مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


انمول سرمایہ ‘عزت’

انمول سرمایہ ‘عزت’

        Author Editor Hum Daise View all posts

 

 

تحریر: شوکت جاوید
میں گزشتہ سات برس سے ریڈیو کے مائیک کے ذریعے عوام کی خدمت میں مصروف ہوں۔ ریڈیو کی دنیا نے مجھے بہت سے لوگوں سے ملنے، ان کی بات سننے اور زندگی کے مختلف رنگوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع دیا ہے۔ اس دوران ایک بات بارہا محسوس ہوئی کہ انسان کے پاس دولت ہو یا نہ ہو، عہدہ ہو یا نہ ہو، لیکن عزتِ نفس ایسی دولت ہے جس کی حفاظت ہر انسان چاہتا ہے۔
ہر ادارے کی اپنی ایک پالیسی اور ضابطۂ اخلاق ہوتا ہے۔ عموماً ادارے میں خواتین افسران کو ‘میڈم ‘یا ‘مس’ اور مرد افسران کو ’سر’ کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔ لیکن ایک دن نجانے کیسے گفتگو کے دوران میری زبان سے اپنی ایک سینئر آفیسر کے لیے’باجو’ کا لفظ نکل گیا۔ میں عام طور پر بڑی عمر کی خواتین کو احترام اور اپنائیت سے’باجو’ کہہ دیتا ہوں
انہوں نے فوراً پوچھا
’کیا کہا آپ نے؟
میں سمجھ گیا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔ میں تو ریڈیو کے مائیک پر بھی اکثر یہ بات کہتا رہتا ہوں کہ انسان کو اپنے دل سے غلط فہمیاں نکال دینی چاہئیں اور اپنی غلطی تسلیم کرنے میں کبھی جھجک محسوس نہیں کرنی چاہیے
میں نے فوراً کہا
’سوری میم!‘
وہ مسکرائیں اور بولیں نہیں، نہیں بھائی! مجھے اس ادارے میں کام کرتے ہوئے پندرہ سال ہو گئے ہیں، لیکن آج تک کسی نے مجھے باجو نہیں کہا آج سے تم میرے بھائی اور میں تمہاری بہن
ان کے یہ الفاظ سن کر دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ چلو، ادارے میں ایک سینئر آفیسر کی صورت میں ایک بہن تو مل گئی تقریباً دو ماہ بعد ایک دن وہ اپنے دفتر میں خاصی پریشان بیٹھی تھیں۔ میں ڈیوٹی پر آیا تو خیریت دریافت کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ، جنہیں وہ بہت یاد کرتی تھیں، کی بڑی خواہش تھی کہ ان کے پاس اپنی گاڑی ہو
میں نے کہا
’یہ تو ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بچے کے پاس زندگی کی ضروری سہولتیں موجود ہوں۔ آپ پریشان نہ ہوں، خدا نے ہمت دی تو آپ گاڑی ضرور خرید لیں گی
انہوں نے کہا’گاڑی تو میں نے خرید لی ہے۔‘
میں نے فوراً خوش ہو کر کہا
’پھر تو باجو، آپ کو بہت بہت مبارک ہو!‘
انہوں نے مبارک باد قبول کی، مگر ان کے چہرے کی پریشانی ختم نہ ہوئی۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ لوگ گاڑی خرید کر خوشیاں مناتے ہیں، مٹھائی کھلاتے ہیں، اور آپ پریشان ہیں؟
تب انہوں نے بتایا کہ وہ ڈرائیونگ سیکھنے کے لیے دو مختلف اداروں سے تربیت لے چکی ہیں، لیکن انہیں ابھی تک ہنر نہیں آیا۔
میں نے کہا’باجو، کوئی ڈرائیور رکھ لیں۔ وہ آپ کو ڈیوٹی پر بھی چھوڑ دے گا اور آپ کو گاڑی چلانا بھی سکھا دے گا
انہوں نے پنجابی میں جواب دیا’اک نئیں، دو مرجانیاں نوں رکھیا سی۔‘
میں حیران ہوا اور پوچھا پھر کیا ہوا؟
وہ کچھ دیر خاموش رہیں، پھر بولیں’بھائی، میں نے شادی نہیں کی۔ ساری عمر درویشانہ زندگی گزاری۔ اپنے معذور بھائی کی خاطر اپنی بہت سی خوشیاں قربان کر دیں۔ جب ڈرائیور میرے خوبصورت پتھر ٹائل والے گھر اور میرے اکیلے معذور بھائی کو دیکھتا ہے تو اس کی نیت میں فتور آنا شروع ہو جاتا ہے۔ پھر مجھے ایسے ڈرائیور کو خدا حافظ کہنا پڑتا ہے
پھر انہوں نے کہا’بھائی، آپ کے پاس بھی تو گاڑی ہے۔ مجھے آپ پر بھروسہ ہے۔ پلیز، اس معاملے میں میری مدد کریں
میں نے انہیں حوصلہ دیا اور کہا کہ جہاں تک ممکن ہوگا، میں آپ کی مدد کروں گا۔
شاید یہی وہ لمحہ تھا جب ہماری بہن بھائی کی نسبت صرف الفاظ تک محدود نہیں رہی بلکہ اعتماد میں بدل گئی
اس کے بعد جب بھی گاڑی کی کوئی اسیسری خریدنی ہوتی، وہ مجھے فون کرتیں’استاد جی! آنا، میں نے فلاں چیز لینی ہے۔
کافی محنت کے بعد وہ اب اچھی گاڑی چلانے لگی ہیں۔
کل بھی اسی سلسلے میں ان کی کال آئی۔ میں نے اپنی گاڑی ریڈیو اسٹیشن پر کھڑی کی اور مجھے ساتھ لے کر گاڑی کی اسیسری خریدنے نکل پڑیں۔
ان دنوں فیصل آباد میں میٹرو بس کے روٹ کی تعمیر کی وجہ سے ٹریفک کا نظام خاصا متاثر ہے۔ راستے میں ٹریفک کا رش دیکھ کر مجھے یہ خیال آیا کہ ابھی باجو کو ڈرائیونگ کا اتنا تجربہ نہیں کہ وہ ایسے مشکل راستوں میں اعتماد سے گاڑی چلا سکیں۔ اس لیے میں نے انہیں وہیں سے خدا حافظ کہا تاکہ موڑوں اور ٹریفک کے چکر میں انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، اور خود ریڈیو اسٹیشن کی طرف پیدل چل پڑا۔
ابھی تھوڑا ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ محلے کا ایک جاننے والا چنگ چی رکشہ چلاتا ہوا پاس سے گزرا۔ اس نے مجھے دیکھا تو بولا:
’سر! آج پیدل؟ میں نے کہا
بس، یونہی کچھ کام تھا
اس کے اصرار پر میں اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔
ابھی تھوڑا سا فاصلہ ہی طے ہوا تھا کہ اس نے رکشہ روک دیا اور کہا آؤ سر، آپ کو لنچ کرواتے ہیں
دوپہر کا تقریباً ایک بج رہا تھا بھوک اور پیاس نے بھی کہا کہ خاموشی سے ساتھ چلتے جاؤ۔
وہ مجھے ایک ایسی جگہ لے گیا جہاں چنگ چی رکشوں، موٹر سائیکلوں اور سفید پوش لوگوں کا خاصا رش تھا۔ وہاں پہنچ کر میرے محلے دار نے کھانا دینے والے شخص کو پچاس پچاس روپے کے دو نوٹ دیے
میں نے صورتِ حال کو بھانپتے ہوئے اپنا پچاس روپے کا نوٹ اسے واپس کر دیا، اس کا شکریہ ادا کیا، اور اپنی پلیٹ کے پچاس روپے خود ادا کرکے کھانا لے لیا۔ پلیٹ چاول اور بوٹیوں سے بھری ہوئی تھی۔
میری صحافیانہ عادت نے مجھے خاموش نہ رہنے دیا۔ میں نے کھانا فراہم کرنے والے شخص سے پوچھا’بھائی! یہ کیا معاملہ ہے؟ آج کل ایسی دیگ کم از کم پندرہ ہزار روپے میں تیار ہوتی ہے۔ آپ روزانہ تین دیگیں لاتے ہیں، ساتھ ٹھنڈے پانی کا بھی انتظام کرتے ہیں، اور صرف پچاس روپے فی پلیٹ لیتے ہیں
وہ شخص مسکرایا اور اپنی کہانی سنانے لگا۔
اس نے بتایا کہ چند سال پہلے اس نے کپڑے کا کاروبار شروع کیا تھا۔ ایک دوست کے ساتھ شراکت کی، لیکن دوست بے وفا نکلا اور میں دیکھتے ہی دیکھتے سڑک پر آ گیا
اس نے کہا’میں نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب میں سڑکوں پر ایسی جگہ تلاش کرتا تھا جہاں کم پیسوں میں اپنا پیٹ بھر سکوں۔ پھر وقت نے پانسہ پلٹا۔ میری محنت اور اوپر والے کی مہربانی سے آج مجھے کسی چیز کی کمی نہیں
میں خاموشی سے اس کی بات سن رہا تھا
پھر اس نے ایک ایسی بات کہی جس نے میرے دل پر گہرا اثر چھوڑا
’یہ پچاس روپے میں نے اس لیے رکھے ہیں کہ کھانا کھانے والے کو یہ محسوس نہ ہو کہ وہ مفت کا کھانا کھا رہا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ کسی کی انا یا عزتِ نفس مجروح ہو۔ کیونکہ میں خود اس وقت سے گزر چکا ہوں
’آپ دیکھ رہے ہیں نا، یہاں زیادہ تر سفید پوش لوگ آتے ہیں۔ میں نے کھانا دینے والوں کو سختی سے کہہ رکھا ہے کہ کسی کو اس کے نام، حیثیت یا غربت سے نہیں پکارنا، سب کو صرف ’سر‘ کہہ کر بلانا ہے
اس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ زندگی نے آج پھر میرے سامنے ایک بہت بڑا سبق رکھ دیا ہے
ایک طرف میری باجو تھیں، جنہوں نے ایک معمولی سے لفظ ’باجو’ میں اپنائیت محسوس کی اور مجھے بھائی بنا لیا۔ پھر انہوں نے اپنے ایک ذاتی مسئلے میں مجھ پر اعتماد کیا۔
اور دوسری طرف یہ شخص تھا، جو کبھی خود ضرورت مند تھا، مگر وقت بدلنے کے بعد بھی اس نے اپنے مشکل دنوں کو نہیں بھلایا۔ اس نے صرف لوگوں کا پیٹ بھرنے کا انتظام نہیں کیا بلکہ ان کی عزتِ نفس کی حفاظت کا بھی انتظام کیا
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ کسی غریب یا ضرورت مند کو کھانا کھلا دینا، کپڑے دے دینا یا چند روپے دے دینا ہی مدد ہے۔ یقیناً یہ سب نیکی کے کام ہیں، لیکن اس سے بھی بڑی نیکی یہ ہے کہ مدد کرتے وقت سامنے والے کی عزتِ نفس مجروح نہ ہونے دی جائے
کیونکہ غریب انسان کے پاس اگر بہت کچھ نہیں بھی ہوتا تو اس کے پاس ایک چیز ضرور ہوتی اور وہ ہوتی ہے عزت
اور عزت وہ دولت ہے جسے نہ بازار سے خریدا جا سکتا ہے، نہ کسی بینک میں جمع کرایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی قیمت لگائی جا سکتی ہے
اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کا سب سے قیمتی سرمایہ دولت، جائیداد، عہدہ یا شہرت نہیں
انمول سرمایہ عزت ہے۔
کسی کی عزت کرنا، کسی کی عزتِ نفس بچانا، کسی کے دکھ کو سمجھنا اور کسی ضرورت مند کے ہاتھ میں مدد رکھتے ہوئے اس کا سر بلند رکھنا ہی انسانیت کی اصل پہچان ہے
اور شاید زندگی کا سب سے بڑا کمال بھی یہی ہے کہ جب ہمارے پاس کسی کو دینے کے لیے بہت کچھ نہ ہو، تب ہم اسے عزت ضرور دے سکتے ہیں
کیونکہ بعض اوقات ایک پلیٹ کھانا کسی کا پیٹ بھرتا ہے، مگر عزت سے دیا ہوا وہ کھانا اس کا دل بھی بھر دیتا ہے
اور جس معاشرے میں انسان ایک دوسرے کی عزت کرنا سیکھ جائے وہاں غربت تو شاید فوراً ختم نہ ہو، لیکن محرومی کا احساس ضرور کم ہو جاتا ہے۔
واقعی، ایک غریب کے پاس عزت ہی تو ہوتی ہے، جس کا کوئی مول نہیں ہوتا اور یہی اس کا انمول سرمایہ ہوتا ہے

 

 

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author