Author Editor Hum Daise View all posts
خالد شہزاد
پاکستان میں جبری مذہب تبدیلی اور کم عمر غیر مسلم بچیوں کی زبردستی شادیاں ایک ایسا سنگین اور حساس مسئلہ بن چکا ہے جو نہ صرف آئینِ پاکستان میں دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کے تشخص کو بھی بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ حالیہ واقعات، جن میں محض ایک ماہ کے دوران لاہور، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، گجرانوالہ، اوکاڑہ، ساہیوال، ملتان سے درجنوں مسیحی اور ہندو برادری کی کم عمر بچیوں کو اغوا کر کے، ان کا جبری مذہب تبدیل کروا کر بڑی عمر کے افراد سے نکاح کروا دیے گئے، اقلیتی برادریوں میں عدم تحفظ اور مایوسی کی ایک گہری لہر پیدا کر رہے ہیں۔ان بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے کے لیے قانون سازی کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، لیکن المیہ ہمیشہ ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد کا رہا ہے۔ ذیل میں ایسے قوانین پورے ملک میں نافذ عمل بھی ہیں جن میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ (Child Marriage Restraint Act) کی منظوری کی تاریخ پاکستان میں کم عمری کی شادیوں کو روکنے کے لیے جو بنیادی قانون موجود ہے، اسے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کہا جاتا ہے۔ اس قانون کی منظوری کی تاریخیں درج ذیل ہیں ،وفاقی سطح (برصغیر پاک و ہند کے دور کا اصل قانون)بنیادی قانون قیامِ پاکستان سے قبل کا ہے، جسے بعد میں پاکستان نے معمولی ترامیم کے ساتھ برقرار رکھا۔ یہ قانون اصل میں ستمبر 1929ء میں منظور ہوا تھا اور یکم اکتوبر 1929ء سے نافذ العمل ہوا۔ وفاقی ترمیم (2024-2025ء): حالیہ برسوں میں (خاص طور پر گزشتہ سال) وفاقی اور صوبائی سطح پر اس قانون میں سزائیں سخت کرنے اور شادی کی کم از کم عمر کو بلا تفریق صنف 18 سال کرنے کے لیے قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے قراردادیں اور ترمیمی بل منظور کیے گئے، جن پر صدرِ مملکت کے دستخط کے بعد انہیں باقاعدہ نافذ کیا گیا۔ سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ (صوبائی پیش رفت) پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جس نے اس معاملے پر سب سے واضح اور سخت قانون سازی کی۔سال اور مہینہ: سندھ اسمبلی نے اپریل 2014ء میں “سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ” متفقہ طور پر منظور کیا۔ اس قانون کے تحت صوبے میں لڑکے اور لڑکی دونوں کی شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی اور کم عمر کی شادی کو ایک قابلِ دست اندازیِ پولیس اور ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا گیا۔پنجاب اسمبلی نے مارچ 2015ء میں وفاقی قانون (1929ء) میں ترمیم منظور کی، جس کے تحت کم عمری کی شادی کروانے والے والدین، سہولت کاروں اور نکاح خوانوں کے لیے سزائیں اور جرمانے انتہائی سخت کر دیے گئے، تاہم وہاں شادی کی قانونی عمر لڑکی کے لیے 16 سال ہی رہی، جس کو 18 سال کرنے کے لیے حالیہ مہینوں میں دوبارہ قانون سازی اور قراردادوں کا سہارا لیا گیا۔حالیہ قراردادیں اور قانون سازی (2025ء کی پیش رفت)، گزشتہ سال (2025ء) کے دوران قومی اسمبلی، سینیٹ اور خاص طور پر پنجاب اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں سے ایسی قراردادیں اور ترمیمی بل منظور کروائے گئے جن کا مقصد محبت، لالچ یا کسی بھی دوسرے بہانے کے تحت کم عمر بچیوں کو ورغلا کر لے جانے، ان کا نکاح پڑھانے اور جبری تبدیلیِ مذہب کے پیچھے چھپنے والے عناصر کو سخت ترین سزائیں دینا تھا۔ ان قوانین پر صدرِ مملکت کے دستخط بھی ثبت ہو چکے ہیں، جس کے بعد یہ ریاست کا حتمی قانون بن چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود کھلے عام قانون کی دھجیاں آرائی جا رہی ہیں ، مجسٹریٹ کی عدالت میں کم عمر بچیاں حیران کن طور پر 164 کا بیان بھی ریکارڈ کروا رہیں ہیں۔ جب قانون بن جانے کے بعد بھی پولیس اور مقامی انتظامیہ اغوا کاروں اور غیر قانونی نکاح کروانے والے عناصر کے خلاف فوری کارروائی نہیں کرتیں، تو اقلیتی برادریوں میں یہ تاثر جڑ پکڑتا ہے کہ شاید ان جرائم کو ریاست کی خاموش رضامندی حاصل ، اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی کم عمر غیر مسلم بچی اغوا ہوتی ہے، تو چند ہی دنوں میں اس کا “کلمہ پڑھنے کا سرٹیفکیٹ” اور بڑی عمر کے مرد سے “نکاح نامہ” عدالت میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے بچی کی اصل عمر (جو کہ برتھ سرٹیفکیٹ یا نادرا ریکارڈ سے ثابت ہوتی ہے) کو نظر انداز کر کے مبینہ “مرضی” کے بیان کو بنیاد بنا لیتے ہیں، جو کہ سراسر قانون کی روح کے منافی ہے کیونکہ قانوناً ایک نابالغ بچہ یا بچی اپنی مرضی کا فیصلہ کرنے کا مجاز ہی نہیں ہوتا۔ تشدد کے حالیہ واقعات: پنجاب میں حالیہ دنوں میں مسیحی نوجوانوں پر لگائے جانے والے مختلف الزامات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے پرتشدد واقعات (جس میں دو نوجوان جان کی بازی ہار گئے) اس بات کا ثبوت ہیں کہ معاشرے میں مذہبی عدم برداشت اور قانون کو ہاتھ میں لینے کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ سڑکوں پر ہجوم کا انصاف اور تفتیش سے قبل ہی سزا کا تعین ریاست کی رٹ پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 20 اور 25 تمام شہریوں کو یکساں حقوق اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتے ہیں۔ اگر چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ اور جبری اغوا کے خلاف موجود قوانین پر ان کی اصل روح کے مطابق عمل نہ کیا گیا، تو اقلیتوں کا عدالتی اور انتظامی نظام پر سے اعتماد مکمل طور پر اٹھ جائے گا۔
ریاستی اداروں کی خاموشی اور اقلیتوں کا احساسِ محرومی
اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست اپنی “خاموشی” کو توڑے اور ہر اس نکاح خوان، گواہ اور مجسٹریٹ کے خلاف کارروائی کی جائے جو مروجہ قوانین (18 سال کی عمر کی حد) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کم عمر بچیوں کا نکاح رجسٹرڈ کرتے ہیں۔ ہجوم کے تشدد یا جھوٹے الزامات کی بنیاد پر اقلیتوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کو دہشت گردی کے قوانین کے تحت سزائیں دی جائیں۔
قوانین کا کتابوں میں موجود ہونا کافی نہیں، ان کا سڑکوں اور عدالتوں میں نافذ ہونا ہی اقلیتوں کو یہ یقین دلا سکتا ہے کہ یہ ریاست ان کی بھی اتنی ہی ہے جتنی کسی اور کی ہے۔

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *