مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


مذہبی ادارے اور نوجوان نسل!

مذہبی ادارے اور نوجوان نسل!

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

تحریر : شوکت جاوید
ان دنوں ایک سیاستدان کے بیان نے مزہبی اداروں کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔کبھی وہ اپنی چارپائی کے اوپر دیکھتے ہیں اور کبھی نیچے کچھ نظر نہیں آتا۔میں اس بحث کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کہ کون جھوٹا ہے اور کون سچا۔آئیں میرے ساتھ اس حقیقت کو جانیں کہ
آج کے تیز رفتار اور بدلتے ہوئے دور میں جہاں ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور عالمی ثقافتی اثرات نے انسانی سوچ اور طرزِ زندگی کو یکسر تبدیل کر دیا ہے، وہیں مذہبی اداروں اور نوجوان نسل کے درمیان تعلق ایک نہایت اہم مگر پیچیدہ موضوع بن چکا ہے۔ یہ تعلق صرف عبادات، رسومات یا روایات تک محدود نہیں بلکہ فکری رہنمائی، اخلاقی تربیت، اور سماجی استحکام کا بنیادی ستون بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے مذہبی ادارے اس بدلتے ہوئے دور میں نوجوان نسل کی رہنمائی مؤثر انداز میں کر پا رہے ہیں؟ یا پھر دونوں کے درمیان ایک خاموش خلیج جنم لے چکی ہے؟نوجوان نسل کسی بھی معاشرے کا سب سے متحرک اور حساس طبقہ ہوتی ہے۔بلکہ میں جہاں تک کہوں گا کہ اگر معاشرے کو جسم کہیں تو نوجوان اس جسم کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ جب کسی جسم کی ریڈھ کی ہڈی خراب ہو جاتی ہے تو سارا جسم کس کرب سے گزرتا ہے آپ مجھ سے بہتر واقف ہیں ۔ آجکی نوجوان نسل سوال کرتی ہے، دلیل مانگتی ہے، اور ہر بات کو پرکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی وہ عمر ہوتی ہے جہاں شخصیت کی تشکیل ہوتی ہے اور نظریات پروان چڑھتے ہیں۔ اگر اس مرحلے پر درست رہنمائی نہ ملے تو نوجوان یا تو انتہاپسندی کا شکار ہو سکتے ہیں یا پھر مکمل بے راہ روی کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ یہاں مذہبی اداروں کا کردار نہایت کلیدی ہو جاتا ہے۔روایتی طور پر مذہبی ادارے چاہے وہ مدارس ہوں، گرجا گھر ہوں یا دیگر عبادت گاہیں ہمیشہ سے اخلاقی اور روحانی تربیت کے مراکز رہے ہیں۔ انہوں نے معاشرے میں اچھائی، محبت، برداشت اور خدمت کے جذبے کو فروغ دیا۔ لیکن جدید دور کے تقاضے مختلف ہیں۔ آج کا نوجوان صرف نصیحت سننے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ کس عمل کے پیچھے کیا حکمت ہے۔ وہ مذہب کو محض رسومات نہیں بلکہ ایک زندہ اور عملی ضابطۂ حیات کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔
بدقسمتی سے، کئی مذہبی ادارے اب بھی پرانے طریقۂ تدریس اور یک طرفہ خطاب تک محدود ہیں۔ نوجوانوں کے سوالات کو اکثر شک یا بغاوت سمجھ لیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ سوالات فہم و ادراک کی علامت ہوتے ہیں۔ جب نوجوان کو جواب نہیں ملتا، تو وہ متبادل ذرائع اکثر غیر مستند کی طرف رجوع کرتا ہے، جس کے نتیجے میں فکری انتشار پیدا ہوتا ہے۔دوسری جانب، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے معلومات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی غلط معلومات اور گمراہ کن نظریات بھی تیزی سےپھیل رہے ہیں۔ ایسے میں مذہبی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جدید ذرائع کو اپناتے ہوئے نوجوانوں تک مستند اور متوازن پیغام پہنچائیں۔ آن لائن لیکچرز، ویبینارز، اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے وہ نوجوانوں کے قریب آ سکتے ہیں اور ان کے سوالات کا بروقت جواب دے سکتے ہیں۔تحقیقی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو دنیا بھر میں وہی مذہبی ادارے کامیاب ہو رہے ہیں جو نوجوانوں کو صرف سننے والا نہیں بلکہ شامل کرنے والا بنا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، کئی ادارے نوجوانوں کو سماجی خدمت، فلاحی سرگرمیوں، میں شامل کر رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف ان کی عملی تربیت ہوتی ہے بلکہ وہ مذہب کو ایک مثبت اور تعمیری قوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں، صورتحال مزید حساس ہے۔ یہاں مذہب کا کردار معاشرتی زندگی میں بہت گہرا ہے، مگر اس کے باوجود نوجوان نسل میں ایک خاص قسم کی دوری محسوس کی جا رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مذہبی بیانیہ اکثر یک رخا ہوتا ہے اور نوجوانوں کے ذہنی و سماجی مسائل کو مکمل طور پر ایڈریس نہیں کرتا۔ بے روزگاری، تعلیمی دباؤ، اور شناخت کا بحران جیسے مسائل نوجوانوں کو اندر سے کمزور کر دیتے ہیں، اور اگر مذہبی ادارے ان مسائل پر خاموش رہیں تو ان کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ مذہبی تعلیم کا مقصد صرف عبادات کی ادائیگی سکھانا نہیں بلکہ ایک مکمل انسان بنانا ہے۔ ایسا انسان جو سچائی، دیانتداری، انصاف اور محبت کا پیکر ہو۔ اگر مذہبی ادارے اپنی تعلیمات میں ان اقدار کو عملی طور پر شامل کریں اور خود بھی ان کا نمونہ پیش کریں، تو نوجوان خود بخود ان کی طرف مائل ہوں گے۔بائبل کا یہ اصول نہایت خوبصورت رہنمائی فراہم کرتا ہے۔”اپنی جوانی کے دنوں میں اپنے خالق کو یاد کر “(جامع 12:1)۔ اس آیت میں نوجوانی کی اہمیت اور اس دور میں درست سمت اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اسی طرح ایک اور مقام پر کہا گیا “نوجوان اپنی روش کو کس طرح پاک رکھیگا۔تیرے کلام کی تعمیل سے -( مزامیر 119:9)۔ یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ نوجوانوں کی تربیت میں خدا کے کلام اور درست رہنمائی کا کتنا اہم کردار ہے۔
مذہبی اداروں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے ساتھ ایک دوستانہ اور مکالماتی ماحول پیدا کریں، جہاں وہ بلا خوف اپنے سوالات پوچھ سکیں۔ سختی اور جبر کے بجائے محبت، حکمت اور صبر کے ساتھ رہنمائی کی جائے۔ کیونکہ زبردستی مسلط کیا گیا نظریہ دیرپا نہیں ہوتا، جبکہ محبت سے دی گئی تعلیم دلوں میں جگہ بناتی ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مذہبی ادارے اور نوجوان نسل ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اگر یہ دونوں ہم آہنگ ہو جائیں تو ایک مضبوط، متوازن اور پرامن معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔ لیکن اگر ان کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے تو اس کا نقصان نہ صرف مذہبی اداروں کو ہوگا بلکہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ مذہبی ادارے خود احتسابی کریں، جدید تقاضوں کو سمجھیں، اور نوجوانوں کو اپنا ساتھی بنائیں ۔نہ کہ صرف سننے والے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک روشن، بااخلاق اور مستحکم مستقبل کی ضمانت دے سکتا ہے۔
پاکستان پائندہ باد

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author