Author Editor Hum Daise View all posts
خالد شہزاد
آصف علی زرداری نے کرسمس، ہولی اور اب بیساکھی (14 اپریل 2026) کے موقع پر روایتی طور پر سکھ یاتریوں، ہندو اور دیگر اقلیتوں کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے اقلیتوں کے کردار کی تعریف کی، آئین پاکستان میں دیے گئے حقوق اور مذہبی آزادی کی ضمانت دی، اور کہا کہ حکومت یاتریوں کی سہولیات اور سیکورٹی کو یقینی بنائے گی۔ یہ پیغامات خوبصورت اور خوش آئند ہیں، لیکن زمینی پر صورتحال اس سے بہت مختلف ہے۔پاکستان میں اقلیتوں (مسیحی ، ہندو، سکھ، احمدی اور دیگر) کے ساتھ مسائل طویل عرصے سے جاری ہیں ، توہین رسالت کے قوانین کا غلط استعمال اکثر ذاتی جھگڑوں، زمین کے تنازعات یا بلیک میل کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مبینہ الزامات پر مشتعل ہجوم حملے کر دیتے ہیں، چرچ جلائے جاتے ہیں، گھر لوٹے جاتے ہیں۔ 2023-2025 کے دوران جڑانوالہ، فیصل آباد اور دیگر جگہوں پر ایسے واقعات ہوئے جن میں مسیح برادری شدید متاثر ہوئی۔ 2024-2025 میں بھی blasphemy الزامات میں اضافہ دیکھا گیا۔ جبری تبدیلی مذہب: خاص طور پر سندھ میں ہندو لڑکیوں (اور پنجاب میں مسیحی لڑکیوں) کا اغوا، جبری تبدیلی اور شادی کے واقعات عام ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ہدف بنا کر سکھ دکانداروں کا قتل اور تشدد کرنا سکھمسیحی عملہ صفائی کارکنوں اور احمدیوں پر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ ، احمدیوں کی مساجد، قبروں کی بے حرمتی اور حملے بھی جاری ہیں۔ سماجی اور ریاستی سطح پر امتیاز: نوکریوں، تعلیم اور روزمرہ زندگی میں discrimination۔ اقلیتوں کے مذہبی مقامات اور قبروں کی بے حرمتی بھی ہوتی رہتی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں جیسے USCIRF، HRCP، Human Rights Watch اور Open Doors کی رپورٹس میں پاکستان کو بار بار مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ 2025 میں بھی blasphemy سے متعلقہ mob violence اور forced conversions کے کیسز جاری رہے۔ سندھ اور پنجاب اقلیتی بچیوں کے اغوا برائے شادی اور تبدیلی مزہب ایک ہی تلخ حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں کہ مسئلہ چند انفرادی واقعات کا نہیں بلکہ ایک بگڑے ہوئے نظام اور جنگل کے قانون کا ہے۔ جی ہاں، یہ نظام کی ناکامی ہے — اور نہ صرف ایک، بلکہ کئی جہتوں کی ناکامی۔ (شمائلہ چانڈیو، ماریا شہباز، سویرا ننکانہ، پوجا حیدر آباد اور صادق آباد کی کرسچین بہنیں)، وہ الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی بنیادی مسئلے کے مختلف مظاہر ہیں: سماجی روایات کی بالادستی، قانونی عملدرآمد کی کمزوری، پولیس اور عدلیہ میں اثر و رسوخ، اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک۔واقعات کی حقیقت (تازہ ترین معلومات کے مطابق) شمائلہ چانڈیو (سندھ، ہالا): 14 سالہ لڑکی کو اس کے کزنز (واجد اور راشد چانڈیو) نے گھر سے اغوا کیا، کیونکہ وہ شادی کی تجویز مسترد کر چکی تھی۔ اسے قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کیا اور انہوں نے اعتراف بھی کیا۔ یہ “غیرت” یا خاندانی جھگڑے کا کیس لگتا ہے، جو سندھ میں کارو کاری (honour killing) کی ایک اور مثال ہے۔ سندھ میں 2025 میں ہی 142 سے زائد honour killings ہوئیں (105 خواتین سمیت)، اور 2026 میں بھی احتجاج جاری ہیں۔ ماریا شہباز (پنجاب): 13 سالہ کرسچین لڑکی کا اغوا، مبینہ طور پر زبردستی اسلام قبول کرایا گیا اور شادی۔ والدین نے سرکاری کاغذات( نادرا کا ب فارم ) پیش کیے، مگر مارچ 2026 میں وفاقی آئینی عدالت نے “بالغ ” کا فیصلہ دے کر لڑکی کو مبینہ اغوا کرنے والے کے حوالے کر دیا۔ یہ کیس اقلیتوں کی لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے زبردستی تبدیلی مذہب اور کم عمر شادی کے نمونے کو ظاہر کرتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ سویرا (ننکانہ صاحب، پنجاب): کرسچین لڑکی کے ساتھ محمد فیضان نے مبینہ زیادتی کی جسکو شدید زخمی حالت میں چھوڑ کر ملزمان فرار ہو گئے ، سویرا کو اسکے والدین نے لاہور کے سرکاری ہسپتال میں علاج کی غرض سے داخل کروایا ہے ۔ پولیس نے تین دن تک FIR درج نہیں کی اور نہ ہی میڈیکو لیگل کی اجازت دی — یہ پولیس کی غفلت یا دباؤ کی واضح مثال ہے۔صادق آباد کی کرسچین دو کمسن بہنوں کو اغوا کرکے کراچی میں فروخت کرکے جنسی زیادتی کی گئی جسکی وجہ سے ایک بہن (مقدس) کی موت ہو گئی۔ ایسے کیسز میں trafficking اور minorities کے خلاف جرائم کا عنصر غالب ہوتا ہے۔یہ واقعات جنگل کا قانون چلا رہے ہیں جہاں جرگہ، وڈیرہ نظام، خاندانی “غیرت” مزہبی لگاؤ اور اثر رسوخ اور طاقتور لوگوں کا قانون سے کھلواڑ ہے۔ اصل مسئلہ کیا ہے؟ (سادہ اور تلخ جواب) قانون تو موجود ہے( غیرت کے نام پر قتل) کے خلاف 2016 کا قانون (قصاص و دیت ایکٹ میں ترمیم)
کم عمر شادی( چائلڈ ریسٹرنٹ ایکٹ) کے خلاف قوانین۔ اقلیتوں کے حقوق کی آئینی ضمانت۔
مگر عملدرآمد تقریباً صفر ہے۔ وجوہات، سماجی روایات کی گہری جڑیں: “غیرت”، جرگہ، وڈیرہ/سردار نظام — خاص طور پر دیہی سندھ اور پنجاب میں۔ لوگ قانون کی بجائے قبائلی فیصلے مانتے ہیں۔ سماج خاموش تماشائی بن جاتا ہے یا ملزمان کی حمایت کرتا ہے۔ پولیس کی جانب سے ملزمان کے خلاف FIR درج نہ کرنا یا تاخیر، دباؤ میں آ کر کیس کمزور کرنا۔ اکثر متاثرین غریب یا اقلیت ہوتے ہیں، جن کے پاس وسائل نہیں۔ عدلیہ میں مسائل کچھ فیصلے (جیسے ماریا شہباز) دستاویزات کو نظر انداز کر کے “مچور ایج” یا “رضامندی” کا دعویٰ قبول کر لیتے ہیں۔ نچلی سطح پر تاخیر اور اثر و رسوخ عام ہے۔ سیاسی ، مزہبی اور معاشرتی بے حسی طاقتور لوگ (وڈیرے، سیاستدان) ملوث ہوں تو کیس دب جاتا ہے۔ اقلیتوں (کرسچین، ہندو) کے کیسز میں مذہبی نعفرت اور شرعی ثواب کا عنصر بھی شامل ہو جاتا ہے جسکی وجہ سے ہزاروں لڑکیاں سالانہ اس کا شکار ہوتی ہیں۔اعداد و شمار: HRCP اور سندھ پولیس کے مطابق honour killings میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سندھ میں 2025 میں 43% اضافہ ریکارڈ ہوا۔ Conviction rate بہت کم ہے۔یہ صرف “انفرادی جرائم” نہیں، بلکہ نظام کی ساخت کا نتیجہ ہے جو روایات کو قانون پر فوقیت دیتا ہے۔ وفاقی حکومت سمیت صوبائی حکومتیں سنجیدگی کے ساتھ ہر کیس میں 24-48 گھنٹے میں FIR، میڈیکو لیگل، اور تحفظ۔ خاص عدالتوں کے پیچیدہ اور مشکل نظام سمیت پولیس اصلاحات و تربیت، احتساب، اور سیاسی مداخلت ختم کرکے میرٹ اور برابری کا رجحان لایا جائے جس سے سماجی تبدیلی کے ساتھ ساتھ حکومت کی نیک نامی میں بھی اضافہ ہو گا۔ تعلیم، مذہبی رہنماؤں کا کردار، اور “غیرت” کی غلط تفہیم کے خلاف مہم چلا کر جرگہ کو سختی سے غیر قانونی قرار دیکر سیاسی و وڈیرہ شاہی کا خاتمہ وقت کی عین ضرورت ہے۔جب تک قانون صرف کتابوں میں رہے گا اور روایات میدان میں، تب تک یہ واقعات “خبریں” نہیں، روزمرہ کی تلخ حقیقت بنی رہیں گی۔ انصاف تاخیر سے ملے تو وہ انصاف نہیں، مذاق بن جاتا ہے۔

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *