Author Hum Daise View all posts
تحریر : اعجاز بھٹی
ایک روز شام کا وقت تھا۔ فیصل آباد کے ایک چھوٹے سے محلے میں 32 سالہ عمران (فرضی نام) بخار میں تپ رہا تھا۔ اس کا وزن تیزی سے کم ہو رہا تھا اور وہ ہر وقت شدید تھکن محسوس کرتا تھا۔ وہ ڈاکٹر کے پاس گیا تو پہلے ٹی بی کا ٹیسٹ ہوا، پھر ڈاکٹر نے آہستہ سے کہا، ’’ایک اور ٹیسٹ بھی کروانا پڑے گا۔‘‘رپورٹ آئی تو اس کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ وہ ایچ آئی وی پازیٹو تھا۔
رانا اعجاز احمد( ایچ ائی وی ایڈز پر کام کرنے والے اور ممبر راستہ این جی اوز نیٹ ورک فیصل آباد) کے مطابق عمران جب اپنی بیماری سے آگاہ ہوا تو ابتدائی طور پر ’’انکار‘‘ کی کیفیت میں چلا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مریض حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریز کرتا ہے۔ ایچ آئی وی کے بارے میں ناکافی معلومات اور معاشرتی بدنامی کے خوف کے باعث بعض افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کا مطلب اب موت قریب ہے، حالانکہ مؤثر علاج کی بدولت ایچ آئی وی کے ساتھ طویل اور صحت مند زندگی گزاری جا سکتی ہے۔
اسی خوف کے باعث بعض مریض اپنی بیماری دوسروں سے چھپانے لگتے ہیں اور علاج شروع کروانے میں بھی ہچکچاتے ہیں۔
اس کے بعد عمران ایک ایسے ادارے میں گیا جہاں ایچ آئی وی/ایڈز کے بارے میں آگاہی فراہم کی جا رہی ےتھی۔ پروگرام ختم ہونے کے بعد عمران نے متعلقہ ادارے کے نمائندے سے تنہائی میں پوچھا’’ آپ کہہ رہے تھے کہ اس مرض کا علاج ممکن ہے، تو یہ علاج کس طرح ہوتا ہے؟‘‘عمران کو بتایا گیا کہ فیصل آباد کے الائیڈ ہسپتال میں ایچ آئی وی کا علاج فراہم کرنے والا مرکز موجود ہے، جہاں سرکاری پروگرام کے تحت ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کو تشخیص، علاج اور ادویات کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ مریض کو متعلقہ طبی معائنوں اور ٹیسٹوں کے بعد علاج شروع کیا جاتا ہے۔عمران نے ضروری ٹیسٹ کروائے اور اسے ایچ آئی وی کے خلاف مخصوص ادویاتی علاج، یعنی اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی، کے بارے میں رہنمائی دی گئی۔ یہ ایسی ادویات پر مشتمل علاج ہے جو جسم میں ایچ آئی وی کی مقدار کو کم رکھنے اور مدافعتی نظام کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ایچ آئی وی کا ابھی مکمل خاتمہ ممکن نہیں، تاہم باقاعدہ علاج سے وائرس کو مؤثر طور پر قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔کلینک سے عمران کو نہ صرف علاج اور رہنمائی ملی بلکہ اسے ادویات بھی فراہم کی گئیں۔ اسے علاج کے دوران رازداری برقرار رکھنے کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اس طرح اس نے اپنا علاج شروع کر دیا۔
رانا اعجاز احمد کے مطابق فیصل آباد میں متعدد ادارے ایچ آئی وی کے بارے میں آگاہی، ٹیسٹنگ اور علاج کی سہولیات تک رسائی میں لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ بعض افراد خود ان اداروں سے رابطہ کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ دوستوں یا کمیونٹی کے ذریعے معلومات حاصل کرتے ہیں۔
خاموشی سے پھیلتا ہوا مرض
فیصل آباد میں ایچ آئی وی کے حوالے سے صورتحال تشویش کا باعث ہے۔ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق فیصل آباد میں ہزاروں افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں مریض علاج کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔تاہم ایچ آئی وی کے اصل کیسز کی تعداد معلوم کرنا ایک چیلنج ہے کیونکہ بہت سے افراد علامات نہ ہونے، سماجی بدنامی کے خوف یا ٹیسٹنگ سے ہچکچاہٹ کے باعث بروقت تشخیص نہیں کرواتے۔ایچ آئی وی کا خطرہ کسی ایک طبقے یا کمیونٹی تک محدود نہیں۔ بعض مخصوص زیادہ خطرے سے دوچار آبادیوں میں ایچ آئی وی کا خطرہ عمومی آبادی کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتا ہے، تاہم غربت، لاعلمی، صحت کی سہولیات تک محدود رسائی، غیر محفوظ جنسی تعلقات، استعمال شدہ سرنجوں کا مشترکہ استعمال اور غیر محفوظ خون کی منتقلی جیسے عوامل بھی ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
علامات نہ ہونے کا دھوکا
ایچ آئی وی کی ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ ابتدائی مرحلے میں بہت سے افراد میں کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ بعض افراد میں بخار، گلے میں درد، سر درد، جسم میں درد یا فلو جیسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں، جو عموماً کسی عام بیماری سے ملتی جلتی محسوس ہوتی ہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ اگر ایچ آئی وی کا علاج نہ ہو تو مدافعتی نظام کمزور ہو سکتا ہے اور مریض کو ٹی بی سمیت مختلف موقع پرست انفیکشنز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔بعض افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص اسی وقت ہوتی ہے جب انہیں کسی دوسری بیماری، خصوصاً ٹی بی، کے دوران ایچ آئی وی ٹیسٹنگ کروانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ایچ آئی وی کی تشخیص کے لیے متعلقہ ابتدائی اور تصدیقی ٹیسٹ استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ پی سی آر یا وائرل لوڈ ٹیسٹ مخصوص طبی حالات میں خون میں وائرس کی مقدار جانچنے اور علاج کی نگرانی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔اگر ایچ آئی وی کی بروقت تشخیص ہو جائے اور اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی شروع کر دی جائے تو مریض طویل اور صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔ایچ آئی وی کا ابھی مکمل خاتمہ یا عام استعمال کی کوئی ویکسین دستیاب نہیں، تاہم مؤثر اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی وائرس کو اس حد تک قابو میں رکھ سکتی ہے کہ مریض کی صحت اور زندگی کے معیار کو نمایاں طور پر بہتر بنایا جا سکے۔
شرم، خوف اور حقیقت
ماہرین کے مطابق ایچ آئی وی کے خلاف جنگ میں ایک بڑی رکاوٹ ٹیسٹنگ سے ہچکچاہٹ ہے۔ بہت سے افراد بدنامی، سماجی دباؤ یا لوگوں کے ردعمل کے خوف سے اپنا ٹیسٹ نہیں کرواتے۔یہ رویہ نہ صرف بروقت تشخیص میں رکاوٹ بنتا ہے بلکہ علاج میں تاخیر کا سبب بھی بن سکتا ہے۔یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ ایچ آئی وی گلے ملنے، ہاتھ ملانے، ساتھ بیٹھنے، ایک دوسرے کے ساتھ کھانا کھانے یا عام سماجی میل جول سے نہیں پھیلتا۔ایچ آئی وی بنیادی طور پر غیر محفوظ جنسی تعلقات، متاثرہ خون یا خون سے آلودہ آلات کے ذریعے، مشترکہ استعمال شدہ سرنجوں کے ذریعے، اور حمل، پیدائش یا دودھ پلانے کے دوران ماں سے بچے میں منتقل ہو سکتا ہے۔گر ایچ آئی وی سے متاثرہ شخص باقاعدگی سے اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی لے اور اس کے خون میں وائرس کی مقدار مسلسل ناقابلِ شناخت سطح پر برقرار رہے تو جنسی تعلق کے ذریعے ایچ آئی وی کی منتقلی نہیں ہوتی۔ اسے ’’ناقابلِ شناخت = ناقابلِ منتقلی‘‘ یعنی یو=یو کہا جاتا ہے۔
فیصل آباد میں ٹیسٹنگ اور علاج
پنجاب کے ایچ آئی وی/ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت فیصل آباد سمیت مختلف شہروں میں ایچ آئی وی کی ٹیسٹنگ اور علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق فیصل آباد کے الائیڈ ہسپتال میں ایچ آئی وی علاج مرکز موجود ہے، جہاں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کو سرکاری پروگرام کے تحت تشخیصی اور علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
مریضوں کو چاہیے کہ ایچ آئی وی کے خطرے سے متعلق کسی صورتحال کا سامنا ہونے کی صورت میں مستند طبی مرکز سے رابطہ کریں اور خود سے تشخیص یا علاج کرنے کے بجائے طبی ماہرین کی رہنمائی حاصل کریں۔
بڑھتا ہوا رجحان اور زیادہ خطرے سے دوچار آبادی
ٹرانسجینڈر کمیونٹی لیڈر شیلپا کے مطابق بعض افراد میں غیر محفوظ جنسی تعلقات کے باعث ایچ آئی وی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق بعض ملاقاتیں مختلف مقامات پر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے بروقت آگاہی، ٹیسٹنگ اور حفاظتی اقدامات تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔
ایچ ائی وی / ایڈز کے ماہرین(ڈاکٹر نام نہیں دینا چاہتے)کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ خطرے سے دوچار تمام افراد کو بلاامتیاز درست معلومات، ٹیسٹنگ، حفاظتی سہولیات اور علاج تک رسائی حاصل ہو۔
غیر محفوظ جنسی تعلقات اور ایچ آئی وی کا خطرہ
ماہرین کے مطابق ایسے حالات جہاں غیر محفوظ جنسی تعلقات کا امکان زیادہ ہو، وہاں ایچ آئی وی اور دیگر جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشنز کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے، خصوصاً جب کنڈوم کا باقاعدہ استعمال نہ ہو اور ٹیسٹنگ یا علاج تک رسائی محدود ہو۔
ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کے لیے بروقت اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی شروع کرنا نہ صرف ان کی اپنی صحت کے لیے اہم ہے بلکہ وائرس کی منتقلی کے خطرے کو کم کرنے میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
اس لیے ایچ آئی وی کے حوالے سے کسی بھی بحث کو اخلاقی فیصلوں کے بجائے صحتِ عامہ، محفوظ رویوں، ٹیسٹنگ اور علاج کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
سرنجوں کا خطرہ
ماہرین کے مطابق انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والے افراد میں استعمال شدہ یا مشترکہ سرنجوں کے استعمال سے ایچ آئی وی منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ایسے افراد تک ایچ آئی وی ٹیسٹنگ، نقصان میں کمی کی خدمات، محفوظ انجیکشن آلات اور علاج کی رسائی ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اہم ہے۔
اب کیا کرنا ہے؟
ماہرین کی اپیل ہے کہ خوف یا شرمندگی کے باعث ایچ آئی وی ٹیسٹنگ سے گریز نہ کریں۔ اگر کوئی شخص ایسی صورتحال سے گزرا ہے جس میں ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کا امکان ہو تو اسے مستند طبی مرکز سے رابطہ کرکے مناسب وقت پر ٹیسٹنگ اور طبی مشورہ حاصل کرنا چاہیے۔ایچ آئی وی کوئی اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ صحتِ عامہ کا مسئلہ ہے۔
درست معلومات، بروقت تشخیص، محفوظ رویے، مؤثر علاج اور معاشرتی بدنامی کے خاتمے کے ذریعے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ایچ آئی وی/ایڈز کے حوالے سے طبی ماہر کا انٹرویو
ایک طبی ماہر نے ایچ آئی وی/ایڈز کے ’’خاموش حملے‘‘ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں بہت سے مریضوں میں کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں، جبکہ بعض افراد میں فلو جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔
ان کے مطابق بعض مریضوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب وہ ٹیسٹنگ کرواتے ہیں یا جب مدافعتی نظام کمزور ہونے کے بعد ٹی بی یا کسی دوسری موقع پرست انفیکشن کی تشخیص ہوتی ہے۔ماہر نے بتایا کہ ایچ آئی وی کی تشخیص کے لیے متعلقہ ابتدائی اور تصدیقی ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، جبکہ پی سی آر یا وائرل لوڈ ٹیسٹ مخصوص حالات میں خون میں وائرس کی مقدار جانچنے اور علاج کی نگرانی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ایچ آئی وی/ایڈز پر کام کرنے والی اقصیٰ کنول کے مطابق بہت سے افراد ٹیسٹنگ نہ کروانے کے باعث بروقت تشخیص سے محروم رہ جاتے ہیں۔ بعض افراد میں وائرس جسم میں موجود رہتا ہے لیکن انہیں اس کا علم نہیں ہوتا، اور علاج نہ ہونے کی صورت میں وقت کے ساتھ مدافعتی نظام کمزور ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی کے بارے میں آگاہی اور ٹیسٹنگ کو بدنامی کے بجائے صحتِ عامہ کے مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے عوام پر زور دیا کہ جن افراد کو ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہو، وہ طبی ماہرین کے مشورے کے مطابق باقاعدگی سے ٹیسٹنگ کروائیں تاکہ بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔
نوٹ: (جن کو ماہرین کہا گیا ہے وہ اپنا نام نہیں دینا چاہتے)

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *