Author Editor Hum Daise View all posts
تحریر: عطاالرحمن سمن
1976-77کی بات ہے۔ گندم کی کٹائی (واڈی) کا سیزن تھا۔ ایک روز بیولف آئے اور کہنے لگے ”شام کو 33 (133/16.Lامرت نگر کو 33کہہ کر پکارا جاتا ہے) جانا ہے۔ میرے ساتھ چلو۔ صبح واپس آ جائیں گے۔میں حامی بھر لی۔ گاؤں میں مرکزی چوک سے مشرق کی طرف پہلے چوک میں گھر تھا جہاں ہمیں جانا تھا۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ بیولف کے بھانجے جہورے نے صبح سے شام تک ایک بیگھا (نصف ایکڑ)گندم کی کٹائی کی تھی۔ چنانچہ ڈھول بجا کر خوب بھنگڑے ڈالے گئے اور شام کو لاؤڈ اسپیکر پر ریکارڈنگ جاری تھی۔ شام گہری ہوئی تو طبلے اور ہارمونیم کی محفل شروع ہو گئی۔بھاہ جہورے کی ایک بیگھا گندم کاٹنے کی رج کے خوشی منائی گئی۔ سارے گاؤں میں بھاہ جہورے کی بلے بلے ہو گئی تھی۔ ایک بیگھا بہت بڑی جگہ ہوتی ہے اور پھر ضلع ملتان کی گرمی میں زمین پر بیٹھ کر گندم کی کٹائی کرنا کوئی آسان کام نہیں۔مجھے یاد ہے میں نے اور اکرام جون نے ایک ہفتہ میں مشکل سے دو کنال گندم کاٹی تھی۔ چنانچہ خوشی کا اظہار تو بنتا ہی تھا۔ اُدھر گھر میں لگے ہوئے اسپیکر پر بار بار بھاہ جہورے کے کارنامہ کا فرمان جاری ہوتا رہا۔
گاؤں میں بھاہ جہورے کی جے جے کار ہوئی تو اگلے روز کسی دوسرے نوجوان نے ایک بیگھا گندم کی کاٹ ڈالی اور اسپیکر پر اعلان، ڈھول وغیرہ کے پروٹوکول کی تقلید کی گئی۔ چنانچہ ہوا یہ کہ ہر روز گاؤں کا کوئی نہ کوئی جوان ایک بیگھا گندم کاٹ کر اپنا نام اِس فہر ست میں شامل کروا لیتا جن کو گاؤں میں آتے جاتے قدر کی نظر سے سراہا جا رہا تھا ۔ لڑکے کو کھیت سے ڈھول بجا کر بھنگڑوں کے درمیان لا نا اور پھر اسپیکر پر اعلانات 133کے روز کا معمول بن گیا تھا۔
پھر کیا ہوا۔ پکھاری والے خاندان کی ایک بیٹی ایک صبح اٹھی اور گندم کاٹنے بیٹھی تو شام تک ڈیرھ بیگھا گندم ڈھیر کرکے ہی دم لیا۔ گاؤ ں آ کر اُس نے اعلان کروایا کہ صرف ایک بیگھا گندم کاٹ کر اتنا شور۔روز روز کا تماشا بند ہونا چاہئے۔ میں نے ڈیڑھ بیگھا گندم کاٹ دی ہے۔ جس میں دم ہو چھ کنال سے زیادہ کاٹ کر اعلان کروائے۔ اُس روز کے بعد گندم کی کٹائی کا کوئی اعلان نہیں ہوا۔

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *