مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


چرواہوں کے راستے سے خون کی لکیر تک

چرواہوں کے راستے سے خون کی لکیر تک

      Author Editor Hum Daise View all posts

 

سرور حسین سکندر

 

پہاڑ ہمیشہ امن وقار اور برداشت کی علامت سمجھے جاتے ہیں مگر جب انہی پہاڑوں کی خاموشی گولیوں کی آواز سے ٹوٹ جائے تو صرف انسان نہیں مرتے بلکہ نسلوں کا اعتماد بھی زخمی ہو جاتا ہے۔ کھرمنگ کے سرحدی علاقے الڈینگ بروق اور ہرغوسل میں پیش آنے والا حالیہ افسوسناک واقعہ اسی تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہےیہ تنازعہ بظاہر چراگاہ کے استعمال پر شروع ہوا، مگر انجام ایسا ہوا کہ تین قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں اور پندرہ سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ایک ایسا سانحہ جس نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پورے گلگت بلتستان کو غمزدہ کر دیا ہےچراگاہیں صدیوں سے مقامی آبادی کے لیے معاشی اور سماجی اہمیت رکھتی ہیں لیکن جب ان پر اختلافات کو بروقت اور منصفانہ انداز میں حل نہ کیا جائے تو وہی چراگاہیں خونریزی کا میدان بن جاتی ہیں یہ واقعہ بھی اسی حقیقت کی ایک المناک مثال ہےواقعے کے بعد پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد ملزمان کو گرفتار کیا مقدمہ درج کیا گیا سرچ آپریشن جاری ہے اور مفرور افراد کی تلاش میں پولیس کے ساتھ گلگت بلتستان سکاوٹس کے جوان بھی علاقے میں تعینات کیے گئے ہیں۔ قانون کی عملداری ضروری ہے مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ایسے واقعات کو صرف گرفتاریوں سے روکا جا سکتا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ ایسے تنازعات کی جڑیں برسوں پرانے زمینی اور چرائی کے اختلافات میں پیوست ہوتی ہیں۔ اگر ان مسائل کو مقامی عمائدین منتخب نمائندوں ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی مدد سے مستقل بنیادوں پر حل نہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ مستقبل میں بھی ایسے سانحات جنم لیتے رہیں گے۔کھرمنگ ہمیشہ امن، بھائی چارے اور باہمی احترام کی سرزمین رہی ہے یہاں کے لوگوں نے مشکل ترین حالات میں بھی یکجہتی کی مثال قائم کی ہے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جذبات کے بجائے دانشمندی انتقام کے بجائے قانون، اور اختلاف کے بجائے مکالمے کو فروغ دیا جائےیہ وقت کسی ایک فریق کو موردِ الزام ٹھہرانے کا نہیں بلکہ اس عزم کا ہے کہ مستقبل میں کسی ماں کی گود اجڑنے، کسی بچے کے سر سے باپ کا سایہ اٹھنے اور کسی خاندان کو دائمی غم میں مبتلا ہونے سے بچایا جائےامید کی جانی چاہیے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے شفاف تحقیقات کے ذریعے تمام ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے، جبکہ حکومت اور مقامی قیادت ایسے دیرینہ تنازعات کے مستقل حل کے لیے مؤثر اور پائیدار اقدامات کرے گی یہی وہ راستہ ہے جو کھرمنگ کو دوبارہ امن، اعتماد اور بھائی چارے کی فضا لوٹا سکتا ے

 

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author