Author Editor Hum Daise View all posts
خالد شہزاد
پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق اور ان کے سماجی و اقتصادی حالات کا موازنہ ایک ایسا موضوع ہے جو تاریخی حقائق اور آئینی وعدوں کے درمیان ایک گہری خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔ بلند و دبنگ بیانات اور وعدوں کے ڈھیر کے نیچے دبی اقلیتوں کا مستقبل ایک خطرناک سیاسی و سماجی جرثومہ کے زیر اثر آ رہا ہے ،جہاں تباہی و چیخ و پکار کے علاوہ کچھ نہیں۔آئین پاکستان میں کاغذ کی حد تک تو اقلیتیں “برابر کی شہری” ہیں، لیکن عملی طور پر وہ سماجی اور معاشی تنہائی کا شکار ہیں۔ 1941ء سے 2017ء تک کا سفر معاشی عروج سے انتہائی غربت کی طرف ایک ایسا زوال ہے جس پر ریاست اور معاشرے دونوں کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک آئین کی روح کے مطابق اقلیتوں کو تحفظ اور ترقی کے یکساں مواقع نہیں ملیں گے، پاکستان کا معاشی و سماجی ڈھانچہ مکمل نہیں ہو سکے گا۔ پاکستان کا قیام ایک ایسی ریاست کے طور پر عمل میں آیا تھا جہاں تمام شہریوں کو بلا تفریقِ مذہب و نسل برابر کے حقوق حاصل ہونے تھے۔ 1973ء کا آئین ان حقوق کی قانونی ضمانت تو دیتا ہے، لیکن تاریخ کے اوراق اور حالیہ اعداد و شمار ایک مختلف کہانی سناتے ہیں۔ 1941 کی معاشی و سماجی صورتحال
تقسیمِ ہند سے قبل، خاص طور پر لاہور جیسے شہروں میں اقلیتوں کا کردار نہایت کلیدی تھا۔ 1941ء کی مردم شماری کے مطابق لاہور کی تقریباً 36 فیصد آبادی ہندوؤں اور سکھوں پر مشتمل تھی۔حیرت انگیز طور پر یہ 36 فیصد اقلیتی آبادی شہر کی 80 فیصد شہری جائیدادوں، فیکٹریوں، بینکوں اور تجارتی اداروں کی مالک تھی۔ اس وقت کے 64 فیصد مسلمان آبادی کے لحاظ سے اکثریت میں ہونے کے باوجود معاشی طور پر اتنے مستحکم نہیں تھے جتنی کہ اقلیتیں تھیں۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ قیامِ پاکستان سے قبل اقلیتیں نہ صرف محفوظ تھیں بلکہ ریاست کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتی تھیں۔پاکستان کا 1973ء کا آئین کئی ایسی شقیں فراہم کرتا ہے جو اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کرتی ہیں، آرٹیکل 20 ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اسے پھیلانے کی آزادی دیتا ہے۔
آرٹیکل 22: تعلیمی اداروں میں مذہبی امتیاز کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 25: تمام شہریوں کو قانون کی نظر میں برابر قرار دیتا ہے۔ آرٹیکل 36: ریاست کی ذمہ داری لگاتا ہے کہ وہ اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے لیکن آئینی ترامیم اور ان کے اثرات آئین میں ہونے والی بعض ترامیم نے اقلیتوں کی سیاسی و سماجی حیثیت پر گہرے اثرات مرتب کیے:
دوسری ترمیم (1974) کے ذریعے احمدی برادری کو غیر مسلم قرار دیا گیا، جس سے مذہبی شناخت اور قانونی حقوق کی بحث نے جنم لیا۔ آٹھویں ترمیم (1985) ضیاء الحق کے دور میں متعارف کرائی گئی اس ترمیم کے ذریعے “جداگانہ انتخاب” کا طریقہ رائج کیا گیا، جس نے اقلیتوں کو سیاسی طور پر مرکزی دھارے سے الگ کر دیا۔ (اگرچہ بعد میں اسے 2002 میں دوبارہ مخلوط انتخاب سے بدل دیا گیا) تاہم اب تک یہ نظام بھی اپنی اصلی حالت میں کام کرنے سے قاصر ہے، اٹھارویں ترمیم (2010) جہاں صوبائی خود مختاری دی، وہاں اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کے طریقہ کار اور ان کی نمائندگی پر دوبارہ بحث چھیڑی۔ 2017ء کی مردم شماری کے نتائج ایک تشویشناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کی کل آبادی سکڑ کر محض 3.5 فیصد (اور بعض تخمینوں کے مطابق اس سے بھی کم) رہ گئی ہے:
ہندو آبادی: تقریباً 1.73%
مسیحی آبادی: تقریباً 1.27%
دیگر (سکھ، پارسی، بدھسٹ): 1% سے بھی کم
غربت کی چکی: 1941ء میں 80 فیصد معیشت پر قابض رہنے والے طبقے کے وارث آج صفائی کے کاموں، اینٹوں کے بھٹوں اور دیہی علاقوں میں مزارعین کے طور پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ سماجی جبر، جبری تبدیلیِ مذہب کے واقعات اور توہینِ مذہب کے قوانین کے غلط استعمال نے ان میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے۔پنجاب اور سندھ میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نعفرت اور کم عمر بچیوں کو راتوں رات والدین سے جدا کرکے انکا مزہب تبدیل کر کے والدین کے دل میں چھپا ہوا دکھ اور تلخی محض جذبات نہیں بلکہ وہ سنگین حقائق ہیں جن کا سامنا پاکستان کی اقلیتی برادری کو روزمرہ کی بنیاد پر کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ تضاد انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک طرف آئین مساوات کا درس دیتا ہے اور دوسری طرف عملی صورتحال “موت کے کنوؤں” (سیوریج لائنوں) میں دم توڑتی انسانیت کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ کوٹہ سسٹم اور میں اقلیتوں کے لیے 5 فیصد ملازمتوں کا کوٹہ اور تعلیمی اداروں میں 2 فیصد کوٹہ مختص تو ہے، لیکن اس کے حصول اور عملدرآمد کے درمیان حائل رکاوٹیں مسیحی نوجوانوں کو معاشی طور پر مفلوج کر رہی ہیں۔ جب اعلیٰ تعلیم تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے، تو مسیحی نوجوانوں کے لیے باوقار سرکاری ملازمتوں کے دروازے خود بخود بند ہو جاتے ہیں، سرکاری محکموں، بالخصوص واسا (WASA) اور میونسپل کمیٹیوں میں ایک غیر اعلانیہ اور غیر انسانی روایت بن چکی ہے کہ صفائی کے مشکل ترین کاموں (سینیٹری ورکرز) کے لیے صرف مسیحیوں کو ہی بھرتی کیا جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف آئین کے آرٹیکل 27 (ملازمتوں میں امتیازی سلوک کے خلاف تحفظ) کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی حقوق کی بھی سنگین پامالی ہے۔
واسا کی مجرمانہ غفلت اور اموات کے اعداد و شمار بالخصوص فیصل آباد اور لاہور میں گٹروں کی صفائی کے دوران ہونے والی اموات حادثہ نہیں بلکہ “انتظامی قتل” کے زمرے میں آتی ۔ بین الاقوامی قوانین اور خود پاکستان کے لیبر قوانین کے مطابق زہریلی گیسوں والے گٹروں میں بغیر آکسیجن ماسک، حفاظتی لباس اور کٹس کے اترنا ممنوع ہے۔ لیکن واسا کے زیر انتظام ملازمین کو آج بھی بانس کی لاٹھی اور ننگے بدن کے ساتھ موت کے منہ میں دھکیلا جاتا ہے۔ فیصل آباد میں صرف ایک ہفتے میں تین اموات اس بات کا ثبوت ہیں کہ محکمہ واسا نے ماضی کے واقعات سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ جب ملازم گٹر میں اترتا ہے تو میتھین اور دیگر زہریلی گیسیں چند سیکنڈز میں پھیپھڑوں کو ناکارہ کر دیتی ہیں۔ گزشتہ سال پنجاب میں 14 مسیحی ملازمین کی شہادتیں یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ کیا ان کی زندگی کی قیمت مشینری اور حفاظتی سامان سے بھی کم ہے؟ وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ کے بیانات اور زمینی حقائق میں ایک واضح خلیج موجود ہے۔ حکومت اکثر “برابر کے شہری” اور “مذہبی ہم آہنگی” کے نعرے لگاتی ہے، لیکن جب تک سینیٹری ورکرز کی زندگیوں کو تحفظ دینے کے لیے عملی قانون سازی اور مشینری (Suction Machines) کا استعمال لازمی قرار نہیں دیا جاتا، یہ دعوے کھوکھلے رہیں گے۔ رمیش سنگھ اروڑہ، جو خود ایک اقلیتی برادری سے تعلق رکھتے ہیں، ان پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ واسا جیسے اداروں کے خلاف کارروائی کریں جو حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کر کے انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔
اگر ریاست واقعی مسیحی برادری کو “گٹروں میں مرنے کے لیے لاوارث” نہیں چھوڑنا چاہتی، تو اسکو فوری نوعیت کے نقصانات سے بچانے اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے بجائے گٹروں کی صفائی کے لیے 100 فیصد مشینری کا استعمال لازمی قرار دیا جائے، حفاظتی انتظامات نا کرنے کی وجہ سے کسی بھی ملازم کی ہلاکت کی صورت میں متعلقہ ایکسیئن (XEN) اور ایس ڈی او (SDO) کے خلاف قتلِ خطا کا مقدمہ درج ہونا چاہیے۔2 فیصد تعلیمی کوٹہ کو صرف کاغذوں تک محدود رکھنے کے بجائے مسیحی نوجوانوں کو ٹیکنیکل تعلیم دی جائے تاکہ وہ موروثی طور پر صفائی کے پیشے سے وابستہ ہونے کے جبر سے نکل سکیں۔پاکستان کی مسیحی برادری نے ملک کی تعمیر و ترقی، تعلیم اور صحت میں بے مثال خدمات سرانجام دی ہیں۔ انہیں صرف “سینیٹری ورکرز” کے طور پر دیکھنا اور ان کی جانوں کی پرواہ نہ کرنا ایک قومی المیہ ہے۔ جب تک کوٹہ سسٹم اور حفاظتی اقدامات کے درمیان یہ “ریشم سے نازک دیوار” موجود ہے، مساوات کے تمام دعوے بے معنی ہیں۔

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *