Author Editor Hum Daise View all posts
تحریرو تحقیق : شوکت جاوید
تاریخ کے اوراق میں بعض شخصیات ایسی ثبت ہو جاتی ہیں جن کا نام صرف ایک فرد کے طور پر نہیں بلکہ ایک تحریک، ایک نظریہ اور ایک مزاحمتی آواز کے طور پر زندہ رہتا ہے۔جو بظاہر دنیا کے لیے مر جاتے ہیں لیکن دلوں میں نقش ہوجاتے ان میں ایک نام بشپ ڈاکٹر جان جوزف کا بھی آتا ہے۔ یہ وہ شخصیت تھے۔ جو پاکستان میں مسیحی برادری کے نہ صرف روحانی پیشوا تھے بلکہ مظلوموں کے وکیل، انسانی حقوق کے علمبردار، اور انصاف کی راہ میں سینہ سپر رہنے والے ایک بے باک نڈر مسیحی سماجی اور مزہبی رہنما تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی، سماجی انصاف اور انسانی وقار کے لیے وقف رکھا، اور بالآخر اسی مقصد کی خاطر اپنی جان نچھاور کر کے تاریخ میں امر ہو گئے۔بشپ ڈاکٹر جان جوزف 15 نومبر 1932 کو پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے مذہبی علوم حاصل کیے اور پریسٹ کے منصب پر فائز ہوئے۔ اپنی علمی، روحانی اور انتظامی صلاحیتوں کے باعث جلد ہی کلیسیائی قیادت میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1984 میں انہیں فیصل آباد کا بشپ مقرر کیا گیا۔ ان کی قیادت میں کلیسیا صرف مذہبی سرگرمیوں تک محدود نہ رہی بلکہ سماجی بہبود، تعلیمی فروغ، غربت کے خاتمے اور انسانی حقوق کے میدانوں میں بھی فعال کردار ادا کرنے لگی۔
بشپ جان جوزف کا سب سے نمایاں وصف ان کی بے خوفی تھی۔ وہ اس اصول پر یقین رکھتے تھے کہ مذہبی قیادت کا فرض صرف عبادات کروانا نہیں بلکہ معاشرے میں انصاف، امن اور برابری کے قیام کے لیے جدوجہد کرنا بھی ہے۔ وہ بارہا کہتے تھے کہ اگر کلیسیا مظلوم کے حق میں آواز نہ اٹھائے تو وہ اپنے مقصد سے دور ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ہر اس موقع پر آواز بلند کی جہاں کسی انسان کے ساتھ ناانصافی ہوئی، خواہ وہ شخص مسیحی ہو، مسلمان ہو یا کسی اور عقیدے سے تعلق رکھتا ہو۔
پاکستان میں توہینِ مذہب کے قانون کے غلط استعمال کے باعث جب متعدد افراد جھوٹے الزامات، ذاتی دشمنیوں اور سماجی تعصبات کا نشانہ بننے لگے تو بشپ جان جوزف نے اس معاملے پر کھل کر آواز اٹھائی۔ ان کا اعتراض مذہب کے احترام پر نہیں بلکہ اس قانون کے غلط استعمال پر تھا ۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر کوئی قانون انصاف کے بجائے خوف، انتقام اور اقلیتوں کے استحصال کا ذریعہ بن جائے تو اس کی اصلاح ضروری ہے۔ انہوں نے بارہا حکومتی اور سماجی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کیا اور انصاف پر مبنی قانونی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ان کی جدوجہد کا نقطۂ عروج 1998 میں سامنے آیا جب ایک مسیحی نوجوان کو توہینِ مذہب کے مقدمے میں سزا سنائی گئی۔ بشپ جان جوزف نے اس فیصلے کو انصاف کے منافی قرار دیا اور بھرپور احتجاج کیا۔ 6 مئی 1998 کو بہاولپور کے قریب ساہیوال میں انہوں نے ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے پاکستان سمیت پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان کی شہادت محض ایک شخص کا اختتام نہیں تھی بلکہ یہ ایک شدید احتجاج، ایک علامتی پکار اور انصاف کے لیے ایک ناقابلِ فراموش اپیل تھی۔ان کی قربانی نے عالمی سطح پر پاکستان میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے مسئلے کو اجاگر کیا۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، مذہبی اداروں اور میڈیا نے اس واقعے کو نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔ بشپ جان جوزف کی جدوجہد نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کے اندر بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو انصاف، برابری اور انسانی وقار کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔بشپ جان جوزف کی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو بین المذاہب رواداری تھا۔ وہ نفرت کے بجائے مکالمے پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے مختلف مذاہب کے رہنماؤں کے ساتھ روابط بڑھائے اور ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی ترقی اور امن اسی وقت ممکن ہے جب تمام شہری بلاامتیاز مذہب و نسل برابر کے حقوق حاصل کریں۔ ان کے نزدیک مذہب تقسیم کا نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا ذریعہ ہونا چاہیے۔انہوں نے تعلیم کو بھی اقلیتوں کی ترقی کا بنیادی ستون قرار دیا۔ ان کے دور میں متعدد تعلیمی اداروں کی بہتری، نوجوانوں کی تربیت، اور غریب خاندانوں کی مدد کے منصوبے شروع کیے گئے۔ وہ جانتے تھے کہ صرف احتجاج کافی نہیں، بلکہ ایک مضبوط اور باشعور معاشرہ تشکیل دینا بھی ضروری ہے۔ اسی لیے انہوں نے نوجوان نسل کو شعور، تعلیم اور کردار سازی کی طرف راغب کیا۔بشپ جان جوزف کی قربانی آج بھی پاکستان کے مسیحیوں اور دیگر انصاف پسند طبقات کے لیے حوصلے اور بیداری کی علامت ہے۔ ان کا نام صرف ایک مذہبی رہنما کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے قومی ضمیر کے طور پر لیا جاتا ہے جس نے مظلوموں کی خاموش چیخ کو اپنی آواز بنایا۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچی قیادت وہی ہے جو اقتدار یا شہرت کے لیے نہیں بلکہ اصولوں کے لیے زندہ رہے۔آج جب دنیا مذہبی انتہا پسندی، عدم برداشت، اور سماجی تقسیم کے مسائل سے نبرد آزما ہے، بشپ جان جوزف کی زندگی پہلے سے زیادہ اہم محسوس ہوتی ہے۔ ان کا پیغام واضح تھا: انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں، اور برابری کے بغیر ریاست مضبوط نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ ضمیر کی آواز اگر سچی ہو تو وہ موت کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔پاکستان جیسے متنوع معاشرے میں بشپ جان جوزف کی جدوجہد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قومی ترقی صرف اقتصادی منصوبوں سے نہیں بلکہ انصاف، مساوات اور شہری آزادیوں کے تحفظ سے ممکن ہوتی ہے۔ اگر کسی معاشرے میں کمزور خوف میں زندہ ہوں، اگر اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہوں، اور اگر قانون سب کے لیے برابر نہ ہو تو ترقی کا ہر دعویٰ ادھورا رہ جاتا ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ بشپ ڈاکٹر جان جوزف محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک فکر تھے ۔ایسی فکر جو ظلم کے سامنے خاموش رہنے سے انکار کرتی ہے، ایسی فکر جو مذہب کو انسانیت کی خدمت کا وسیلہ سمجھتی ہے، اور ایسی فکر جو انصاف کی خاطر ہر قربانی دینے کو تیار رہتی ہے۔
آج ان کی برسی صرف ایک یادگار دن نہیں بلکہ خود احتسابی کا موقع بھی ہے۔ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا ہم نے ان کے خوابوں کے پاکستان کی طرف کوئی قدم بڑھایا؟ کیا ہم نے ایسا معاشرہ تشکیل دیا جہاں ہر شہری برابر ہو؟ کیا ہم نے نفرت کی جگہ احترام اور امتیاز کی جگہ انصاف کو ترجیح دی؟ اگر نہیں، تو بشپ جان جوزف کی قربانی ہم سے اب بھی سوال کر رہی ہے۔بشپ ڈاکٹر جان جوزف کا نام پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ وہ ایک نڈر راہنما، ایک حساس انسان، ایک عظیم مذہبی پیشوا اور انصاف کے شہید تھے۔ ان کی زندگی اور قربانی آنے والی نسلوں کو ہمیشہ یہ سبق دیتی رہے گی کہ حق کی راہ مشکل ضرور ہوتی ہے، مگر اسی راہ پر چلنے والے تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔“جو حق کے لیے کھڑا ہوتا ہے، وہ وقت کے سامنے نہیں جھکتااور جو” مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ تاریخ میں امر ہو جاتا ہے” اور یہ سوال ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو بااختیار ہوکر بھی اپنی قوم کے لیے کچھ نہیں کر پا رہے















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *