مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


اے ندیم سٹونزآباد کی دستار کی ایک روشن کرن

اے ندیم سٹونزآباد کی دستار کی ایک روشن کرن

 

 

عطا الرحمن سمن

1974 ء کا زمانہ تھا‘ سٹونز آباد میں ایک خوش شکل نوجوان وارد ہو تا ہے جو ہر آنے جانے والی خاتون کو بہن جی اور مرد کو بھائی جی کہہ کر پکارتا تھا‘ نام آ سٹن ندیم تھا مگر سب اے ندیم کے نام سے متعارف ہوئے‘ گاوں کے بڑے خاندان چوہدری حزقی ایل نہال داس کے بھانجے تھے۔بعد ازاں اُن کی بیٹی وکٹوریا (آنٹی شیدی) کے ساتھ رشتہ ازدواج میں بندھ گئے تو مانو کہ گاؤں کے داماد کے رشتہ سے تمام گھروں تک رسائی ہو گئی‘اُن کے والد پریم سُکھ سابق فوجی تھے‘ پنجاب کے مشہور اور بڑے مسیحی گاؤں کلارک آباد میں اُن کی زرعی زمین تھی تا ہم انہوں نے سٹونزآباد میں مستقل قیام رکھنے کا قصد کیا۔ اے ندیم کی ابتدائی پہچان تو چوہدریوں کے داماد کی صورت ہوئی تھی تا ہم ایک آدھ سال کے اندر اُن کی پہچان کتاب دوست، شاعر، مقرر اور ایک ادبی شخصیت کے طور پر ہونے لگی۔ چرچ کی سرگرمیوں میں حصہ لینا، مبارک جمعہ کے موقع پر کلمہ پیش کرنا غرض سیاسی ومذ ہبی تقا ریب کی میزبانی جیسے تمام جبوتروں پر انہوں نے قبضہ جما لیا تھا۔ اُن دنوں ادب، ڈ رامہ، موسیقی، مشاعروں اور مباحثوں کے لحاظ سے سٹونز آباد میں عروج کا دور تھا۔ چنانچہ ندیم صاحب ہر طرف فعا ل اور متحرک دکھائی دیتے۔ کرسمس کے قریب جب ڈرامے تیار ہو رہے تھے تو انہوں نے بھی ایک ڈرامہ لکھ کر پیش کیا۔ادب و شاعری سے لاب رکھنے والے نوجوان اُن کی طرف کھنچے چلے جاتے۔ 80ء کی دہائی میں خا ل خال گھروں میں ٹی وی ہوا کرتے تھے۔ بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی اور صرف PTVکا دور تھا۔ اُن کی شریک حیات آنٹی شیدی (وکٹوریا) کو اُن کے پاپا کی جانب سے ایک عددبھینس دی گئی تھی۔ یہاں بھینس کے لئے چارہ وغیرہ کا چارہ کرنے کاجھنجھٹ پالنے والا کوئی چار ہ کار نہیں تھا چنانچہ ندیم صاحب نے بھینس بیچ کر TVلے لیا۔ اُس زمانے میں گھر میں TV ہونا ”اپنے پیچھے بلا لگا لینا“ کے مترادف تھا۔ شام کو نشریات کا آغا ز ہوتا تو آس پاس کے بچے جمع ہونا شروع ہوتے۔ بعد ازاں بڑے لوگوں کی آمد شروع ہوتی۔ ندیم صاحب اور آنٹی شیدی کے گھر کاصحن اور د ل نہایت کشادہ تھے۔ ہم لوگ تقریباً ہر روز جایا کرتے تھے۔ شام کو ہی صحن میں پانی چھڑک کر برآمدے کے سامنے ایک چھوٹے میز پر ٹی وی جما دیا جاتا۔ سامنے بچوں کے بیٹھنے کے لئے چادریں بچھا دی جاتیں جن کے پیچھے چارپائیاں اور بینچ رکھ دئیے جاتے۔ ہر روز نو بجے تک اور بعض اوقات نو بجے کے بعد بھی ہمارے سمیت دو درجن لوگ ندیم صاحب کی گھریلوزندگی میں باقاعدگی سے مخل ہونے کا فریضہ انجام د یا کرتے تھے۔ مجال ہے کہ خندہ پیشانی میں کبھی کوئی فرق آیا ہو۔ اس گنجائش میں ندیم صاحب اور آنٹی شیدی اور ندیم صاحب کے والد محترم اور بچے برابر حصہ دار تھے۔ اُن دنوں بھینس بیچ کر ٹی وی خریدنا ایک احمقانہ فیصلہ لگتا تھا تا ہم اب میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے ٹی وی خرید کر دنیا جہاں کی معلومات اور خبر تک رسائی کا فیصلہ کیا تھا جو کسی حال میں گھاٹے کا سودا نہیں تھا۔ ندیم صاحب کو ملتان ڈایوسیس کے رسالہ ”نقطہ نظر“ کا ایڈیٹر بنا دیا گیا۔ یہ ایک معیاری جریدہ تھا جس میں اعلیٰ پائے کے مضامین جگہ پاتے تھے۔ نہایت محترم اور بڑی قامت کے دانشور، ادیب اور وکیل جناب قیوم بھٹی صاحب ”نقطہ نظر“ کے مدیر رہے تھے جن کے متاثر کن اداریوں کو پڑھ کر ہماری تربیت ہوئی تھی۔ ندیم صاحب جب ”نقطہ نظر“ کا اداریہ لکھ لیتے تو گویا ہماری شامت آ جاتی۔ شائع ہونے سے قبل ہی ہمیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر باری باری پورا اداریہ پرھ کر سناتے اور اُس میں اپنے تراشے ہوےء جملوں، تراکیب اور پنچ جملوں کی تفسیر و تشریح پر الگ سے داد وصول کرتے۔اُن کے والد پریم سکھ کا تعلق کلارک سے تھا۔ زمیندار تھے۔ زرعی زمین کے مالک تھے۔ گاوں سے باہر رہے تو زمین پر ندیم صاحب کے بہنوئی کاشت کرتے تھے۔ عجب قناعت پسندی تھی کہ لوٹ کر کبھی زمین واپس لینے کا نہیں پوچھا۔ پریم سُکھ پرانے فوجی تھے‘ دوسری عالمی جنگ میں برما میں انگریزی فوج کی طرح دیگر ہندوستانیوں کی طرح لڑی تھی۔ ہم ندیم صاحب کے پاس جاتے تو اُن سے بھی ملتے۔ چنانچہ برما کی جنگ کا ایک آدھ قصہ تو ندیم صاحب کی ملاقات میں لازمی مضمون ہوا کرتا تھا۔ ایک قصہ جو ہر بار سننا ہوتا تھا وہ یہ تھا کہ پریم سکھ برمامیں جس جگہ پر ڈیوٹی انجام دے رہے تھے وہ بہت بلند چوٹی تھی۔ ڈاکخانہ بہت دور پڑتا تھا۔ مگر وہ ہر روز ایک خط ندیم صاحب کی والدہ کو لکھتے‘ بہت دشوار راستہ تھا۔ وہ ہر روز پہاڑی سے نیچے اترتے۔ اور ڈاکخانہ تک جاتے اور اپنی شریک حیات شانتی پریم کے نام ایک خط ڈاک کے ڈبہ میں ڈال آتے‘ اُن کا یہ روزانہ کا معمول تھا۔ ہر بار جب وہ یہ کہانی سناتے تو اُن چہرے کے تاثرات پر وہی زمانہ لوٹ آتا۔ لگتا جیسے وہ پہاڑی سے اتر رہے ہیں۔ خط ڈالنے تک کے تذکرے تک پہنچتے تو اُن کے چہرے پر فتح مندی کی سی مسکراہٹ پھیل جاتی۔ ندیم صاحب کا مطالعہ اور حافظہ وسیع اور غیر معمولی تھا۔ اُن دِنوں ضلع ملتان میں مسیحی نوجوانوں کی سرگرمیوں کا محور مباحثوں، مشاعروں اور ادبی محافل کاانعقاد ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ لا سال ہائی اسکول میں ایک ادبی پروگرام میں ”صلیب اور اردو ادب“ کے موضوع پر ندیم صاحب نے ایک تحقیقی مقالہ پڑھا جس کا مواد اِس قدر جاندار اور موثر تھا کہ قیصر سرویا اور کامران (کامی بھائی)نے اِس مقالہ کو کتابی شکل دینے کا فیصلہ کر لیا۔ اُن کی مشورت کے بعد ندیم صاحب نے اِس میں مزید اضافہ کر کے دوبارہم سے مرتب کیا۔ کتاب کا پیش لفظ کامران بھائی نے لکھا تھا۔یہ چھوٹا سا کتابچہ درحقیقت حقائق، تاریخ اور معنویت سے بھری ایک دستاویز تھی جو تحقیقی کام کرنے والے طلباء کی رہنمائی کے لئے بہاوالدین زکریہ یونیورسٹی ملتان کی لائبریری میں رکھ لی گئی۔ مسیحی چکوک کے بارے اُن کی جانکاری حیرت انگیز تھی۔ ندیم صاحب کے ہاں بے شمار کتب تھیں۔ انہیں اپنے ہاں موجود کتابوں کا خزانہ دکھانے کا بہت شوق ہوا کرتا تھا۔ جب الماریوں میں پڑی کتابوں کے بارے بات ختم ہوتی تو چارپائی کے نیچے سے پرانی طرز کے سوٹ کیس نکال لیتے۔شاعری، افسانے، ناول اور ادبی رسالے ”اوراق“ اور دیگر ادبی رسالوں کے ضخیم شمارے دیکھنے کو ملتے۔ ایک سے بڑھ کر ایک کتاب اور اُس کے مصنف کے انداز ِ تحریر کے بارے اچھی خاصی معلومات دے ڈالتے۔ اِتنا کچھ بتاتے کہ کتاب پڑھنے کی چنداں حاجت نہ رہتی۔ اتنی پھولا پھلائی کرتے تو ہمیں کوئی نہ کوئی کتاب پسند آ ہی جاتی۔ پسندیدگی کے خفیف سے اشارے پر ہی وہ خوشی خوشی ہمارے ہاتھ میں کتاب تھما دیتے۔ کبھی واپسی کی تاکید نہیں کرتے۔ ایک روز میں میلون مل اور جاوید ڈیوڈ بیٹھے کسی کتاب پر بحث بکوا س کر رہے تھے کہ میلون نے انکشاف یوں کیا ”ندیم صاحب کا ایک فائدہ ہے۔ آپ جائیں کوئی بھی کتاب مانگ لیں اور لے آئیں۔ پھر وہ بھول جائیں گے اور کتاب آپ کی۔ ابھی کچھ سال پہلے کی بات ہے۔ میرا ایک ساتھی بیمار تھا۔ ہم لوگ اُس کے گھر تیمار داری کے لئے گئے۔ لڑکے کے میز پر ایک کتاب پڑ ی تھی۔ باتوں کے درمیان میں نے کتاب اٹھا کر دیکھی تو اُس کے پہلے صفحہ پر میرے دستخط اور تاریخ ثبت تھی۔ میں اپنے ابو کی مانند کتاب خریدتے وقت اُس کے پہلے ورق پر دستخط اور تاریخ رقم کرتا ہوں۔ یہ کتاب اِس لڑکے نے کسی وقت مجھ سے مستعار لی ہو گی۔ مجھے اُس ساتھی کے کتاب واپس نہ دینے پر چنداں رنج نہیں ہوا بلکہ خوشی ہوئی کہ وہ کتاب میز پر تھی۔ گویا وہ پڑھتا تھا۔ تب مجھے یاد آیا کہ ندیم صاحب بھی ایسا ہی کرتے تھے اور وہ بھول نہیں جاتے تھے بس اُن کی منشا تھی کہ کتاب پڑھی جائے۔ ندیم صاحب کا کتاب دے کر بھول جانے کا وصف غیر محسوس طریق سے مجھ سمیت میرے کئی دوستوں میں بھی سرایت کیا ہے۔ ندیم صاحب کی لکھائی نہایت شکستہ تھی۔ ایسی کہ لکھنے کے بعد خود بھی نہیں پڑھ پاتے تھے۔ لکھنے کا تمام کام اُن کی شریک حیات وکتوریہ جبیں (آنٹی شیدی) کرتی تھیں۔ موصوف بستر پر دراز آنکھیں موند کر بولتے جاتے اور وہ اُس خیال کو کاغذ پر منتقل کرتی جاتیں۔ دو بارہ پڑھ کر سناتیں تو اِس دوران ندیم صاحب تحریر کی اصلاح فرماتے۔ دو ایک مرتبہ اصلاح کرنے کے بعد تحریر کو حتمی شکل میں لکھ کر اُن کے حوالے کر دیا جاتا۔ گھریلو کام کاج، اسکول میں پڑھانے اور گھریلو کام کاج کی ذمہ داریوں کے ہمراہ یہ خدمت گویا اُن کے لئے بامشقت سزا جیسی ہوا کرتی تھی۔یہ خدمت آنٹی شیدی کے علاوہ اُن کے چھوٹے بھائی لیموئیل کلیم (مٹھو) بھی سر انجام دیتے رہے ہیں۔مجھے اشتیاق تھا کہ آنٹی شیدی بھی نہیں رہیں اور مٹھو بھی کویت میں قیام فرما ہیں تو ایسے میں یہ سزا کون بھگتتا ہے۔ سال 2020ء تھا۔ مَیں نے اور جاوید ڈیوڈ نے اُن سے ملاقات کرنے کی ٹھانی۔ بارہا ملاقات کی صورت نکالنے کی سعی کی مگر ملاقات نہ ہو سکی۔ آخر ِ کار ایک اتوار ہم نے انہیں جا لیا۔ اُن کے بیٹے لیاقت ندیم (لکی) شہر سے باہر تھے۔ فالج کے باعث ندیم صاحب کی آمدو رفت اور حرکت خاصی متاثر تھی۔ اِس خیال سے کہ ہمیں گھر تلاش کرنے میں مشکل نہ پیش آئے، ہمیں لینے کے لئے وہ تیسری منزل سے نیچے اتر آئے۔ احوال دریافت کیا۔ روائتی انداز میں اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ وہ بہت نحیف ہو چکے تھے تو بھی زندگی سے مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔ پھر ایک رجسٹر اٹھا کر لے آئے۔ رجسٹر میں انہوں نے سٹونزآباد کی تاریخ لکھنے کا آغاز کر رکھا تھا۔ کوئی تین چار ہوں گے جو انہوں نے پڑھ کر سنائے۔ کتاب کا انتساب اپنی شریک حیات ”وکٹوریا جبیں“ کے نام کیا تھا۔ باقی باتیں زبانی بتانے لگے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ معلومات پادری خوب داس کی ڈائری سے حاصل کی گئی تھیں جو بشپ سمارٹ خوب داس نے اُن کے حوالے کی تھی۔ندیم صاحب اب آپ کو کون لکھ کر دیتا ہے؟ مَیں نے اپنے دِل میں چھپے تجسس کو اُن کے سامنے سوال کی صورت رکھ دیا۔ فرمایا کہ یہ چند صفحے اپنی بہو سے لکھوائے ہیں۔ اُس گھریلو ذمہ داریوں سے فرصت نہیں ملتی چنانچہ کتاب ادھوری ہے۔ جذبات سے عاری اِس جملہ کے اندر درد سے بھرا نشتر جاوید اور میری روح میں اتر گیا۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos