Author Editor Hum Daise View all posts
سنبل ثانیہ
پاکستان میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لئے ہر دور میں دعوے کئے جاتے رہیں اور اصلاحات کے نام پر تجربات بھی کئے جاتے رہے ہیں مگر اس کے باوجود ناقدین نظام تعلیم کو ہدف تنقید بناتے رہتے ہیں میں پاکستان کے تعلیمی نظام کو فرسودہ کہنے کے بجائے یہ کہوں گی کہ ہمار ا تعلیمی نظام بہترین مگر بد نظمی شکا رہے اگر اس پر توجہ دے جائے تو اسے بہترین بنایا جا سکتا ہے اور اس کے لئے زیادہ تردد کی ضرورت بھی ہے صرف چند ایک تبدیلیوں اور اقدامات سے اس نظام کو بہتربنایا جا سکتا ہے اس ضمن میں پہلا قدم یکساں نصاب ہوسکتا ہے اگر ملک بھر میں یکسا ں تعلیمی نظام رائج کردیا جائے تو اس سے نہ صرف طبقاتی تقسیم ختم ہوسکتی ہے بلکہ تعلیمی معیار بھی بہتر ہوسکتا ہے تاحال جو نظام تعلیم رائج ہے اس سے طبقاتی تقسیم کے ساتھ طلبا کو سٹیٹس کو کے چکر میں بھی دھکیلا جا رہا ہے جو کہ مسقبل کے معماروں کو تباہی کی طرف لے کر جار ہا ہے یکسان نصاب تعلیم کے تحت ابتدائی تعلیم میں اردو‘انگریزی‘ ریاضی اسلامیات اور دیگر مذاہب کے لئے اخلاقیات کو شامل کیا جا سکتاہے جس سے طلباء کو ان علوم میں اس قدر مہارت مل سکتی ہے کہ مسقتبل میں وہ ان مضامین میں سے کسی ایک کو چن کر اس میں سپشلائزیشن کرسکیں اور اپنی فیلڈ خود متعین کر سکیں یکساں نصاب تعلیم کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اس میں اگلی اسٹیج پر کمپیوٹر اور مصنوعی زہانت (اے آئی) کے مضامین شامل کئے جا سکتے ہیں اور ان کو بچو ں کی دلچسپی کے مطابق ترتیب دیا جائے نا اس قدر بور بنا دیا جائے کہ بچے ان مضامین سے اکتانے لگیں اور نہ اس قدر سادہ کہ ان مضامین کو تعلیم کے بجائے تفریح کا ذریع بنا لیا جائے نظام تعلیمی میں بہتری کے لئے دوسرا قدم اساتدہ کی تربیت اور مہارت ہے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اساتدہ کو مہارت دے کر اور روایتی انداز تعلیم سے نجات حاصل کرکے نہ صرف طلباء کی بہترین طریقے سے ذہنی آبیاری کی جاسکتی ہے بلکہ ان کو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق چیلنجز سے نمنٹے کے لئے بھی تیار کیا جا سکتا ہے اس کے لئے حکومت کو تمام تعلیمی اداروں کا سروے کروانا چاہئے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ جو ٹیچر جس مضمون کو پڑھا رہا ہے کیا اسے اس میں مہارت حاصل ہے اگر نہیں ہے تو اس کی جگہ پر ایسے ٹیچر کو ذمہ داریاں دینی چاہئے جو اس مضمون کا ماہر ہو اس پریکٹس سے فوری نتائج برآمد ہوسکتے ہیں جب کہ دور رس نتائج کے لئے تمام ٹیچرز کے ٹریننگ اور ریفریشر کورسز کا انتظام کیا جانا چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ امتحانی طریقہ کو بہتر کیا جانا چاہئے یہ وہ اقدامات ہیں جن سے نظام تعلیم میں بہتری لائی جائے سکتی ہے اور اسے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے
1 comment

















1 Comment
Mushtaq Khushi
July 21, 2026, 10:01 amVery good
REPLYGod bless you 🙏🏽