Author Editor Hum Daise View all posts
خالد شہزاد
پاکستان کا آئین اپنے آرٹیکل 20 اور 25 کے تحت تمام شہریوں کو بلا تفریقِ مذہب، برابر کے حقوق اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 کی تاریخی تقریر میں جس پاکستان کا خاکہ پیش کیا تھا، وہاں اقلیتوں کو ریاست کا برابر کا حصہ دار بننا تھا۔ لیکن آج کا پاکستان اس خواب سے کوسوں دور دکھائی دیتا ہے۔ مردان میں پولیس کے ایک حاضر سروس اہلکار کے ہاتھوں سکھ برادری کے معصوم جوڑے کا بہیمانہ قتل کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس زنجیر کی ایک کڑی ہے جو ریاست کی انتظامی، سیکیورٹی اور آئینی ناکامیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ریاست کی طرف سے تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری پر مامور قانون نافذ کرنے والے اداروں (پولیس یا سیکیورٹی فورسز) کے اہلکار خود شدت پسندی، نظریاتی وابستگی، یا ذاتی رنجش کے باعث محافظ کے بجائے خود حملہ آور بن جائیں وہیں پر ریاست کی انتظامی ناکامی اور، سنجیدگی اور پالیسی پر سیکیورٹی کی شدید ناکامی پر کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ماضی قریب میں بھی سیکورٹی پر مامور سرکاری اہلکاروں نے اپنی مزہبی وابستگی اور جزباتی پن کی بدولت دہشتگردی اور قتل و گری جیسے واقعات میں ملوث پائے گئے۔4 جنوری 2011، کوہسار مارکیٹ اسلام آباد میں دن دہاڑے پنجاب پولیس کے ایلیٹ فورس کے اہلکار ممتاز قادری نے، جو اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی آفیشل سیکیورٹی ٹیم (اسکاٹ) کا حصہ تھا، خود کار سرکاری رائفل سے ان پر فائرنگ کر کے انہیں قتل کر دیا۔ ممتاز قادری نے گرفتاری کے وقت اعتراف کیا کہ اس نے سلمان تاثیر کے توہینِ رسالت کے قانون سے متعلق بیانات کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا۔
2024، بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (FC) کے ایک اہلکار نے فائرنگ کر کے ایک سکھ شہری کو قتل کر دیا تھا۔ ایف سی اہلکار نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ اقدام توہینِ مذہب کے مبینہ الزام پر کیا گیا، تاہم حکام نے اسے سنگین قانون شکنی اور فرض سے غداری قرار دے کر اہلکار کو فوری گرفتار کیا۔2020, پشاور کی ایک مقامی عدالت کے اندر، سیکیورٹی پر مامور پولیس کانسٹیبل احمد خان نے ایک زیرِ حراست ملزم طاہر احمد نسیم کو سیکیورٹی حصار کے اندر داخل ہو کر جج کے سامنے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ ملزم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ تھا، اور پولیس اہلکار نے عدالت کی سیکیورٹی کو بائی پاس کرتے ہوئے قانون اپنے ہاتھ میں لیا۔مردان میں سکھ جوڑے پر فائرنگ کرنے والا شخص کوئی بیرونی دہشت گرد نہیں تھا، بلکہ قانون کا رکھوالا، وردی پوش پولیس اہلکار تھا۔ جب ریاست کے محافظ ہی نظریاتی اختلافات کی بنا پر معصوم شہریوں کا قتل کرینگے گئے ، تو ریاست کی غیر جانبداری پر بھی سوالات کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ممتاز قادری سے لے کر مردان کے حالیہ واقعے تک، پولیس کے اندر بڑھتی ہوئی بنیاد پرستی ایک ہولناک سچائی بن چکی ہے۔پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کی وجوہات درج ذیل ہیں، ایسے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ جب قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بھرتی کے وقت سخت ذہنی اور نظریاتی جانچ پڑتال (Psychological and Ideological Screening) نہ کی جائے، تو محافظ خود سب سے بڑا خطرہ بن جاتے ہیں۔نفسیاتی اور نظریاتی جانچ کا فقدان بھی پولیس میں بھرتی کے وقت اور سروس کے دوران اہلکاروں کی کوئی نفسیاتی یا نظریاتی اسکریننگ (Psychological Screening) نہیں کی جاتی۔ یہ معلوم ہی نہیں کیا جاتا کہ وردی کے پیچھے چھپا شخص کس حد تک انتہا پسندانہ نظریات کا حامل ہے۔احتساب کے کمزور نظام کی وجہ سے اقلیتوں پر حملوں یا غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو نشانِ عبرت نہیں بنایا جاتا، جس سے محکمے کے اندر ایسے عناصر کو شہ ملتی ہے۔مذہبی راہنماؤں کی سیکیورٹی میں ناکامی اہم اقلیتی رہنماؤں اور فعال شہریوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں پولیس ہمیشہ ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سے وہ خود کو پاکستان میں غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔
آج سے بارہ سال قبل، 19 جون 2014 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس وقت کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے پشاور چرچ حملے کے بعد اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی فیصلہ صادر کیا تھا۔ اس فیصلے میں عدالتِ عظمیٰ نے واشگاف الفاظ میں حکومت کو درج ذیل بنیادی ہدایات دی تھیں: مذہبی مقامات کی سیکیورٹی: تمام غیر مسلم شہریوں کے عبادت خانوں (مساجد کے علاوہ گرجا گھروں، مندروں اور گوردواروں) کی حفاظت کے لیے ایک خصوصی پولیس فورس قائم کی جائے۔نفرت انگیز تقاریر کا خاتمہ: سوشل میڈیا اور پبلک پلیٹ فارمز پر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کا سدِباب کیا جائے۔
نصابِ تعلیم کی اصلاح: تعلیمی نصاب سے ایسی تمام چیزیں نکالی جائیں جو مذہبی منافرت کو فروغ دیتی ہیں۔قومی کمیشن برائے اقلیت: ایک بااختیار اور متحرک نیشنل کمیشن برائے اقلیت قائم کیا جائے جو ان کے حقوق کی نگرانی کرے۔
لیکن افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ایک دہائی سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود حکومتوں کا رویہ روایتی غیر سنجیدگی کا شکار رہا۔ سپریم کورٹ کے احکامات کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا گیا، جس کا خمیازہ آج اقلیتی برادریاں اپنی جانیں دے کر بھگت رہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ڈاکٹر شعیب سڈل کی سربراہی میں ایک “ون مین کمیشن” قائم کیا تھا۔ ڈاکٹر شعیب سڈل نے اقلیتوں کے متروکہ حقوق، ان کی زمینوں پر قبضوں اور سیکیورٹی کے حوالے سے بے پناہ کام کیا اور حکومت کی مسلسل سرزنش کی، تاہم اس یک رکنی کمیشن کے متوازی جو سیاسی یا سرکاری سطح پر ‘اقلیتی کمیشن’ بنائے گئے، وہ محض سیاسی رشوت اور کاغذی کارروائیوں تک محدود رہے۔ یہ کمیشنز ہمیشہ “ڈی اے-ڈی اے” (Daily Allowance) بٹورنے، سرکاری مراعات لینے اور “چائے پارٹیوں” کے انعقاد سے آگے نہ بڑھ سکے۔ ان کے پاس نہ تو کوئی انتظامی اختیارات ہیں، نہ ہی ان کے پاس کوئی ایسی قوت ہے کہ وہ کسی مظلوم اقلیتی شہری کو انصاف دلا سکیں۔ جب تک کوئی بڑا سانحہ نہیں ہوتا، یہ کمیشن خوابِ خرگوش میں رہتے ہیں اور سانحے کے بعد محض ایک مذمتی بیان جاری کر کے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔
حکومت وقت کا رویہ ہمیشہ ‘ردِعمل کی سیاست’ (Reactive Politics) پر مبنی ہوتا ہے۔ جب کسی سکھ، مسیحی یا ہندو شہری کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تو وزیرِ اعظم اور وزرائے اعلیٰ کی طرف سے ٹویٹس یا پریس ریلیز آ جاتی ہیں، چند لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان ہوتا ہے، اور بات ختم ہو جاتی ہے۔ کسی بھی حکومت نے آج تک انتہا پسندی کے اس جڑ کو اکھاڑنے کے لیے طویل مدافعتتی حکمتِ عملی (Preventative Strategy) نہیں بنائی۔ قومی ایکشن پلان (NAP) کے وہ نکات جو اقلیتوں کے تحفظ اور مدرسہ و نصاب ریفارمز سے متعلق تھے، آج بھی ادھورے ہیں۔
ریاست اگر اپنے بیانات میں سنجیدہ ہے اور پاکستان کو واقعی ایک پرامن اور تکثیری (Pluralistic) معاشرہ بنانا ہے، تو محض بیانات سے کام نہیں چلے گا، بلکہ فوری اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ کے 2014 کے فیصلے کو قانون کا حصہ بنا کر اس کی تمام شقوں پر فی الفور عمل کیا جائے۔ ڈاکٹر شعیب سڈل کمیشن کی سفارشات کو بائی پاس کرنے کے بجائے انہیں انتظامی طور پر نافذ کیا جائے۔
پولیس فورس کی تطہیر ، قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں میں موجود اہلکاروں کی لازمی نفسیاتی اور نظریاتی اسکریننگ کی جائے۔ جو اہلکار کسی بھی قسم کی مذہبی منافرت یا انتہا پسندی کی طرف مائل پائے جائیں، انہیں فوری نوکری سے برخاست کیا جائے۔
مذہبی مقامات کے لیے مخصوص فورس کا قیام عمل میں لایا جائے اور اقلیتی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کے لیے عام سیکیورٹی گارڈز کے بجائے، باقاعدہ تربیت یافتہ “اقلیتی محافظ فورس” بنائی جائے جو جدید ہتھیاروں سے لیس ہو اور تمام اہلکار اقلیتی برادریوں کے نوجوان ہوں۔سیاسی کمیشنز کا خاتمہ اور بااختیار باڈی کی تشکیل دی جائے اور چائے پارٹیوں والے کمیشنز کے بجائے، اقلیتوں کا ایک ایسا قومی کمیشن بنایا جائے جس کے پاس جوڈیشل پاورز ہوں، جو خود ایکشن (Suo Moto) لے سکے اور غفلت برتنے والے بیوروکریٹس اور پولیس افسران کو سزا تجویز کر سکے۔
یاد رکھا جائے “ کہ سکھ جوڑے کا خون ریاستِ پاکستان پر ایک قرض ہے اور ہمارے ضمیر پر ایک بوجھ”۔ اگر آج ہم نے اپنے محافظوں کو قانون کا پابند نہ بنایا اور اقلیتوں کو تحفظ نہ دیا، تو وہ دن دور نہیں جب دنیا ہمیں ایک ناکام اور غیر محفوظ معاشرے کے طور پر دیکھے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ چائے پارٹیاں ختم کی جائیں اور انتظامی اقدامات شروع کیے جائیں۔

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *