Author Hum Daise View all posts
سمیراجمل
پنجاب کے دوسرے بڑے شہرے فیصل آباد کے سرکاری ہسپتالو ں میں ادویات کی فراہمی کے لئے 40کروڑ روپے کی گرانٹ طلب کر لی گئی ہے ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سال 2026-2027کے بجٹ میں سرکاری ہسپتالوں (ڈی ایچ کیوز‘ ٹی ایچ کیوز‘ رورل ہیلتھ سنٹرز اور ڈسپنسریوں) میں ادویات کی فراہمی کے لئے 40کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے جو کہ گزشتہ سال کی نسبت 8کروڑ روپے زائد ہے گزشتہ سال بجٹ میں ادویات کی فراہمی کے لئے 32کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آبادی اور بیماریوں میں اضافے کے تناسب سے یہ رقم دگنی کی جاتی مگر بتانے والے بتارہے کہ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے محتاط انداز میں جس طرح سے رقم میں اضافے کا کہا گیاہے صوبائی حکومت یہ بھی دینے کو تیار نہیں اور کہا جا رہا کہ بجٹ تجاویز کے حوالے سے نظر ثانی کی جائے جس سے واضح ہوجاتاہے کہ بجٹ کے حوالے سے حکومتی ترجیحات کیا ہے اور وہ کس قدر عوام کو ریلف دینا چاہتی ہے مگر آفرین ہیں بجٹ بنانے اور اس پر بھاشن دینے والوں پر جو الفاظ کے گورکھ دھندے سے بجٹ کو اس قدر پرکشش بنا دیتے ہیں جس سے لگتا ہے کہ آنے والا بجٹ عوام کو وہ ریلیف دے گا کہ یہ پچھلے سب دکھ بھول جائیں گے مگر جب بجٹ کا اعلان کیا جاتا ہے تو اگلے پچھلے سب زخم دوبارہ سے ہرے ہو جاتے ہیں اور وہ بجٹ جو کہ ریلیف کا ذریعہ نظر آرہا ہوتاہے اعلان کے بعد گلے کا پھندا لگنے لگتا ہے اور لوگ پھر سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ بجٹ بھی سیاسی عمل کا حصہ ہے جس کی سیاست معاشی طور پر مضبوط (کاروباری) افراد کو تحفظ فراہم کرنے کے گرد گھومتی ہے اس میں عام آدمی کے لئے ریلیف کا کوئی پہلو نہیں ہے کہا تو یہی جا رہا ہے کہ تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافے کا امکان ہے اور صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اس قدر اضافہ کیا جائے جس سے عام آدمی کے لئے صحت عامہ اور تعلیم کی سہولیات میسر ہوں مگر صورتحال اس کے الٹ ہے جب ادویات فراہمی کے بجٹ میں اضافہ نہ کرنے اور بھجوائی گئی تجاویز بارے نظر ثانی کا کہا جائے تو پھر یہ اندازہ لگایا جا سکتاہے بجٹ میں ترجیحات کیا ہیں حکومتی نمائندگان کے منہ سے ہی یہ سننے کو مل رہا ہے کفایت شعاری کے نام پر صحت اور تعلیم کے بجٹ میں 35ارب روپے کا کٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف پنجاب حکومت 50ایکڑ پر مشتمل فلم سٹی بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے لئے رقم بھی بجٹ میں مختص کی جائے گی کلچرل سرگرمیوں کا فروغ احسن اقدام مگر اس کے لئے عوام سے تعلیم اور صحت عامہ جیسی سہولیات کا چھینا جانا بھی درست نہیں ہے اس حوالے سے حکومتی نمائندگان کا کہنا ہے تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اگر کٹ لگایا بھی گیا تو اس سے عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور ریلیف پر کوئی فرق نہیں پڑے گا حکومتی نمائندگان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کسان کارڈ کا دائر ہ کار بڑھاناچاہتی ہے جس کے ذریعے کسانوں کو 200ارب روپے سے زائد کا فائدہ دیا جا چکا ہے اور 99فیصد کاشتکار کسان کارڈ سے مستفیذ ہوچکے ہیں حکومت چاہتی ہے کہ پنجاب کے سو فیصد کاشتکار کسان کارڈ سے مستفیذ ہوسکیں یہ اچھا اقدام ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہئے کہ ایسے اقدامات بھی کئے جائیں جس سے پنجاب کے سو فیصد شہری صحت اور تعلیم کی سہولیات سے مستفیذ ہو سکیں

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *