Author Editor Hum Daise View all posts
پاکستان کو درپیش نئے ترقیاتی چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے پالیسی سازوں، میڈیا، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط رابطہ اور تعاون ضروری ہے، تاکہ قومی مسائل پر باخبر مکالمے کو فروغ دیا جا سکے اور تحقیق و شواہد کی بنیاد پر پالیسی حل سامنے لائے جا سکیں۔ معروف سیاسی و میڈیا شخصیت قاضی اسد عابد نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں فریڈم گیٹ پراسپیرٹی (ایف جی پی) کے دفتر کے دورے کے موقع پر کیا۔ملاقات میں ایف جی پی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد انور، روزنامہ پاکستان اسلام آباد کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر اور معروف کاروباری شخصیت پرویز ذوالفقار، ایف جی پی کے اسٹریٹجک پالیسی ایڈوائزر شفقت عزیز اور ایف جی پی کے شعبہ معیشت کے سربراہ ڈاکٹر شہباز طارق نے شرکت کی۔ شرکا نے طرز حکمرانی، معاشی اصلاحات، موسمیاتی تبدیلیوں سے مقابلے کی صلاحیت، قومی ترقی میں میڈیا کے کردار اور پاکستان کے اہم سماجی و معاشی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ اقدامات کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔قاضی اسد عابد نے کہا کہ میڈیا کو صرف روزمرہ واقعات کی رپورٹنگ تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ معاشی استحکام، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی، کاروباری صلاحیت اور نوجوانوں کی ترقی جیسے موضوعات پر باخبر قومی مکالمے کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی ترقی مسلسل مکالمے، ادارہ جاتی تعاون اور عوام کی باخبر شرکت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔اس سے قبل محمد انور نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور تحقیق و شواہد پر مبنی پالیسی مکالمے اور مختلف شعبوں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے ایف جی پی کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب سرکاری اداروں، تعلیمی و تحقیقی حلقوں، نجی شعبے، میڈیا اور ترقیاتی تنظیموں کے درمیان مضبوط تعاون قائم ہو۔
پرویز ذوالفقار نے کہا کہ ذمہ دار صحافت اور عوام کی مثبت شرکت جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے اور قومی ترجیحات پر باخبر بحث کو فروغ دینے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی آگاہی بڑھانے اور پالیسی سطح پر اقدامات کی حوصلہ افزائی کے لیے ترقیاتی مسائل کو مرکزی میڈیا میں زیادہ جگہ دی جانی چاہیے۔شفقت عزیز نے قومی ترقی کے اہداف کے حصول میں مؤثر اور مربوط ابلاغ کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی تنظیموں اور میڈیا اداروں کے درمیان مضبوط تعاون سے موسمیاتی تبدیلی، معاشی بااختیاری، طرز حکمرانی میں اصلاحات اور ماحولیاتی پائیداری جیسے اہم موضوعات کے بارے میں عوامی آگاہی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر شہباز طارق نے کہا کہ تحقیق پر مبنی پالیسی مکالمہ اور معیشت سے متعلق باخبر گفتگو ایسے عملی حل سامنے لانے کے لیے ضروری ہیں جو جامع معاشی ترقی کو فروغ دیں اور پاکستان کے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کریں۔ملاقات کے اختتام پر شرکا نے پالیسی مکالمے، ترقیاتی ابلاغ، استعداد کار میں اضافے اور عوامی آگاہی کے مشترکہ اقدامات میں تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا، تاکہ پاکستان میں پائیدار اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی ترقی کو فروغ دیا جا سکے

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *