Author Editor Hum Daise View all posts
تحریر: شوکت جاوید
پاکستانی سیاست کا منظرنامہ کبھی کبھی مجھے گلیوں اور بازاروں میں ہونے والے اُس روایتی تماشے کی یاد دلاتا ہے، جہاں ایک مداری اپنے سامنے پٹاری رکھتا ہے۔ لوگ اردگرد جمع ہوتے ہیں، مگر جب اسے محسوس ہوتا ہے کہ مجمع کی دلچسپی کم ہونے لگی ہے تو وہ اپنے مخصوص انداز میں ڈنڈا ہلاتا ہے، پٹاری کو جنبش دیتا ہے اور اچانک سانپ سر اٹھا دیتا ہے۔ لوگوں کی نظریں فوراً سانپ پر جم جاتی ہیں۔ مداری اپنی بات شروع کر دیتا ہے، اپنا منجن بیچتا ہے، دعوے کرتا ہے اور مجمع کی توجہ اپنے اصل مقصد کی طرف لے جاتا ہے۔
کیا ہماری سیاست میں بھی کچھ ایسا ہی نہیں ہو رہا؟
حالیہ سیاسی واقعات، خصوصاً عمران خان سے متعلق جیل، ہسپتال اور دوبارہ جیل تک پہنچنے والی خبروں نے ایک مرتبہ پھر عوامی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔ خبر آتی ہے، سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوتی ہے، سوشل میڈیا گرم ہو جاتا ہے، ٹی وی چینلز پر تجزیوں کا سلسلہ چل پڑتا ہے اور عوام کئی دن تک اسی موضوع کو دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں۔ اس دوران وہ سوالات جو ہماری روزمرہ زندگی سے براہِ راست تعلق رکھتے ہیں، کہیں پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
مہنگائی کہاں کھڑی ہے؟
بے روزگاری کا کیا ہوگا؟
نوجوانوں کے مستقبل کا کیا منصوبہ ہے؟
تعلیم اور صحت کی سہولیات کیوں بہتر نہیں ہو رہیں؟
بجلی، گیس اور دیگر بنیادی ضروریات عام آدمی کی پہنچ سے کیوں دور ہوتی جا رہی ہیں؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام کے بنیادی مسائل پر سنجیدہ اور مستقل توجہ کب دی جائے گی؟
یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتے ہیں، لیکن ہماری نظریں اکثر کسی نئے سیاسی تماشے کی طرف موڑ دی جاتی ہیں۔
یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے کہ کسی بھی سیاسی رہنما کے ساتھ قانون، انصاف اور انسانی وقار کے تقاضے پورے ہونا چاہئیں۔ عمران خان ہوں یا کوئی دوسرا سیاسی رہنما، اگر کسی شخص کے حقوق متاثر ہوتے ہیں تو اس پر سوال اٹھانا عوام اور اداروں دونوں کا حق ہے۔ مگر مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک شخصیت یا ایک سیاسی واقعہ پورے ملک کے بنیادی مسائل پر پردہ ڈال دیتا ہے۔
مداری کے ہاتھ میں ڈنڈا صرف سانپ نکالنے کے لیے نہیں ہوتا؛ وہ مجمع کی توجہ اپنے قابو میں رکھنے کا ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ جب مجمع دوسری طرف دیکھنے لگے تو ڈنڈا پھر حرکت میں آتا ہے۔ سانپ پٹاری سے باہر آتا ہے، لوگ چونکتے ہیں، تماشہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے اور مداری اپنی بات جاری رکھتا ہے۔
سیاست میں بھی کبھی ایک خبر، کبھی ایک بیان، کبھی گرفتاری، کبھی رہائی، کبھی عدالت، کبھی ہسپتال اور کبھی کسی نئے سیاسی تنازعے کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ پوری قوم کی توجہ اسی ایک واقعے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *