Author Editor Hum Daise View all posts
سموئیل بشیر
پاکستان اس سال اپنی آزادی کی 79 سالگرہ منا رہا ہے۔ ہر سال یومِ آزادی ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم صرف اپنی کامیابیوں کا جائزہ نہ لیں بلکہ ان آئینی اور جمہوری اصولوں پر بھی غور کریں جن پر اس ریاست کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ انہی اصولوں میں ایک بنیادی اصول مساوی شہریت ہے۔ مساوی شہریت کا تصور اس بات پر قائم ہے کہ ریاست اپنے تمام شہریوں کو، مذہب، نسل، زبان یا عقیدے سے بالاتر ہو کر، مساوی عزت، مساوی قانونی تحفظ اور قومی زندگی میں شرکت کے مساوی مواقع فراہم کرے۔ یہ تصور نہ صرف جدید جمہوریتوں کی بنیاد ہے بلکہ پاکستان کے آئین میں بھی بنیادی حقوق، قانون کے سامنے برابری اور مذہبی آزادی کی صورت میں اس کی جھلک نمایاں طور پر موجود ہے۔آئینِ پاکستان شہریوں کے متعدد بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ مثال کے طور پر آرٹیکل 20 مذہبی آزادی، آرٹیکل 25 قانون کے سامنے برابری اور امتیازی سلوک کے خاتمے کے اصول کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ دفعات اس عزم کا اظہار کرتی ہیں کہ ریاست اپنے تمام شہریوں کے ساتھ انصاف اور مساوات کا برتاؤ کرے گی۔اس کے ساتھ ہی آئین کے آرٹیکلز 41 اور 91 بھی قومی مباحثے کا حصہ رہے ہیں، کیونکہ ان میں صدر اور وزیرِ اعظم کے عہدوں کے لیے مخصوص آئینی شرائط موجود ہیں۔ ان دفعات پر مختلف قانونی، مذہبی اور سیاسی آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ مساوی شہریت کے اصول کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ان پر پارلیمانی سطح پر مکالمہ ہونا چاہیے، جبکہ دوسری رائے موجودہ آئینی ترتیب کو برقرار رکھنے کی حمایت کرتی ہے۔ جمہوری معاشروں میں ایسے اختلافات کا حل تصادم نہیں بلکہ دلیل، مکالمہ اور پارلیمانی عمل ہوتا ہے۔بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 کی اپنی تاریخی تقریر میں ایک ایسے پاکستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں شہریوں کے مذہب کا تعلق ان کے ریاستی حقوق اور ذمہ داریوں سے نہ ہو۔ یہی وژن پاکستان میں مذہبی آزادی، باہمی احترام اور قومی وحدت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان کی مذہبی اقلیتوں نے دفاع، تعلیم، صحت، عدلیہ، تجارت، فنون، کھیل اور سماجی خدمت سمیت متعدد شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان خدمات نے یہ ثابت کیا ہے کہ قومی ترقی کسی ایک طبقے کی نہیں بلکہ تمام شہریوں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جب ہر شہری خود کو ریاست کا برابر کا شریک محسوس کرتا ہے تو قومی اعتماد، سماجی ہم آہنگی اور جمہوری استحکام بھی مضبوط ہوتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ آئینی اصلاحات کسی بھی جمہوری نظام کا معمول کا حصہ ہوتی ہیں۔ پاکستان کے آئین میں مختلف ادوار میں متعدد ترامیم کی جا چکی ہیں تاکہ بدلتے ہوئے حالات اور عوامی ضروریات کے مطابق نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ اسی تناظر میں اگر آرٹیکلز 41 اور 91 یا کسی اور آئینی شق پر قومی سطح پر مکالمہ ہوتا ہے تو اسے جمہوری عمل کے ایک فطری حصے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اس کا فیصلہ بالآخر پارلیمنٹ اور آئینی طریقۂ کار کے ذریعے ہی ہونا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آئینی مباحث کو سیاسی یا مذہبی تقسیم کا ذریعہ بنانے کے بجائے انہیں قومی یکجہتی، قانون کی حکمرانی اور جمہوری استحکام کے تناظر میں دیکھیں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، بشرطیکہ وہ احترام، دلیل اور آئینی حدود کے اندر ہو۔یومِ آزادی کے موقع پر شاید سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں ہر شہری خود کو برابر کا شریکِ وطن محسوس کرے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر ہمیں مساوی شہریت، آئینی برابری اور جمہوری مکالمے کو فروغ دینا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط، پرامن، بااعتماد اور متحد پاکستان کی طرف لے جاتا ہے۔















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *