Author Editor Hum Daise View all posts
خالد شہزادپاکستان میں اقلیتی برادریوں کے خلاف بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات، جیسے کہ بلوچستان میں دو مسیحی نوجوانوں اور سندھ میں ڈاکٹر آکاش کا سفاکانہ قتل، اور اس کے بعد حکومتی اداروں یا وزراء کی جانب سے روایتی بیانات یا خاموشی—یہ سب ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ جب ریاست کی جانب سے بنائے گئے ادارے، ہیلپ لائنز اور متعلقہ وزارتی محکمے عملی اقدامات کے بجائے صرف “سب اچھا ہے” کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں، تو شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھنا ایک قدرتی اور منطقی امر ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں خصوصاً کم عمر بچیوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک انتہائی دردناک، تلخ اور سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ بطور سماجی رہنما اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ جب تک قوانین کو کاغذ کی حد سے نکال کر عملی طور پر نافذ نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک یہ المیہ ختم نہیں ہو سکتا۔اس منظم ریاستی و انتظامی غفلت کا مقابلہ کرنے اور بچیوں کو فوری تحفظ و انصاف کی فراہمی کے لیے سول سوسائٹی، قانونی ماہرین اور سماجی رہنماؤں کے مشترکہ لائحہ عمل کو مندرجہ ذیل عملی اقدامات پر مبنی ہونا چاہیے:
۱. قانونی و عدالتی محاذ پر ہنگامی اقدامات
وکلاء کا خصوصی لیگل ایڈ پینل (Legal Aid Panel):
اقلیتی خاندانوں کے پاس اکثر اوقات طویل اور مہنگے قانونی معرکوں کا خرچ اٹھانے کی استطاعت نہیں ہوتی۔ قانونی ماہرین کو ایک ایسا مفت نیٹ ورک بنانا ہوگا جو حادثے کے فوری بعد (Golden Hours) پولیس اسٹیشن سے لے کر عدالت عالیہ (High Court) تک مفت اور مضبوط قانونی معاونت فراہم کرے۔
عمر کے تعین کا لازمی سائنسی طریقہ کار (Medical Board):
عدالتوں میں جعلی حلف ناموں یا جھوٹے برتھ سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر عمر 18 سال سے زائد دکھانے کے رجحان کو روکنے کے لیے قانونی جنگ لڑی جائے۔ یہ شرط لازمی قرار دی جائے کہ ہر ایسے کیس میں جہاں عمر کا تنازع ہو، ریڈیولوجیکل/ڈی این اے ٹیسٹ (Medical Board) کا حکم فوراً دیا جائے اور لڑکی کو تب تک ریاستی تحفظ (Dar-ul-Aman) میں رکھا جائے، نہ کہ ملزم کے پاس۔
سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں سؤو موٹو (Suo Motu) پٹیشنز:
سول سوسائٹی اور بار کونسلز کے ذریعے دونوں صوبوں کی ہائی کورٹس میں اجتماعی آئینی درخواستیں دائر کی جائیں کہ وہ سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کی خلاف ورزی اور پنجاب میں پولیس کی غفلت پر نوٹس لیں اور انتظامی و پولیس اصلاحات کے لیے دباؤ
بڑھائیں اور پولیس کے نظام میں اقلیتی بچیوں کے اغوا کے کیسز کے لیے علیحدہ اور بااختیار Minority Protection Cell کا قیام عمل میں لائے جانے کی ضرورت پر آگاہی پروگرام ترتیب دیں، اور حادثہ کے وقت گھر یا تھانہ میں خواتین افسران کی موجودگی یقینی ہو تاکہ مظلوم خاندان بلا خوف و خطر رابطہ کر سکیں۔ایف آئی آر (FIR) کی عدم درج کی صورت میں نااہلی:
اگر کوئی تھانہ ایسے سنگین معاملے پر ایف آئی آر درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لے یا تاخیر کرے، تو سول سوسائٹی اس متعلقہ ایس ایچ او (SHO) کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 155-A کے تحت قانونی کارروائی کروائے۔ قانون سازی کا مطالبہ (Pujab & Federal Level)وفاق اور بالخصوص پنجاب کی سطح پر “جبری تبدیلیِ مذہب کے خلاف بل” (Anti-Forced Conversion Bill) کی منظوری کے لیے تحریک کو تیز کیا جائے۔ اس بل میں یہ شق شامل ہونا ضروری ہے کہ کم عمری میں کی گئی کسی بھی مذہبی تبدیلی یا شادی کی کوئی قانونی و اخلاقی حیثیت نہیں ہوگی۔عوامی آگاہی اور بین الاقوامی دباؤاور (مئی اور جون 2026 کا ہولناک ڈیٹا) کو دستاویزات کی شکل دے کر قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں (UN, Amnesty International, HRCP) کے سامنے پیش کیا جائے، تاکہ حکومت پر معاشی اور سفارتی سطح پر دباؤ بڑھے۔
کالم نگاروں، اینکرز اور ڈیجیٹل کریئیٹرز کے ذریعے ان بچیوں کی کہانیاں اور کیسز کا فالو اپ باقاعدگی سے سامنے لایا جائے تاکہ یہ معاملہ صرف ایک خبر بن کر نہ دب جائے۔ اگرچہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ اقلیتوں کے ساتھ ہے، لیکن مقامی سطح پر پولیس اور عدالتیں اکثر ان کی داد رسی کرنے میں سست روی کا شکار رہتی ۔دنیا بھر میں جہاں بھی اقلیتوں پر مظالم ہوتے ہیں، وہاں درج ذیل تین مشترکہ عوامل نظر آتے ہیں، انصاف کا عدم وجود (Impunity)، جب مجرموں کو معلوم ہو کہ اقلیت سے تعلق رکھنے والے شخص کو قتل کرنے یا نقصان پہنچانے پر سزا نہیں ہوگی، تو ان کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں۔ سیاسی مصلحت، وزراء اور سیاسی قیادت اکثر انتہا پسند یا بااثر گروہوں کی ناراضگی کے ڈر سے خاموشی اختیار کرتی ہے یا صرف زبانی جمع خرچ (Lip Service) پر اکتفا کرتی ہے اور قوانین کا غلط استعمال و بلیک میلنگ یا ذاتی دشمنیوں کی بناء پر توہینِ مذہب یا دیگر سخت قوانین کو اقلیتوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اقلیتوں کو اسی قسم کے مظالم کا سامنا ہے، لیکن کسی دوسرے ملک کی خرابی پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم اور انتظامی غفلت کا جواز نہیں بن سکتی۔ جب تک ریاستی ادارے “سب اچھا ہے” کی گردان چھوڑ کر مجرموں کو بلا تفریق آئین و قانون کے تحت سزا نہیں دیں گے، تب تک ملک میں عدم تحفظ کا یہ احساس اور سماجی و سیاسی تنزلی ختم نہیں ہو سکتی۔

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *