مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


سینئر صحافی آغا عبید ایک بار پھر انتقامی کارروائی کی زد میں ‘ بی ڈی ایم اے کا اظہار تشویش

سینئر صحافی آغا عبید ایک بار پھر انتقامی کارروائی کی زد میں ‘ بی ڈی ایم اے کا اظہار تشویش

      Authors Hum Daise View all posts Editor Hum Daise View all posts

 

رپورٹ : انیسہ کنول
بلوچستان کے سینئر صحافی آغا عبید ایک بار پھر انتقامی کارروائیوں کی زد میں ہیں آغا عبید کے گھر پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بھاری نفری کے ہمراہ چھاپہ مارا، کارروائی میں 40 سے زائد گاڑیوں میں سوار اہلکار شریک تھے، جن میں اے ٹی ایف کے اہلکار بھی شامل تھے اس سے قبل بھی آغا عیبد مقتدر حلقوں کی جانب سے انتقامی کارروئیون کا نشانہ بن چکے ہیں آغا عیبد حق گوئی کے علمبردار اور حکومتی کی ناقص پالیسوں اور کرپشن پر آزادانہ تنقید کرنے والے صحافی ہیں -کوئٹہ: بلوچستان ڈیجیٹل میڈیا ایسوسی ایشن (بی ڈی ایم اے) نے رات گئے صحافیوں کے گھروں اور دفاتر پر چھاپوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہارِ رائے اور بنیادی انسانی حقوق پر قدغن لگانے کے مترادف قرار دیا ہے۔بلوچستان ڈیجٹل میڈ یا ایسوسی ایشن کے مطابق رات تقریباً ایک بجے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے بی ڈی ایم اے کے صدر آغا عبید کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا۔ اسی طرح صحافی ڈاکٹر ثناء کے گھر اور صحافی مقبول جعفر کے دفتر پر بھی چھاپے مارے گئے۔بی ڈی ایم اے نے ان کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے خلاف قانونی کارروائی سے قبل شفافیت، قانونی تقاضوں اور صحافتی آزادی کے بنیادی اصولوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اگر کسی صحافی کے خلاف کوئی شکایت یا الزام موجود ہے تو اس کا جواب قانونی اور آئینی طریقۂ کار کے تحت دیا جانا چاہیے، نہ کہ رات کی تاریکی میں گھروں اور دفاتر پر چھاپوں کے ذریعے صحافی برادری کو دباؤ میں لایا جائے۔ایسوسی ایشن نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور ان کے پرنسپل سیکرٹری کی مدعیت میں ہونے والی مبینہ کارروائیوں کے حوالے سے متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ حقائق عوام کے سامنے لائیں اور واضح کریں کہ صحافیوں کو کس بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔بی ڈی ایم اے کے رہنماؤں نے کہا کہ صحافت ریاست اور عوام کے درمیان ایک اہم رابطے کا کردار ادا کرتی ہے۔ صحافیوں کو ہراساں کرنا، ان کے گھروں اور دفاتر پر چھاپے مارنا اور انہیں خوف و دباؤ میں مبتلا کرنا کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نیک شگون نہیں۔ اختلافِ رائے کو جرم تصور کرنا اور تنقیدی آوازوں کو دبانے کی کوششیں آزادیٔ صحافت کے بنیادی تصور کے منافی ہیں۔ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ آغا عبید، ڈاکٹر ثناء اور مقبول جعفر کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی شفاف وضاحت کی جائے، صحافیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور آزادیٔ صحافت و آزادیٔ اظہارِ رائے کے آئینی حق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

 

 

Authors

Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Authors