مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


اقلیتوں کی پراپرٹیز۔۔۔ حکومت اور بااثر افراد کے لئے تر نوالہ

اقلیتوں کی پراپرٹیز۔۔۔ حکومت اور بااثر افراد کے لئے تر نوالہ

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

سمیر اجمل
وطن عزیز میں مذہبی اقلیتوں کو جہاں دیگر مسائل کا سامنا ہے وہاں پر انہیں اپنی پراپرٹیز کے حوالے سے بھی تحفظات ہیں جس کا گاہے بگاہے اظہار ہوتا رہتا ہے مگر حالیہ دنوں میں لاہور میں مسیحوں کے ایک تعلیمی ادارے فارمن کرسچین کالج (ایف سی کالج) کی ایک عمارت کے حوالے سے جس طرح سے کارروائی کی گئی ہے یہ انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ اگر ماضی کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو اقلیتوں کی پراپرٹیز کے حوالے فیصلے ہوئے وہ بالکل عیاں تھے جس کی ایک مثال اداروں کا قومیا یا (نیشنلائزیشن) جانا تھا پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے جب یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ادارے قومی تحویل میں لے لئے جائیں گا تو اقلیتو ں خاص کر مسیحوں کو اس کاعلم تھا کہ ان کے تعلیمی ادارے اور پراپرٹیز حکومت کی تحویل میں جانے والے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اقلیتو ں کے کئی رہنماؤ ں کو اس حوالے سے اعتماد میں بھی لیا گیا تھا جس کے بعد حکومت کی جانب سے اقلیتوں کے ادارے تحویل میں لینے کا اعلان کیا گیا تھا مگرپنجاب میں ایف سی کالج کی اس پراپرٹی کو قبصہ میں لینے کے لئے جس باریک طریقے سے واردات ڈالی گئی ہے اس کا علم ادارے کی انتظامیہ کو بھی اسی وقت ہوا جب انہیں پراپرٹی خالی کرنے کا نوٹس ملا‘ دستیاب معلومات کے مطابق نیلا گنبد کے علاقے میں واقع قدیمی عمارت ایونگ ہال جو کہ ایف سی کالج کے تصرف میں تھی اور ایک طرح سے ایف سی کالج کا حصہ ہی تھی کے حوالے سے پنجاب حکومت کی جانب سے کالج انتظامیہ کو نوٹس موصول ہوا کہ عمارت کی لیز منسوخ ہوچکی ہے لہذا اسے فوری طور پر خالی کردیا جائے جب کہ اگلے روز کالج انتظامیہ کو یہ نوٹس بھی موصول ہوگیا ہے کہ یہ عمارت اب پنجاب حکومت کی تحویل میں آچکی ہے اس سے سامان اٹھا لیا جائے بصورت دیگر عمارت میں موجود سامان حکومتی ملکیت ہی تصور ہوگا ایف سی کالج اور اس عمارت کی ملکیت کے حوالے سے اگر تفصیلات بیان کی جائیں تو بہت طویل ہیں مگر خلاصہ یہ ہے کہ یہ 1888میں انگریز مشنری امریکی مشنری ڈاکٹر جیمز کر تھریا ر ایونگ رنگ محل مشن سکول کے پرنسپل بننے تو اسے کالج کا درجہ دے کرنیلا گنبد کے علاقے میں منتقل کردیا گیا بعدازاں طلباء کی تعداد میں اضافہ اور کالج کو وسعت دینے کے پیش نظر اسے فیرو ز پور روڈ منتقل کردیا گیا (جہاں پر کہ اب ایف سی کالج موجود ہے) اور 13کنال پر مشتمل یہ عمارت ایوننگ ہال کے نام سے نیلا گنبد کے علاقے میں ہی موجود اور تنازعات کی زد میں ہی رہی کیونکہ یہ عمارت انتہائی پوش اور مہنگے ترین علاقے میں واقع ہے اس لئے حکومت سمیت با اثر شخصیات کی ہمیشہ اس پر نظر رہی ہے مگر کالج انتظامیہ کی جانب سے مزاحمت کے باعث ایسا نہ ہوسکا جس کا حل حکومت کی جانب سے یہ نکالا گیا کہ اس کی لیز مقرر کردی گئی تاکہ کسی نہ کسی طرح اس حق ملکیت برقرار رکھا جا سکا اور حالیہ دنوں میں اس عمارت کا قبضہ حاصل کرنے کی جو کوشش کی گئی ہے وہ اسی لیز کے نام پر کی گئی ہے‘ کالج انتظامیہ کے نام ایک نوٹس جاری کرکے کہا گیاہے کہ اس عمارت (ایونگ) ہا ل کی لیز ختم ہوگئی ہے لہذا اس کو چھوڑ دیا جائے اس حوالے سے جب کالج انتظامیہ اور مسیحوں کا موقف احتجاج کی صورت میں سامنے آیا تو پنجاب حکومت کی جانب یہ وضاحت پیش کی گئی کہ عمارت کو تاریخی ورثے کی بحالی کے منصوبے کے تحت قبضہ میں لیا گیا ہے کیونکہ کالج انتظامیہ کی لیز ختم ہو چکی ہے اس لئے حکومت نے مناسب سمجھا کہ اس عمارت کو تحویل میں لے کر اس کی تزئین وآرائش اور مرمت کرائی جائے تاہم کالج انتظامیہ کا موقف یکسر مختلف ہے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس عمارت کی بحالی اور مرمت کا کام انتظامیہ کی جانب سے شروع کروایا جا چکا تھا جس کے ثبوت بھی موجود ہیں حکومت کی جانب سے یہ کارروائی عمارت کو قبضہ میں لینے کے لئے کی جارہی ہے اور حقیقت بھی یہی نظر آتی ہے حکومت جو مرضی کہے سچ یہی ہے کہ اقلیتوں کی پراپرٹیز حکومت اور بااثر شخصیات کے لئے تر نوالہ ہی ہوتی ہیں کسی بھی شہر میں جا کر دیکھ لیں اقلیتوں کی ایسی کئی پراپرٹیز آپ کو نظر آجائیں گی جو حکومتی یا قبضہ گروپ کے تصرف میں ہیں کہیں پلازہ ہے تو کہیں کاروباری ادارے (پٹرول پمپ‘سی این جی اسٹیشنز‘شوروم وغیرہ) ہے صو رتحال حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب تو ان (اقلیتوں) کی عبادتگاہوں پر بھی بورڈ آویزاں نظر آتے ہیں کہ یہ پراپرٹی برائے فروخت نہیں ہے کیونکہ پراپرٹیز تو دور کی بات اب تو عبادتگاہوں پر بھی بااثر افراد اور قبضہ گروپ نے نظریں گاڑ ھ لی ہیں جس کی وجہ سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اقلیتوں کی پراپرٹیز حکومت اور بااثر افراد کے لئے ترنوالہ بن چکی ہیں اگر اس کا سد باب نہ کیا گیا تو یہ معاملہ مزید بگڑ سکتا ہے

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author