Author Hum Daise View all posts
خالد شہزاد
جمعیت علماء اسلام کے سینٹر کامران مرتضیٰ نے وفاقی شرعی عدالت میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کی بعض دفعات کو قرآن و سنت اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 227 کے منافی قرار دیتے ہوئے شریعت پٹیشن دائر کردی۔ دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے کر سچین طالبعلم لڑکی کی بازیابی کی درخواست پر دفتری اعتراض ختم کرتے ہوئے درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست پر سماعت کی، ایڈووکیٹ مریم عائشہ شیرازی درخواست گزار فوزیہ کی جانب سے پیش ہو کر بتایا کہ رجسٹرار آفس نے درخواست پر اعتراض عائد کر دیا ہے، رجسٹرار آفس نے درخواست کو ملتان بنچ میں دائر کرنے کا اعتراض عائد کیا ہے، بیٹی بورے والا ہونے پر جو ڈیشل مجسٹریٹ بورے والا کے روبرو بیان دیا، درخواست گزار فیصل آباد کے رہائشی ہیں ، درخواست لاہورہائیکورٹ لاہور بینچ میں سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیا جائے، عدالت نے دفتری اعتراض ختم کرتے ہوئے درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کی بیٹی اسلامیہ کالج عید گاہ روڈ فیصل آباد میں زیر تعلیم ہے، گھر واپسی پر سات مئی 2026 کو اغواء کر لیا گیا، لڑکی منیرہ نامی خاتون کے پاس بورے والا میں موجود ہے، منیرہ ایک مسلم خاتون جبکہ درخواست گزار کر سچین ہے، بورے والا میں رہائشی خاتون منیرہ بی بی سے کوئی تو تعلق نہیں ہے، عدالت بیٹی کو بازیاب کروانے کا حکم دے۔ اس سے پہلے ماریا شہباز کیس میں بھی ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی، کیا پالیسی بنانے والی بیوروکریسی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اقلیتوں کو کیوں تکلیف دے کر بین الاقوامی قوانین اور آئین پاکستان سے روگردانی کر رہے ہیں؟ سینیٹر کامران مرتضیٰ کی جانب سے وفاقی شرعی عدالت میں دائر پٹیشن اور آئین کے آرٹیکل 227 (جس کے تحت تمام قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالا جائے گا) کا سہارا لینا، پاکستان میں کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون سازی کی راہ میں حائل روایتی اور مذہبی مزاحمت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف پاکستان نے بچوں کے حقوق کے بین الاقوامی کنونشن (CRC) پر دستخط کر رکھے ہیں، اور دوسری طرف ملکی سطح پر عمر کے تعین (بلوغت بمقابلہ قانونی عمر) پر اب بھی ابہام پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔اس قسم کی پٹیشنز سے کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے کی جانے والی حالیہ قانون سازی (جیسے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025) کے نفاذ میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان پسماندہ طبقات اور اقلیتی برادریوں کی کم عمر بچیوں کو اٹھانا پڑتا ہے، جنہیں اکثر اغوا کے بعد “رضامندی کی شادی” کا رنگ دے کر زنا بالجبر کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جسکی وجہ سے کم عمر بچی راتوں رات والدین اور بہن بھائیوں سے چھین کر مزہب کا سہارا دے کر ملزمان کو بچانے کی روایت جاری رکھی ہوئی ہے۔ سال 2021 سے 2026 کے درمیان 105,244 مقدمات کا درج ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ خواتین اور بچیوں کا اغوا اور گمشدگی کوئی بکھرے ہوئے اکادکا واقعات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک (سیسٹمک کرائسز )یا منظم بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اگرچہ پولیس نے بڑی تعداد میں بازیابیاں دکھائی ہوں گی، لیکن تقریباً دو ہزار بچیوں اور خواتین کا تاحال لاپتہ ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ پولیس کے پاس جدید انویسٹی گیشن ٹولز، جیو فینسنگ، اور فوری ردِعمل (Rapid Response) کا کوئی ٹھوس نظام موجود نہیں ہے۔ چار سال تک ایک ماں (سلمیٰ بی بی) کا اپنی بیٹی (مقدس بی بی) کے لیے در بدر ٹھوکریں کھانا اور انصاف نہ ملنا اس بات کی گواہی ہے کہ جب تک اعلیٰ عدلیہ مداخلت نہ کرے، عام اور غریب شہری کی آواز تھانوں اور بیوروکریسی کے بند کمروں سے باہر نہیں نکل پاتی۔7 مئی 2026 کو اسلامیہ کالج فیصل آباد کی مسیحی طالبہ کا اغوا اور بورے والا میں ایک مسلم خاتون کی تحویل میں ہونا،مبینہ جبری تبدیلیٔ مذہب یا انسانی اسمگلنگ کے روایتی طریقہ واردات کی نشان دہی کرتا ہے۔ماریا شہباز کیس (اور اس جیسے درجنوں دیگر کیسز، جیسے صدف خانپور کیس یا آرزو راجہ کیس) میں انصاف کی سست رفتاری اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں نہ لانا ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث ایسے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔ جب تک ریاست ایسے کیسز میں نظیر قائم کرنے والی سزائیں نہیں دیتی، یہ سلسلہ بند نہیں ہوگا۔چیف جسٹس عالیہ نیلم کی جانب سے پولیس کی دو ماہ کی مہلت کی درخواست کو مسترد کرنا اور 18 جون 2026 تک کی حتمی مہلت دینا ایک انتہائی خوش آئند اور جرات مندانہ اقدام ہے۔
عدالت کا دباؤ کیوں ضروری ہے؟ پاکستان میں روایتی طور پر پولیس اور انتظامیہ اس وقت تک متحرک نہیں ہوتیں جب تک ان پر توہینِ عدالت یا ملازمت سے معطلی کی تلوار نہ لٹک رہی ہو۔ چیف جسٹس کا یہ الٹی میٹم آئی جی پنجاب اور پوری فورس کو دفاعی پوزیشن پر لے انا سیاسی اور انتظامی جوابدہی کو ظاہر کرتا ہے ،یہ الٹی میٹم بیوروکریسی کے اس سرد مہر رویے کو توڑنے کے لیے ضروری تھا، جو بین الاقوامی قوانین اور آئینِ پاکستان کے تحت شہریوں کو دیے گئے تحفظِ جان و مال کے حق (آرٹیکل 9) کا مذاق اڑا رہے تھے۔ جب صوبے میں مجموعی طور پر امن و امان اور خواتین کے تحفظ کی یہ صورتحال ہو، تو اقلیتی برادریاں (جیسے مسیحی یا ہندو) دگنی غیر محفوظ ہو جاتی ہیں۔ ایک تو وہ امن و امان کے عمومی بگاڑ کا شکار ہوتی ہیں، اور دوسرا انہیں مذہبی حساسیت اور جبری تبدیلیٔ مذہب کے منظم گٹھ جوڑ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ کی جانب سے چائلڈ میرج ایکٹ کے خلاف پٹیشن دائر کرنا اور دوسری طرف ہزاروں بچیوں کا یوں لاپتہ ہونا، سماج کے اس تضاد کو ظاہر کرتا ہے جہاں قانون سازی کو تو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن عملاً بچیوں کے تحفظ کے لیے کوئی ٹھوس میکانزم نہیں بنایا جاتا۔
سول سوسائٹی کی ذمہ داری، کالم نگاروں، انسانی حقوق کے اداروں اور میڈیا کی یہ آئینی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ 18 جون تک پولیس کی کارکردگی پر گہری نظر رکھیں۔ اس کیس کو عوامی بحث کا حصہ رہنا چاہیے تاکہ پولیس روایتی طور پر “کاغذی کارروائی” یا عارضی اعداد و شمار پیش کر کے جان نہ چھڑا سکے۔اس ایک کیس کی حد تک بازیابی کافی نہیں ہوگی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عدلیہ حکومت کو مجبور کرے کہ وہ صوبے میں ایک ایسا مستقل “امبر الرٹ” (Amber Alert) طویل مدتی اصلاحات کا ڈیجیٹل سسٹم وضع کرے جس کے تحت کسی بھی بچے یا خاتون کی گمشدگی کی صورت میں چند گھنٹوں کے اندر اندر ریاستی مشینری حرکت میں آ جائے۔لاہور ہائیکورٹ کا یہ نوٹس اور سخت الٹی میٹم، اس جمود کو توڑنے کا ایک بہترین موقع ہے جو ہماری بیوروکریسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر طاری ہے۔

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *