مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


آٹھاسویں آئینی ترمیم اور اقلیتوں کی توقعات

آٹھاسویں آئینی ترمیم اور اقلیتوں کی توقعات

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

خالد شہزادوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گورننس کے حوالہ سے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے نئے صوبے بنانے کی تجویز پر بھی بات کی ہے دوسری جانب آزاد کشمیر میں 12 مخصوص نشستوں کو لیکر احتجاج بھی ہو رہا ہے اور پہلے مرحلہ میں الیکشن کا انعقاد بھی مکمل ہو چکا ہے، اور احتجاج کرنے والوں کو باور کرایا گیا کہ “ کہ قانون ساز اسمبلی میں کوئی بھی تبدیلی کا اختیار پارلیمنٹ کو ہے”۔ دوسری جانب عرضہ دراز سے پاکستان کی اقلیتیں بھی اٹھارویں ترمیم کے تحت مخلوط طریقہ انتخاب سے تنگ اور جداگانہ انتخابات کے حوالہ سے آئے روز پریس کانفرنس اور جداگانہ انتخاب کے لیے ریلیاں اور جلوس بھی نکال رہی ہیں، مگر نا تو پارلیمنٹ میں اس اہم موضوع پر بات ہوتی ہے اور نا ہی پاکستان کی حکمران اور بڑی سیاسی پارٹیاں اس اہم اور سنجیدہ مسلہ پر کسی قسم کی دلچسپی کا اظہار کرتیں ہیں، حالانکہ آئینِ پاکستان کی روشنی میں پارلیمنٹ کے پاس یہ اختیار موجود ہے، پاکستان میں اقلیتوں (غیر مسلموں) کے لیے مخصوص نشستوں کا نظام آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 51 (قومی اسمبلی) اور آرٹیکل 106 (صوبائی اسمبلیوں) کے تحت طے شدہ ہے۔ اگر پارلیمنٹ اقلیتوں کے لیے تناسبی نمائندگی (Proportional Representation) کا موجودہ سلیکشن/انتخابی طریقہ ختم کرکے براہِ راست انتخاب (جیسے آزاد کشمیر میں مقیم مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مخصوص حلقے بنائے جاتے ہیں) کا نظام لانا چاہتی ہے، تو اس کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے اسکے پارلیمنٹ (قومی اسمبلی اور سینیٹ) میں دو تہائی اکثریت (2/3 Majority) سے آئینی ترمیم منظور کرنا ہوگی۔ جداگانہ بمقابلہ مخلوط طریقۂ انتخاب پاکستان میں 2002ء سے پہلے جداگانہ طریقۂ انتخاب (Separate Electorate) قائم تھا، جہاں غیر مسلم شہری صرف غیر مسلم امیدواروں کو ووٹ دیتے تھے اور پورا ملک یا پورا صوبہ ایک حلقہ تصور ہوتا تھا۔ 2002ء میں اسے مخلوط انتخاب (Joint Electorate) میں بدل دیا گیا اور مخصوص نشستیں سیاسی جماعتوں کی حاصل کردہ کل نشستوں کے تناسب سے تقسیم کی جانے لگیں۔جیسے آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے جغرافیائی یا مخصوص حلقے بنے ہوئے ہیں جہاں براہِ راست ووٹنگ ہوتی ہے۔ اگر پاکستان میں بھی اقلیتوں کے لیے اسی طرز پر جغرافیائی حلقہ بندیاں (Geographical Constituencies) بنائی جائیں، تو غیر مسلم ووٹرز کو اپنے علاقے سے براہِ راست اپنا نمائندہ منتخب کرنے کا حق مل جائے گا، کیونکہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے کچھ ایسے حلقے بھی ہیں جہاں سے آراکین اسمبلی 500/600 ووٹ لیکر منتخب ہوتے ہیں، کیا پاکستان کی اقلیتوں کو انکا جمہوری حق نہیں دیا جا سکتا، اگر متوقع 28 ویں آئینی ترمیم میں اقلیتوں کو جداگانہ طریقہ انتخاب کے تحت اپنے نمائیندہ منتخب کرکے انکی مرحومیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اگر پارلیمنٹ یہ تبدیلی لانا چاہے تو اسے درج ذیل عملی اور آئینی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے، جیسے آبادی کا پھیلاؤ (Demographics)۔ آزاد کشمیر کے مہاجرین مخصوص شہروں اور علاقوں میں بڑی تعداد میں آباد ہیں، جبکہ پاکستان میں اقلیتی برادری (مثلاً مسیحی، ہندو، سکھ وغیرہ) پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔ چند علاقوں (مثلاً تھرپارکر یا لاہور ، فیصل آباد، ملتان، سیالکوٹ اور راولپنڈی کے بعض حصے) کے علاوہ اقلیتوں کی اتنی گنجان آبادی نہیں کہ ایک مکمل جغرافیائی حلقہ آسانی سے بن سکے۔
بند تر حتمی حلقے (Non-contiguous Constituencies): پارلیمنٹ یا الیکشن کمیشن کو ایک ایسا طریقہ طے کرنا ہوگا جس کے تحت ایک سے زائد شہروں یا اضلاع کو ملا کر اقلیتی حلقہ تشکیل دیا جائے، جو کہ انتظامی طور پر قدرے پیچیدہ ہو سکتا ہے۔کچھ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اقلیتوں کو عام نشستوں پر ووٹ دینے سے محروم کرنا یا محض اقلیتی حلقے تک محدود کرنا مساوات کے اصول (آرٹیکل 25) کے منافی ہو سکتا ہے، بشرطیکہ انہیں عام نشستوں پر ووٹ دینے کے ساتھ ساتھ اضافی نمائندگی کا حق نہ دیا جائے جو کہ انکے بنیادی حقوق اور مساوات کی نفی ہے۔پارلیمنٹ قانوناً اور آئینی طور پر بالادست ہے اور وہ دو تہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم کرکے اقلیتوں کو براہِ راست اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق دے سکتی ہے۔ ایسا کرنے سے اقلیتی نمائندے سیاسی جماعتوں کی ترجیحی فہرستوں کے مرہونِ منت ہونے کے بجائے براہِ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئیں گے، تاہم اس کے لیے الیکشن کمیشن کو جدید اور جدید ترین حلقہ بندیوں کا طریقہ کار وضع کرنا ہوگا۔آزاد کشمیر اسمبلی میں مقیم مہاجرین کے حلقوں کا موازنہ اور پاکستان میں اقلیتوں کے لیے مخصوص تعداد میں ووٹوں (مثلاً صوبائی اسمبلی کے لیے 20,000 اور قومی اسمبلی کے لیے 50,000) کی شرط پر جداگانہ انتخاب کا نظام بنانا سیاسی و آئینی بحث کا ایک اہم موضوع ہے۔ اگر پارلیمنٹ اس پر پیش رفت کرنا چاہے، تو 50,000 ووٹوں کے کسی مقررہ عددی معیار کے بجائے “Direct Preference Vote” (براہِ راست ترجیحی ووٹ) کا نظام لایا جا سکتا ہے اور تکنیکی و آئینی اعتبار سے اس تجویز کو نافذ کرنے میں جو رکاوٹیں اور متعلقہ اداروں کے کردار کے حوالہ سے وفاقی آئینی عدالت و الیکشن کمیشن پارلیمنٹ کو سفارشات دے سکتیں ہیں کیونکہ پاکستان میں قانون سازی ہمیشہ وقت و حالات کے تحت بدلتی رہتی ہے

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author