Author Editor Hum Daise View all posts
جلال الدین مغل
کشمیریوں کے جسم زخمی ہیں، مگر ان کی روحیں اور بھی زیادہ زخمی ہیں۔
شاید کبھی کوئی اچھا دن آئے جب جسموں پر لگے زخموں کی گنتی ممکن ہو جائے۔ اعداد و شمار سامنے آ جائیں کہ کتنے لوگ زخمی ہوئے، کتنے گھروں میں میّتیں پہنچیں، راستے بند کرنے کے لیے کتنے درخت کاٹے گئے، کتنے دن بازاروں اور دکانوں پر خاموشی طاری رہی، کتنے سیاح سالانہ چھٹیاں بچوں کے ساتھ کشمیرمیں گزارنے کا منصوبہ مکمل نہ کر پائے۔ ان سب کا حساب کسی نہ کسی رجسٹر، خبر، رپورٹ یا تاریخ کے حاشیے پر محفوظ ہو ہی جائے۔
مگر جو زخم روحوں پر لگے، ان کا شمارناممکن رہے گا۔
کیونکہ روح کے زخموں کا کوئی ایکسرے نہیں ہوتا۔ انہیں اسکین کرنے کے لیے ابھی کوئی ایم آر آئی مشین ایجاد نہیں ہوئی۔
وہ بچہ جو رات کو گولیوں کی تڑتڑاہٹ سن کر اٹھ بیٹھتا ہے، وہ ماں جو جوان بیٹے کے گھر سے نکلنے سے لے کر واپس آنے تک بے یقینی سے دروازے کی طرف دیکھتی رہتی ہے، وہ نوجوان جو اپنی عمر کے بہترین لمحات احتجاج، خوف، بے یقینی اور بند راستوں کے درمیان گزار رہا ہے، اور وہ عورت جس نے اپنے شوہر کی موت کی خبر تو سنی مگر اس کی لاش ابھی تک نہیں دیکھی۔ اور وہ بہن جس نے اکلوتے بھائی کی موت کے بعد اپنے گھر کی فضا کو ہمیشہ کے لیے بدلتے دیکھا، ان سب کی روحوں میں ہونے والی شکست و ریخت کو کسی سرکاری یا غیر سرکاری گنتی میں شامل نہیں کیا جا سکے گا۔
کسی خطے کو صرف سڑکوں، بازاروں، عمارتوں اور سرحدوں سے نہیں ناپا جاتا اور نہ ہی پہاڑ، جنگل، درخت، دریا اور جھیلیں اس خطے کی شناخت ہوتی ہیں۔ بلکہ خطہ دراصل اپنے لوگوں کے دلوں میں آباد ہوتا ہے۔ وہی اس کی اصل شناخت ہوتی ہے۔
سڑکیں بند ہونے سے صرف گاڑیاں نہیں رکتیں، بلکہ مریضوں کا اسپتال تک پہنچنا رک جاتا ہے، طلبہ و طالبات کے امتحان رہ جاتے ہیں، کسی مزدور کی دیہاڑی چھن جاتی ہے، کسی ماں کی اپنے بیٹے تک رسائی ختم ہو جاتی ہے۔
کرفیو یا بندشوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کا بوجھ ہمیشہ سب پر یکساں نہیں ہوتا۔
ایک صاحبِ اختیار شخص شاید اسے چند گھنٹوں، دنوں یا مہینوں کی پابندی سمجھ کر برداشت کر لے، یا دستیاب وسائل اور حاصل شدہ تحفظ کو استعمال کر کے اسے پار کر جائے۔ مگر ایک حاملہ عورت کے لیے بند سڑک ایک خوفناک سوال بن جاتی ہے۔ ایک بیمار بچے کے والدین کے لیے راستہ بند ہونا محض انتظامی فیصلہ نہیں رہ جاتا، زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کسی بیمار بزرگ کے لیے دوا تک رسائی کا نہ ہونا، کسی طالب علم کے لیے اسکول نہ پہنچ پانا، کسی مزدور کے لیے کام تک نہ جا سکنا، بظاہر یہ سب بہت چھوٹے چھوٹے دکھ معلوم ہوتے ہیں، مگر جب ایک پورا معاشرہ ان کو مسلسل جھیلتا ہے تو یہی دکھ اجتماعی المیے میں بدل جاتے ہیں۔
انسانی موت، اور خاص طور پر کسی نوجوان کی موت، کسی بھی سیاسی بحث سے بڑی حقیقت اور بہت بڑا المیہ ہے۔
جس گھر میں ناحق مرنے والے نوجوان کی میّت داخل ہوتی ہے، وہاں سب دلیلیں خاموش ہو جاتی ہیں۔ وہاں کسی نظریے، کسی بیانیے، کسی ریاست، حکومت، ادارے، گروہ یا جتھے کی فتح اور شکست نہیں ہوتی۔ وہاں صرف ایک خالی چارپائی، ایک بند کمرہ، بے یقینی سے بھرے چند چہرے، یا دیوار پر لٹکتی ایک تصویر، اور اس گھر کے مکینوں کی نظروں میں اُٹھتے اَن گنت سوال رہ جاتے ہیں، جن کا جواب کسی تقریر، کسی نعرے، کسی پریس ریلیز یا کسی پریس کانفرنس میں نہیں ہوتا۔
ان میں سب سے اہم سوال یہی ہوتا ہے:
وہ زندہ واپس کیوں نہیں آ سکا؟
کشمیر کے بچوں نے شاید اپنے حصے سے کہیں زیادہ بڑوں کی دنیا دیکھ لی ہے۔ انہیں اب ایمبولینس اور پولیس کی گاڑیوں کے سائرن کا فرق معلوم ہے، اور وہ جاننے لگے ہیں کہ کس سائرن کا مطلب کیا ہو سکتا ہے۔ انہیں معلوم ہونے لگا ہے کہ اچانک چھا جانے والی خاموشی کیوں خطرناک ہوتی ہے۔ کسی شاہراہ پر غیر معمولی ہجوم لگ جائے تو اگلے لمحے کیا ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اور کسی خبر کے آنے سے پہلے ہی گھر میں موبائل فون اچانک کیوں خاموش ہو جاتے ہیں۔
بچپن اور اَلہَڑ جوانی کو کھیل کود، کتابوں اور خوابوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے یہ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کہ کس آواز پر کھڑکی بند کرنی ہے، اور دروازے کو کنڈی لگانے کا مطلب مکمل طور پر محفوظ ہونا نہیں ہوتا۔ کس خبر پر ماں کا چہرہ دیکھنا ہے، اور کسی پیارے کی واپسی کی راہ دیکھتے ہوئے کون سی دعا مانگنی ہے۔
کشمیر کے نوجوانوں کی کہانی اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔
عمر کا وہ لمحہ، جب نوجوان اپنے مستقبل کے نقشے بُن رہا ہوتا ہے، کشمیری نوجوانوں کے سامنے ان کے الجھن زدہ حال کا سوال کھڑا ہے۔ تعلیم جاری رہے گی یا نہیں؟ امتحان ہوگا یا نہیں؟ روزگار کا راستہ کھلے گا یا نہیں؟ شہر سے باہر جانے کی اجازت ہوگی یا نہیں؟ باہر گیا تو واپس اندر آنے کا راستہ ملے گا یا نہیں؟ کل کی خبر آج سے زیادہ خوفناک تو نہیں ہوگی؟ جو مارے گئے، وہ تو گئے؛ جو گرفتار ہو کر ناقابل رسائی، ان کی واپسی کا کوئی کا امکان ہے یا نہیں؟
مسلسل بے یقینی میں پروان چڑھنے والی نسل کے اندر صرف غصہ نہیں پیدا ہوتا؛ بے بسی بھی پیدا ہوتی ہے۔ اور بے بسی کچّے ذہن پر وہ نشان اور اثرات چھوڑتی ہے، جو بسا اوقات جسمانی زخم سے کہیں گہرے اور زیادہ دیر تک قائم رہنے والے ہوتے ہیں۔
خواتین اس سارے المیے کی تاریخ کاغذ کے اوراق پر لکھیں یا نہ لکھیں، اپنے سینوں میں رقم کرتی جا رہی ہیں۔ یہ تاریخ بھی سینہ بہ سینہ اگلی نسلوں تک ویسے ہی منتقل ہوگی، جیسے 1947، 1955، 1965، 1971 اور 1989 کے واقعات کی کہانیاں سینہ بہ سینہ ہم تک پہنچیں۔
احتجاجی دھرنے ہوں یا لانگ مارچ، کشمیر کی خواتین عام طور پر سڑکوں پر نظر نہیں آتیں، مگر بند سڑکوں کے عملی اثرات بھگتنے کی کہانیاں انہی کے سینوں میں محفوظ ہو کر مستقبل کا سفر طے کریں گی۔ گھر میں موجود بیمار بزرگ، اسکول نہ پہنچ سکنے والے بچے، شہر کے گرد کھنچے حصار کے باہر پھنسے ہوئے شوہر، بھائی اور بیٹے، راشن کی پیٹی خالی ہونے کی فکر، اور فون کی بجتی ہر گھنٹی اور مس کال کے ہر نوٹیفکیشن کے ساتھ دل میں انگڑائی لینے والے انجانے وسوسے، یہ سب ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
ایسے حالات میں خواتین کے لیے سب سے مشکل کام شاید یہی ہوتا ہے کہ اندر سے خوف زدہ ہونے کے باوجود خود کو بہادر ظاہر کرنا ہے، دوسروں کو حوصلہ بھی دینا ہے۔
کشمیر میں جاری کشمکش کے زمینی اثرات تو اس علاقے تک محدود ہیں، مگر میڈیائی محاذ پر ہونے والی یک طرفہ لفظی گولہ باری نے ملک بھر میں لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ کئی روحوں کو زخمی کیا اور کئی دلوں میں نفرتوں کا زہر گھول دیا۔ کشمیریوں کو ملک کے طول و عرض میں اب شاید وہ عزت و مقام کبھی نہ ملے جو اس سے پہلے ہمیشہ اور ہر دور میں حاصل رہا ہے۔
صرف جھوٹ بولنا ہی پروپیگنڈا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی آدھا سچ بولنا، یا سچ کے ٹکڑوں کو اس طرح جوڑ دینا کہ مخالف فریق کا تاثر انسان کے بجائے انسانیت دشمن کا بن جائے، یہ بھی پروپیگنڈے کی ایک شکل ہے، بلکہ بدترین شکل ہے۔ ان حالات میں یک طرفہ تصویر دکھانا دانستہ لوگوں کو گمراہی میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔
تنازعات میں سامنے آنے والی ہر تصویر کے پیچھے ایک انسان ہوتا ہے۔ ہر مرنے والے کے پیچھے ایک خاندان۔ ہر زخمی کی مرہم پٹی کے پیچھے کسی کی جاگتی راتیں۔ ہر بند سڑک کے پیچھے کسی کا ضروری سفر۔ ہر خاموش بازار کے پیچھے سینکڑوں لوگوں کے رزق کی کہانی پوشیدہ ہوتی ہے۔
مگر جب المیے کو اعداد، نعروں اور بیانیوں میں تقسیم کیا جاتا ہے تو منظرِ عام سے سب سے پہلے غائب ہونے والی شے انسان ہوتا ہے، اور سب سے پہلا قتل انسانیت کا ہوتا ہے۔
یہ سب ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ پارلیمنٹ میں ہونے والی تقاریر، ٹی وی مکالموں میں یک طرفہ بیانیے، ریکارڈ شدہ پریس کانفرنسیں، ان سب نے کشمیریوں کے جسموں پر لگے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان کی پہلے سے سوراخ زدہ روحوں کو مزید چھلنی کیا ہے۔
اسی لیے اب اس تنازعے میں سب سے زیادہ ضرورت انسانوں کو دوبارہ مرکزیت دینے اور انسانیت کو پنپنے کا ایک اور موقع دینے کی ہے۔ ایک ایسا موقع جہاں کوئی بھی مرنے والا صرف ایک عدد یا ایک ہندسہ نہ ہو، زخمی ہونے والا محض ایک خبر نہ ہو۔ نہ عورت محض متاثرہ آبادی کا ایک حصہ ہو، اور نہ ہی کوئی بچہ صرف ایک جذباتی تصویر۔ نہ نوجوان کسی اندھی گولہ کا نشانہ بنے، نہ اس کی بے یقینی کو کسی سیاسی حساب کتاب میں نظرانداز کیا جائے۔
کسی بھی بحران کی اصل قیمت اس کی مالی لاگت نہیں ہوتی۔ اصل قیمت وہ خوف ہے جو ایک بچے کے اندر گھر کر لیتا ہے۔ وہ بے خوابی جو ایک ماں کی آنکھوں میں اتر آتی ہے۔ وہ سناٹا جو ایک نوجوان کے خوابوں پر چھا جاتا ہے۔ وہ سوال جو ایک بیوہ اپنے دل میں لیے عمر گزار دیتی ہے۔
جسم کے زخم وقت کے ساتھ بھر سکتے ہیں۔
مگر روح پر لگنے والے زخم بھرنے کے بجائے نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔
آج کشمیر کے سامنے سب سے بڑا سوال شاید یہ نہیں کہ اس کشمکش میں اب تک کون جیتا اور کون ہارا۔ سوال یہ ہے کہ اس سب کے بعد کتنے بچے اپنے بچپن کی طرف واپس لوٹ سکیں گے اور ان کے خوابوں میں گولیوں کی تڑتڑاہٹ نہیں سنائی دے گی؟ کتنی مائیں دوبارہ بے خوف ہو کر دروازہ کھول سکیں گی، کہ گھر کے باہر کوئی بندوق بردار تو نہیں کھڑا؟ کتنے نوجوان مستقبل کو اس خوف کے بغیر دیکھ سکیں گے کہ کوئی بینک ان کا اکاؤنٹ کھولنے سے انکار تو نہیں کرے گا اور انہیں شناختی کارڈ دیکھ کر کسی گاڑی یا ہوائی جہاز سے تو نہیں اتارا جائے گا؟ اور کتنے گھر ایسے ہوں گے جہاں کسی سڑک کے بند ہونے، کسی خبر کے آنے یا کسی فون کے اچانک بج اٹھنے سے دل دھڑکنا بند نہ کرے؟
کشمیریوں کے جسموں پر لگے زخموں کی گنتی شاید کبھی مکمل ہو جائے۔ مگر روحوں پر لگے زخموں کا شمار ہمیشہ ناممکن رہے گا۔
وقت کا سب سے بڑا ستم یہی ہے کہ اعداد و شمار دل و دماغ سے محو بھی ہو جائیں، تب بھی جسم و روح پر لگے ان زخموں کی یاد باقی رہ جاتی ہے۔
کشمیریوں کا گناہ شاید اتنا بڑا نہیں تھا، جتنی زیادہ انہیں سزا دی جا رہی ہے

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *