مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


عالمی یومِ خواتین اور پاکستان کی غیر محفوظ اقلیتی بیٹیاں

عالمی یومِ خواتین اور پاکستان کی غیر محفوظ اقلیتی بیٹیاں

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

تحریر: سموئیل بشیر
مساوات اور انصاف کے دعووں کے باوجود پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کی بیٹیاں آج بھی کئی بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ معاشرے کے کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والی بہت سی لڑکیاں عدم تحفظ، سماجی دباؤ اور قانونی پیچیدگیوں کے ماحول میں زندگی گزار رہی ہیں۔ اقلیتی خواتین کو بیک وقت صنفی اور مذہبی امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ان کے مسائل مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ جبری تبدیلی مذہب، کم عمری کی شادی اور سماجی کمزوری جیسے عوامل ان کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں خواتین کے حقوق اور مساوات کی عالمی بحث پاکستان میں ایک خاص اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔اسی تناظر میں ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ خواتین کے حقوق، مساوات اور بااختیار بنانے کے عزم کو اجاگر کیا جا سکے۔
پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 20 کے تحت ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل اور اس کی تبلیغ کی آزادی حاصل ہے۔
آرٹیکل 25 تمام شہریوں کی مساوات کو تسلیم کرتا ہے اور صنفی امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
آرٹیکل 36 ریاست کو اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کا پابند بناتا ہے۔
یہ آئینی دفعات واضح کرتی ہیں کہ مذہبی اقلیتوں، خصوصاً خواتین، کو مکمل تحفظ اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں، مگر اصل مسئلہ ان پر مؤثر عملدرآمد کا ہے۔
پاکستان کی عدلیہ نے مختلف مواقع پر اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے مفید راہنمائی فراہم کی ہے۔ خصوصی طور پرسپریم کورٹ کی 19 جون 2014 کی جسٹس تصدق حسین جیلانی جیجمنٹ جو عدالتی تاریخ میں اپنا مقام رکھتی ہے۔
اس تاریخی فیصلہ میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس فیصلے میں عبادت گاہوں کے تحفظ، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ اور اقلیتوں کے حقوق کی نگرانی کے لیے مؤثر ادارہ جاتی نظام قائم کرنے پر زور دیا گیا۔
گزشتہ برسوں میں اقلیتی لڑکیوں کی جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادی کے کئی کیسز سامنے آئے ہیں جنہوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر تشویش کو جنم دیا2012 میں سندھ کی ہندو لڑکی رینکل کماری کا مقدمہ خاصی شہرت اختیار کر گیاکراچی کی مسیحی لڑکیاں ہما یونس اور آرزو راجہ کے مقدمات بھی کافی عرصہ میڈیا کی توجہ کا مرکز رہے۔ اس کے علاوہ بے شمار ہندو اور مسیحی لڑکیوں کے کیسز ہیں جو ملکی اور غیر ملکی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے۔ یہ تمام کیسز اقلیتی لڑکیوں کے تحفظ کے حوالے سے کئی سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ کیونکہ اگرچہ ہر سال رپورٹ ہونے والے کیسز سینکڑوں میں ہیں، لیکن رپورٹ نہ ہونے والے واقعات ہزاروں میں ہیں، جو عزت اور خوف کی وجہ سے سامنے نہیں آنے، اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا سسٹم ہے۔ان واقعات نے یہ واضح کیا کہ یہ مسئلہ محض چند انفرادی کیسز تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی اور قانونی چیلنج کی صورت اختیار کر چکا ہے۔پاکستان میں انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس کے مطابق ہر سال اقلیتی کمیونٹیز کی کم عمر لڑکیوں کے متعدد کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جن میں اغوا، کم عمری کی شادی اور مذہبی تبدیلی شامل ہیں اکثر کیسز میں عمر کے تعین، رضامندی کے تعین اور قانونی کارروائی میں تاخیر جیسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خواتین کی ترقی کے پائیدار اہداف کے تحت خواتین کے تحفظ اور مساوات کو بنیادی انسانی حقوق قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان چونکہ ان عالمی معاہدات کا حصہ ہے، اس لیے ریاست پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ موثر قانون سازی، بہتر ادارہ جاتی نظام اور سماجی آگاہی کے اقدامات کو یقینی بنائے۔جب تک پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کی بیٹیاں خوف اور عدم تحفظ کے ماحول سے آزاد نہیں ہوتیں، تب تک مساوات اور انصاف کے دعوے ادھورے رہیں گے، اور عالمی یومِ خواتین کی حقیقی روح کا شعور صرف نعروں تک محدود رہے گا۔ آئین اور قانون راستہ دکھاتے ہیں، مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ اصول عملی زندگی میں بھی مکمل طور پر نافذ ہوں گے۔


Author

1 comment
Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

1 Comment

  • Waqas bhatti
    March 7, 2026, 9:34 am

    Good

    REPLY

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author