مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


کمزور کندھے، بھاری بوجھ۔۔۔

کمزور کندھے، بھاری بوجھ۔۔۔

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

شوکت جاوید

بچے کسی بھی قوم کا مستقبل، معاشرے کی امید اور انسانیت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں کتابیں، آنکھوں میں خواب اور دلوں میں امنگیں ہونی چاہئیں، لیکن دنیا بھر میں کروڑوں بچے ایسے ہیں جن کے کمزور کندھوں پر غربت، محرومی اور مشقت کا بھاری بوجھ لدا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال 12 جون کو World Day Against Child Labour (بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن) منایا جاتا ہے تاکہ دنیا کو اس سنگین مسئلے کی طرف متوجہ کیا جا سکے۔12 جون کو عالمی یوم تدارکِ چائلڈ لیبر منایا جا رہا ہے، اور اس موقع پر پاکستان کی صورتِ حال انتہائی تشویشناک ہے۔ 2024ء کے سروے کے مطابق پاکستان میں 5 سے 14 سال کی عمر کے تقریباً ایک کروڑ بیس سے تیس لاکھ بچے مزدوری پر مجبور ہیں، جو 2016ء کے اعداد و شمار کے مقابلے میں قدرے اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ صوبائی سطح پر دیکھیں تو خیبرپختونخوا میں چائلڈ لیبر کی شرح سب سے زیادہ 28.1 فیصد ہے، اس کے بعد سندھ میں 23.5 فیصد، گلگت بلتستان میں 18.2 فیصد، پنجاب میں 15.5 فیصد اور بلوچستان میں 14.6 فیصد ہے۔ خیبرپختونخوا کے تازہ ترین سروے کے مطابق صوبے میں 5 سے 17 سال کی عمر کے 9 فیصد بچے یعنی 7 لاکھ 45 ہزار 440 بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں، اور ان میں سے 73.8 فیصد خطرناک پیشوں میں کام کرتے ہیں۔ ان بچوں کو بھٹہ خشت، قالین بافی، شیشے کی چوڑیاں، چمڑے کی صنعت، سرجیکل آلات سازی اور کوئلے کی کانوں میں جھونک دیا جاتا ہے۔ غربت، تعلیمی سہولیات تک رسائی کا فقدان، خاندانی دباؤ، قوانین کا کمزور نفاذ اور استحصالی آجر اس مسئلے کے بنیادی اسباب ہیں۔ عالمی سطح پر ILO اور یونیسف کی 2024ء کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 13 کروڑ 80 لاکھ بچے چائلڈ لیبر میں مبتلا ہیں، جن میں سے تقریباً 5 کروڑ 40 لاکھ خطرناک کاموں میں لگے ہوئے ہیں — اور دنیا 2025ء تک چائلڈ لیبر ختم کرنے کا اپنا ہدف حاصل نہیں کر سکی۔ پاکستان میں 2024ء میں حکومت نے انسانی اسمگلنگ کے 2688 ملزمان کی تحقیقات کیں اور 805 مجرموں کو سزائیں دلوائیں، جبکہ فروری تا نومبر 2024ء ریلوے پولیس نے 684 بچوں کو بازیاب کر کے ان کے گھروں یا فلاحی اداروں میں پہنچایا۔ مارچ 2025ء میں پاکستان نے ILO کے تین اہم بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق کی جن میں جبری مزدوری سے متعلق پروٹوکول بھی شامل ہے، تاہم ابھی بھی وفاقی اور صوبائی قوانین بین الاقوامی معیار کے مطابق کم از کم عمرِ ملازمت کی ضمانت نہیں دیتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون سازی، تعلیم کی فراہمی اور غربت کے خاتمے کو یکجا کر کے ان لاکھوں بچوں کا بچپن واپس لوٹایا جائے۔بین الاقوامی اداروں کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں بچے ایسے کاموں میں مصروف ہیں جو نہ صرف ان کی تعلیم سے محروم کرتے ہیں بلکہ ان کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی نشوونما کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ غربت، بے روزگاری، تعلیم تک محدود رسائی، سماجی ناہمواری اور بعض اوقات خاندانی مجبوری بچوں سے مشقت کی بنیادی وجوہات ہیں۔پاکستان میں بھی بچوں سے مشقت ایک اہم سماجی مسئلہ ہے۔ اینٹوں کے بھٹے، زرعی شعبہ، گھریلو ملازمت، چھوٹی صنعتیں اور ورکشاپیں ایسے شعبے ہیں جہاں کم عمر بچوں کو کام کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں سے بہت سے بچے ایسے ہیں جو صبح سے شام تک محنت کرتے ہیں مگر تعلیم اور بہتر مستقبل کے مواقع سے محروم رہتے ہیں۔بچوں سے مشقت کے نقصانات صرف فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ اس کے اثرات بھگتتا ہے۔ جب بچے تعلیم حاصل نہیں کر پاتے تو مستقبل میں ہنرمند اور باشعور افرادی قوت کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ غربت کا دائرہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہتا ہے اور معاشی ترقی متاثر ہوتی ہے۔مسیحت اور اسلام بھی بچوں کے حقوق، تعلیم اور ان کی عزت و تکریم پر زور دیتا ہے۔ایک دفعہ جب شاگردوں نے بچوں کو یسوع کے پاس آنے سے روکنے کی کوششش کی تو آپ نے فرمایا بچوں کو میرے پاس آنے دو کیونکہ آسمان کی بادشاہی ان جیسوں کی ہے۔ بچوں کے ساتھ شفقت، ان کی تعلیم و تربیت اور ان کے روشن مستقبل کی ذمہ داری والدین، معاشرے اور ریاست سب پر عائد ہوتی ہے۔ کسی بچے کو ایسے کام پر مجبور کرنا جو اس کی صحت، تعلیم یا شخصیت کو نقصان پہنچائے، اخلاقی اور انسانی اصولوں کے منافی ہے۔بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد بھی ضروری ہے۔ حکومت کو معیاری اور مفت تعلیم کی فراہمی، غریب خاندانوں کی معاشی معاونت اور بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔ اسی طرح سماجی تنظیموں، مذہبی رہنماؤں، اساتذہ، میڈیا اور شہریوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔خاص طور پر اینٹوں کے بھٹوں، زرعی علاقوں اور پسماندہ بستیوں میں ایسے پائیدار منصوبوں کی ضرورت ہے جو بچوں کو اسکولوں تک لائیں، والدین کو روزگار فراہم کریں اور خاندانوں کی معاشی مشکلات کم کریں۔ جب والدین کے پاس مناسب آمدنی ہوگی تو بچوں کو مزدوری پر بھیجنے کی ضرورت کم ہو جائے گی۔بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہر بچہ محفوظ بچپن، معیاری تعلیم اور بہتر مستقبل کا حق رکھتا ہے۔ ہمیں ایسے معاشرے کی تعمیر کرنی ہوگی جہاں کوئی بچہ اپنے کمزور کندھوں پر بھاری بوجھ اٹھانے پر مجبور نہ ہو، بلکہ علم، ہنر اور امید کے ساتھ اپنی زندگی کی نئی راہیں تلاش کر سکے۔

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author