Author Hum Daise View all posts
شہزاد فرانسس۔ خانیوال
پاکستان میں آج کل مسیحی عائلی قوانین میں اصلاح اور تبدیلی کے حوالے سے مذہبی، سماجی، قانونی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں ایک اہم بحث جاری ہے۔ اس بحث کا مرکز بالخصوص مسیحی طلاق کا قانون ہے، جو بنیادی طور پر 1869 کے عہدِ برطانوی ہند سے چلا آ رہا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ قانون پرانا ہے یا نیا؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ قانون آج کے مسیحی خاندان، عورت، مرد اور بچوں کو انصاف، وقار اور ایک قابلِ عمل قانونی راستہ فراہم کرتا ہے؟میری نظر میں اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے ہمیں مذہبی عقائد، کلیسیائی قوانین، ریاستی ذمہ داریوں، انسانی حقوق اور زمینی حقائق—سب کو ایک ساتھ دیکھنا ہوگا۔مسیحی طلاق کے قانون میں دفعہ 7 ایک اہم قانونی راستہ فراہم کرتی تھی، جسے 1981 میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد مسیحی جوڑوں، خصوصاً خواتین، کے لیے قانونی طور پر ازدواجی بندھن سے نکلنے کا راستہ انتہائی مشکل ہو گیا۔موجودہ قانونی صورتِ حال میں دفعہ 10 کے تحت شوہر کے لیے بیوی پر بدچلنی کا الزام لگانا اور اسے عدالت میں ثابت کرنا طلاق کے حصول کا بنیادی راستہ بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک شادی شدید اختلاف، تشدد، ترکِ تعلق، ناقابلِ برداشت ذہنی اذیت، طویل علیحدگی یا دوسرے سنگین ازدواجی مسائل کا شکار ہو چکی ہو تو کیا ہر معاملے کو لازماً بدچلنی کے الزام تک محدود کر دینا انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے؟
بالخصوص ایک مسیحی عورت کے لیے یہ صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہو سکتی ہے، کیونکہ اسے اپنے ازدواجی رشتے کے خاتمے کے لیے ایسا الزام اپنے اوپر یا اپنے خلاف برداشت کرنا پڑ سکتا ہے جو نہ صرف اس کی عزتِ نفس کو مجروح کرتا ہے بلکہ معاشرے میں اس کی سماجی اور معاشی مشکلات میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔
خانیوال سمیت مختلف اضلاع میں مسیحی خاندانوں کو برسوں عدالتوں کے چکر لگاتے دیکھا گیا ہے۔ بہت سے مقدمات طویل عرصے تک زیرِ التوا رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں میاں بیوی ہی نہیں بلکہ ان کے بچے، خاندان اور پورا سماجی نظام متاثر ہوتا ہے۔
کسی بھی قانون کا مقصد معاشرے کے لیے ایک محفوظ، باوقار اور قانونی راستہ فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اگر قانون کسی حقیقی سماجی مسئلے کا قابلِ عمل حل فراہم نہ کرے تو لوگ متبادل راستے تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
خانیوال اور دیگر علاقوں میں ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں جہاں لوگ عدالت سے قانونی طلاق لینے کے بجائے اسٹامپ پیپر پر طلاق جیسے غیر مؤثر طریقے اختیار کرتے ہیں، حالانکہ محض اسٹامپ پیپر پر لکھی گئی طلاق لازماً قانونی ازدواجی حیثیت ختم نہیں کرتی۔
اسی طرح بعض لوگ اپنے ازدواجی مسئلے کا حل مذہب تبدیل کرنے میں تلاش کرتے ہیں۔ بعض اوقات وکلا یا دیگر افراد کے مشوروں سے مذہب تبدیلی کو مسیحی نکاح سے نکلنے کا راستہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ایک ناقص عائلی قانون غیر ارادی طور پر ایسے راستے پیدا کر سکتا ہے جو بعد میں جبری یا مفاداتی مذہب تبدیلی کے رجحان کو بھی تقویت دے سکتے ہیں۔
ہمیں یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے کہ اگر ایک شہری اپنے ازدواجی بندھن سے نکلنے کے لیے مذہب تبدیل کرنے پر مجبور ہونے لگے تو کیا مسئلہ صرف اس فرد کا ہے، یا پھر قانون، مذہبی اداروں اور ریاست—سب کو اس صورتحال پر غور کرنا چاہیے؟
مسیحی تعلیم میں نکاح محض ایک کاغذی یا سماجی معاہدہ نہیں بلکہ ایک مقدس عہد اور روحانی بندھن کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے کلیسیا ازدواجی وفاداری، محبت، برداشت اور خاندان کے تقدس پر زور دیتی ہے۔
اناجیل مقدسہ میں ازدواجی وفاداری اور زناکاری کے بارے میں نہایت سخت اخلاقی معیار بیان کیا گیا ہے۔ مسیحی تعلیم انسان کے ظاہری عمل کے ساتھ اس کے دل اور نیت کو بھی اہمیت دیتی ہے۔
اس لیے میرا مؤقف یہ نہیں کہ طلاق کو آسان کر کے شادی کے مقدس تصور کو کمزور کر دیا جائے۔ میرا مؤقف یہ ہے کہ نکاح کے تقدس اور ایک عادلانہ قانونی نظام کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بنایا جا سکتا۔
اگر ایک ازدواجی رشتہ شدید بحران کا شکار ہو تو طلاق سے پہلے مسیحی جوڑے کو لازماً روحانی، اخلاقی اور ازدواجی مشاورت ملنی چاہیے۔ لیکن اگر تمام کوششوں کے باوجود رشتہ ناقابلِ اصلاح ہو جائے تو ریاست کو ایک ایسا باوقار، غیر امتیازی اور انسانی حقوق سے ہم آہنگ قانونی راستہ بھی فراہم کرنا چاہیے جو کسی فریق کو ذلت، جھوٹے الزامات یا مذہب تبدیلی کی طرف دھکیلنے پر مجبور نہ کرے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی زیرِ بحث آنا چاہیے۔
مین اسٹریم چرچز میں کینن لا کے تحت نکاح کی Nullity یا “Null and Void” کا تصور موجود ہے۔ یعنی بعض مخصوص حالات میں کلیسیائی طریقۂ کار کے ذریعے یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ کسی شادی کے آغاز ہی سے اس میں وہ بنیادی شرائط موجود نہیں تھیں جو ایک درست مسیحی نکاح کے لیے ضروری ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ عام مسیحیوں کو ان پیچیدہ کلیسیائی قوانین اور طریقۂ کار کے بارے میں کتنی رہنمائی حاصل ہے؟
کتنے عام مسیحی جانتے ہیں کہ Nullity کیا ہے؟
کتنے لوگ جانتے ہیں کہ نکاح کے باطل ہونے اور طلاق میں کیا فرق ہے؟
کتنے جوڑوں کو بتایا جاتا ہے کہ ازدواجی بحران کی صورت میں کلیسیائی، قانونی اور نفسیاتی مشاورت کہاں سے حاصل کی جا سکتی ہے؟
زمینی حقیقت یہ ہے کہ بہت سے عام مسیحی ان معاملات سے ناواقف ہیں۔ نتیجتاً بعض لوگ غلط قانونی طریقے اختیار کرتے ہیں، بعض مذہب تبدیل کرتے ہیں، بعض اخبارات میں مذہب تبدیلی کے اعلانات کروا کر سابقہ ازدواجی بندھن سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، اور پھر بعد میں دوبارہ مسیحی عبادات اور کلیسیائی زندگی میں شریک بھی ہو جاتے ہیں۔
یہاں ایک سنجیدہ کلیسیائی سوال بھی پیدا ہوتا ہے:
اگر کسی شخص نے کلیسیائی قوانین کے برخلاف اپنی پہلی شادی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کی، یا ازدواجی مسئلے سے نکلنے کے لیے مذہب تبدیل کیا اور پھر دوبارہ مسیحی عبادت اور کلیسیائی زندگی میں شامل ہو گیا، تو کلیسیا اس شخص کی رہنمائی اور اس کے ازدواجی مسئلے کی باقاعدہ pastoral اور canon-law سطح پر وضاحت کیوں نہیں کرتی؟
میں یہ سوال کسی فرد کو کلیسیا سے نکالنے کے مطالبے کے طور پر نہیں بلکہ کلیسیائی ذمہ داری اور رہنمائی کے سوال کے طور پر اٹھا رہا ہوں۔
اگر کینن لا کسی ازدواجی صورتحال کو سنگین سمجھتا ہے تو عام مسیحی کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا درست راستہ کیا ہے، کس سے رجوع کرنا ہے، اور کلیسیا اس پورے عمل میں اس کی کس طرح مدد کرے گی۔
صرف نکاح پڑھا دینا کلیسیا کی مکمل ذمہ داری نہیں
کلیسیا کا کردار صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ دو افراد کا نکاح پڑھایا، دعا کروائی اور پھر انہیں ان کے مسائل کے ساتھ تنہا چھوڑ دیا۔
اگر کلیسیا نکاح کو ایک مقدس عہد سمجھتی ہے تو پھر نکاح کے بعد پیدا ہونے والے مسائل میں بھی جوڑوں کی رہنمائی، ازدواجی مشاورت، صلح کی کوشش، خاندانی تنازعات کا حل، بچوں کے مفادات کا تحفظ اور ضرورت پڑنے پر مناسب قانونی رہنمائی بھی اس کے pastoral mission کا حصہ ہونی چاہیے۔
آج پاکستان میں مسیحی خاندانوں کے اندر ازدواجی تنازعات موجود ہیں۔ عدالتوں میں طلاق اور خاندانی نوعیت کے ہزاروں مقدمات زیرِ سماعت یا زیرِ التوا رہنے کی باتیں سامنے آتی ہیں۔ ایسے حالات میں صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ طلاق مسیحی تعلیم کے خلاف ہے۔
سوال یہ ہے:
جو شادی ٹوٹ رہی ہے، اسے بچانے کے لیے ہم نے کیا کیا؟
اور جو شادی بچ نہیں سکتی، اس کے فریقین کو باوقار اور قانونی راستہ دینے کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں؟
اگر کلیسیا موجودہ ریاستی عائلی قانون میں تبدیلی کو مسیحی اصولوں کے خلاف سمجھتی ہے تو پھر اسے یہ بھی دکھانا ہوگا کہ وہ موجودہ قانون کے تحت مشکلات کا شکار مسیحی خاندانوں کے لیے عملی متبادل، قانونی رہنمائی، pastoral counselling اور کلیسیائی معاونت کا کون سا مؤثر نظام فراہم کر رہی ہے۔
دنیا کے کئی ایسے ممالک جہاں مسیحی آبادی اکثریت میں ہے، وہاں شادی، طلاق، بچوں کی تحویل، نان و نفقہ، جائیداد اور دیگر عائلی معاملات کا قانونی فریم ورک بنیادی طور پر ریاست کے قوانین کے تحت چلتا ہے۔
کلیسیا اپنے مذہبی عقائد اور اخلاقی تعلیمات کے مطابق نکاح اور ازدواجی زندگی کے بارے میں رہنمائی ضرور کرتی ہے، لیکن ریاستی عدالتیں عائلی قانون کو نافذ کرتی ہیں۔
یہ فرق سمجھنا ضروری ہے:
ریاستی قانون شہری کے قانونی حقوق طے کرتا ہے، جبکہ کلیسیا اپنے ماننے والوں کو مذہبی اور اخلاقی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
پاکستان میں بھی ہمیں اسی فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ریاست کو تمام شہریوں کے لیے یکساں، قابلِ عمل اور انسانی حقوق سے ہم آہنگ عائلی قانون فراہم کرنا چاہیے، جبکہ کلیسیا کو اپنے مذہبی اصولوں کے مطابق اپنے پیروکاروں کی روحانی اور ازدواجی رہنمائی کرنی چاہیے۔
ریاست اور کلیسیا دونوں کا کردار اپنی اپنی حدود میں اہم ہے؛ ایک کو دوسرے کا متبادل بنانا مسئلے کا حل نہیں۔
ریاستی قوانین عمرانی معاہدے، آئین اور شہری حقوق کے اصولوں پر قائم ہوتے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو—خواہ وہ مسلمان ہوں، مسیحی ہوں، ہندو ہوں یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھتے ہوں—ایسا قانونی نظام فراہم کرے جو ان کی بنیادی انسانی ضروریات اور حقوق کا تحفظ کرے۔
مسیحی عائلی قانون میں اصلاح کا مطالبہ کسی مذہب کے خلاف مطالبہ نہیں۔یہ قانونی انصاف، انسانی وقار، صنفی مساوات، بچوں کے مفادات اور شہری حقوق کا مطالبہ ہے۔
ہمیں ایسا قانون چاہیے جو مسیحی نکاح کے مذہبی تقدس کو بھی سمجھتا ہو اور اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتا ہو کہ ہر شادی کامیاب نہیں ہوتی۔
قانون ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ایک عورت کو اپنی ازدواجی آزادی حاصل کرنے کے لیے اپنے کردار پر الزام کا بوجھ اٹھانا پڑے، یا ایک مرد کو ایسے راستے تلاش کرنے پڑیں جو بعد میں مزید قانونی اور سماجی پیچیدگیاں پیدا کریں۔
اس سارے منظرنامے میں سندھ اور پنجاب میں مسیحی عائلی قوانین کے حوالے سے قانون سازی کے لیے سامنے آنے والی کوششیں قابلِ تعریف اور قابلِ غور پیش رفت ہیں۔ کم از کم تقریباً ڈیڑھ سو سال بعد کسی نے تو اس ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر پھینکا ہے۔
پتھر پھینکنے سے لہریں ضرور پیدا ہوتی ہیں۔ سوالات بھی اٹھتے ہیں، اختلافات بھی سامنے آتے ہیں اور مختلف مذہبی و سماجی حلقے اپنے اپنے تحفظات بھی بیان کرتے ہیں۔ لیکن کسی مسئلے پر خاموش رہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مجوزہ قوانین پر جذباتی ردِعمل کے بجائے کھلی، سنجیدہ، علمی، قانونی اور مسیحی مکالمے کا آغاز کیا جائے۔
مسیحی علما، پادری صاحبان، بشپ صاحبان، کینن لا کے ماہرین، وکلا، خواتین کے نمائندے، سماجی کارکن، انسانی حقوق کے کارکن اور عام مسیحی—سب کو اس بحث میں شریک ہونا چاہیے۔
کیونکہ عائلی قانون کا سب سے بڑا فریق کوئی سیاسی جماعت یا مذہبی ادارہ نہیں، بلکہ وہ مسیحی خاندان ہے جو اس قانون کے تحت اپنی زندگی گزار رہا ہے۔
مسیحی شاید صرف یہ نہیں چاہتے کہ قانون میں تبدیلی ہو؛ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی بات سنی جائے۔
وہ ایسا قانون چاہتے ہیں جو:
1.مسیحی نکاح کے تقدس کو تسلیم کرے؛
مگر ازدواجی ظلم اور ناقابلِ اصلاح رشتوں کے لیے قانونی راستہ بھی فراہم کرے؛
عورت اور مرد دونوں کو منصفانہ حقوق دے؛
طلاق کو صرف بدچلنی کے الزام تک محدود نہ رکھے؛
بچوں کے بہترین مفاد کو اولین اہمیت دے؛
مذہب تبدیلی کو ازدواجی مسئلے سے نکلنے کا راستہ بننے سے روکے؛
کلیسیا کو نکاح کے بعد بھی مؤثر pastoral اور ازدواجی رہنمائی کا نظام قائم کرنے پر آمادہ کرے؛
اور ریاست کو تمام شہریوں کے لیے غیر امتیازی عائلی انصاف فراہم کرنے کی ذمہ داری یاد دلائے۔
ہمیں یہ فیصلہ جذبات سے نہیں بلکہ انصاف، ایمان، آئین اور زمینی حقیقت کو سامنے رکھ کر کرنا ہوگا۔
مسیحی نکاح مقدس ہے، اس لیے اسے بچانے کی ہر سنجیدہ کوشش ہونی چاہیے۔
لیکن جہاں ایک ازدواجی رشتہ عملاً ختم ہو چکا ہو، وہاں قانون کو ایسا راستہ بھی دینا چاہیے جو انسان کو جھوٹ، ذلت، غیر قانونی دستاویزات، مذہب تبدیلی یا برسوں کی عدالتی اذیت کی طرف دھکیلنے کے بجائے عزت، قانون اور انصاف کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع دے۔
ہمیں ایسا عائلی قانون چاہیے جو نہ نکاح کے تقدس کو پامال کرے اور نہ انسان کے وقار کو۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست، کلیسیا اور مسیحی معاشرہ ایک دوسرے کے مخالف بننے کے بجائے ایک دوسرے کی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے ایک بہتر، منصفانہ اور باوقار راستہ تلاش کر سکتے ہیں















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *