے اور سردیوں سے پہلے 3 سے 4 ماہ (ستمبر سے اکتوبر)میں مسئلہ حل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وارث پورہ سے گزرنے والا گندا نالہ اور ابنِ مریم کا علاقہ ترجیحی بنیاد پر کور کیا جائے گا۔ صاف پانی کے لیے مچھلی فارم سے ستیانہ روڈ تک لائنیں بچھ چکی ہیں جو واپڈا ٹاؤن، پاور چوک، بابر چوک اور وارث پورہ کو ملیں گی۔ وارث پورہ کے دو ٹینک کنیکٹ ہو چکے ہیں۔ 3 سے 4 ماہ (ستمبر سے اکتوبر )میں مین لائن سے پانی آتے ہی میٹھا پانی فراہم ہو گا۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومتِ پاکستان اور واسا کے تعاون سے نکاسی کا نظام جدید خطوط پر اپ گریڈ ہو رہا ہے۔ وارث پورہ کے مکین اب منتظر ہیں کہ “وارث” کے نام والا یہ علاقہ پھر سے “وارثوں” والا بنے گا، نہ کہ “لاوارثوں” والا۔جب وارث پورہ کے سیاسی و سماجی کارکنان سے واسا کے تازہ وعدوں حوالے سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے موجودہ حکومت کی جانب سے فیصل آباد شروع کئے گئے ترقیاتی کاموں کو دیکھتے ہوئے واسا کے وعدے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کچھ کارکنان نے متعلقہ افسران کو گاہے بگاہے یاد دہانی کروانے کا بھی وعدہ کیا تاکہیہ منصوبے بر وقت پایہ تکمیل تک پہنچ سکیں۔

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *