Author Editor Hum Daise View all posts
شوکت جاوید
میرا ایک دوست یے اسکا تکیہ کلام ہے” او یار محبت بہت ستاندی ایہ” آج لیٹے لیٹے یونہی اسکا جملہ میرے زہن میں آیا یقین جانیئے میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔اور لفظ محبت پہ غور کرنے لگا کہ چار حروف پہ مشتمل یہ لفظ کیسے بنا اور یہ کیوں ستاتا ہے۔آئیں میرے ساتھ دیکھیں
م۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مروّت
یعنی دوسروں کے ساتھ نرمی، رحم اور اچھا سلوک کرنا۔محبت میں سختی نہیں بلکہ شفقت ہوتی ہے۔
ح — حیا
محبت انسان کو ادب، احترام اور پاکیزگی سکھاتی ہے۔جہاں حیا ہو، وہاں محبت کی خوبصورتی بڑھ جاتی ہے۔
ب — بخشش
محبت معاف کرنا سکھاتی ہے۔
اپنوں کی غلطیوں کو درگزر کرنا بھی محبت ہے۔
ت — تعاون
یعنی ساتھ دینا، سہارا بننا اور مشکل وقت میں ہاتھ تھامنا۔
محبت صرف لفظ نہیں بلکہ عمل کا نام ہے۔
محبت ایک ایسا احساس ہے جس میں انسان کسی دوسرے کے لیے گہری چاہت، خلوص، قربانی اور اپنائیت محسوس کرتا ہے۔
یہ صرف دل کی کشش نہیں بلکہ اعتماد، احترام، خیال اور ساتھ نبھانے کا نام بھی ہے۔
دنیا میں شاید ہی کوئی انسان ایسا ہو جس نے محبت کا نام نہ سنا ہو یا اس کے اثرات کو محسوس نہ کیا ہو۔ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کے دل میں خوشی بھی جگاتا ہے اور بے چینی بھی(یعنی دوست والی بات ٹھیک ہے کہ یہ بہت ستاتی ہے) پیدا کرتا ہے۔ یہ کبھی زندگی کو رنگوں سے بھر دیتی ہے اور کبھی تنہائی کے اندھیروں میں انسان کو خاموش کر دیتی ہے۔ اسی لیے بعض لوگ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں
“محبت بہت ستاتی ہے”
یہ ایک مختصر سا جملہ ہے مگر اس کے اندر جذبات کا ایک پورا سمندر پوشیدہ ہے۔ اس میں انتظار بھی ہے، بے قراری بھی، قربانی بھی اور یادوں کی چبھن بھی۔ محبت صرف کسی کو حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ کسی کے لیے دل میں جگہ بنانے کا نام ہے۔ اور جب دل کسی کے نام ہو جائے تو پھر اس کی خوشی خوشی لگتی ہے اور اس کا غم اپنا درد بن جاتا ہے۔
محبت انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ ایک بچہ دنیا میں آتے ہی سب سے پہلے ماں کی محبت محسوس کرتا ہے۔ ماں کی گود اس کے لیے دنیا کی سب سے محفوظ جگہ ہوتی ہے۔ پھر وقت کے ساتھ انسان دوستوں، بہن بھائیوں، شریکِ حیات، اولاد اور اپنے وطن سے محبت کرنا سیکھتا ہے۔ گویا محبت کے بغیر زندگی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ مگر یہی محبت جب شدت اختیار کر جائے تو انسان کے سکون کو بھی چھین لیتی ہے۔
بعض اوقات محبت میں سب کچھ ٹھیک ہونے کے باوجود ایک انجانی بے چینی رہتی ہے۔ انسان ہر وقت اسی شخص کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ اس کی آواز، اس کی باتیں، اس کی مسکراہٹ دل میں گونجتی رہتی ہے۔ اگر وہ ناراض ہو جائے تو دل بوجھل ہو جاتا ہے، اور اگر وہ دور چلا جائے تو وقت رک سا جاتا ہے۔ یہی کیفیت انسان کو یہ کہنے پر مجبور کرتی ہے کہ محبت واقعی بہت ستاتی ہے۔
محبت کا ایک پہلو انتظار بھی ہے۔ انتظار ایک ایسا امتحان ہے جو دل کو تھکا دیتا ہے۔ کسی کے ایک پیغام، ایک ملاقات یا ایک آواز کے لیے بے تاب رہنا آسان نہیں ہوتا۔ آج کے دور میں اگرچہ موبائل فون اور سوشل میڈیا نے فاصلے کم کر دیے ہیں، مگر دلوں کی بے قراری اب بھی وہی ہے۔ انسان گھنٹوں کسی کے آن لائن آنے کا انتظار کرتا ہے، ایک جواب نہ ملے تو دل میں ہزار سوال جنم لینے لگتے ہیں۔ یہ بھی محبت کی ایک اذیت ہے
حقیقت یہ ہے کہ محبت انسان کو کمزور نہیں بلکہ حساس بنا دیتی ہے۔ جو انسان محبت کرتا ہے وہ دوسروں کے درد کو بھی محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ نرم دل ہو جاتا ہے، معاف کرنا سیکھتا ہے اور قربانی دینے لگتا ہے۔ مگر جب یہی محبت بے قدری کا شکار ہو جائے تو انسان اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے۔
آج کے معاشرے میں محبت کا مفہوم بھی بدلتا جا رہا ہے۔ بہت سے لوگ محبت کو صرف وقتی جذبات یا ظاہری کشش سمجھتے ہیں، جبکہ سچی محبت ذمہ داری، وفاداری اور احترام کا نام ہے۔ صرف “میں تم سے محبت کرتا ہوں” کہہ دینا کافی نہیں، بلکہ محبت کو نبھانا اصل امتحان ہے۔ محبت میں انسان کو دوسرے کی عزت، احساسات اور اعتماد کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔
محبت صرف رومانوی تعلقات تک محدود نہیں۔ انسانیت سے محبت، والدین سے محبت، دوستوں سے محبت اور خدا سے محبت بھی زندگی کا حسن ہیں۔ ایک استاد اپنے شاگرد سے محبت کرتا ہے، ایک ڈاکٹر اپنے مریض کی تکلیف محسوس کرتا ہے، ایک سماجی کارکن انسانیت کی خدمت میں سکون ڈھونڈتا ہے۔ یہ سب محبت کی مختلف شکلیں ہیں۔
روحانی اعتبار سے دیکھا جائے تو محبت انسان کو خدا کے قریب بھی لے جاتی ہے۔ جب انسان دل سے محبت کرنا سیکھ لیتا ہے تو اس کے اندر نفرت کم ہونے لگتی ہے۔ وہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، معاف کرنا سیکھتا ہے اور خدمتِ خلق میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیاء نے محبت کو عبادت قرار دیا ہے۔
لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ محبت کبھی کبھی انسان کو شدید اذیت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ جدائی، بے وفائی، غلط فہمیاں اور خاموشیاں دل کو زخمی کر دیتی ہیں۔ بعض لوگ بظاہر مسکراتے رہتے ہیں مگر اندر سے ٹوٹ چکے ہوتے ہیں۔ ان کے چہرے پر سکون ہوتا ہے مگر دل میں ایک طوفان چل رہا ہوتا ہے۔ ایسے ہی لمحوں میں انسان کے لبوں پر یہی جملہ آتا ہے:
“محبت بہت ستاتی ہے۔”
اس کے باوجود انسان محبت کرنا نہیں چھوڑتا۔ کیوں؟ کیونکہ محبت زندگی کی سب سے خوبصورت ضرورت ہے۔ نفرت انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے جبکہ محبت اسے جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔ محبت میں درد ضرور ہے، مگر یہی درد انسان کو بہتر انسان بھی بناتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محبت کو صرف جذبات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے احترام، اعتماد اور خلوص کے ساتھ نبھائیں۔ اگر محبت میں سچائی ہو تو یہ انسان کی زندگی بدل سکتی ہے۔ محبت دوسروں کو جیتنے سے پہلے خود کو بہتر بنانے کا نام ہے۔
محبت کسی لڑکی سے ہو جائے تو تخت ہزارہ چھڑواکر 11 سال بھینسیں چرواتی ہے اور مرزے سے ہوجائے تو یہ کہنے پر مجبور ہوجاتی ہے کہ” گلیاں ہوجان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے”
اور یہی محبت اگر خدمت خلق سے ہوجائے تو پھر ڈاکٹر رتھ فاؤ جیسی ہستیاں
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ محبت واقعی بہت ستاتی ہے، مگر یہی ستانا انسان کو جینے کا احساس بھی دیتا ہے۔ محبت کے بغیر زندگی شاید آسان تو ہو، مگر خوبصورت نہیں۔ کیونکہ محبت ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کے دل کو دھڑکن، آنکھوں کو خواب اور زندگی کو معنی دیتا ہے۔
خدا ہم سبکو محبت کے معنی سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *