Author Editor Hum Daise View all posts
شوکت جاوید
وجے جوزف جو حال ہی میں تامل ناڈو کے کے نئے CM بنے ہیں انکے اس بیان نے کہ” تمام مسلم میری بہنیں ہیں انکا تحفظ میری ذمہ داری ہےانکی طرف بڑھتا ہوا غلط ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔”وجے جوزف نے وہی کام کیا جو پاکستان میں جب مسیحی بچیوں کو جبرا” مزہب تبدیل کرواکر شادیوں نے زور پکڑا تو ہمارے مسلم بہن بھائی ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس عمل کے خلاف قانون بنوانے میں ہماری مددکی بے شک اسکا سہرا این جی اوز اور مسیحی ایم پی ایز کے سر بھی جاتا ہے۔وجے جوزف جسکا تعلق مسیحی گھرانے سے ہے اس نے سی ایم کا عہدہ سمبھالتے ہی انقلابی اقدامات شروع کردئیے ہیں۔بے شک ادھر اکثریت ہندو بہن بھائیوں کی ہے لیکن جوزف نے سی ایم بن کر یہ ثابت کردیا ہے کہ مزہب انسان کو انسان سے جدا کرسکتا ہے لیکن انسانیت ایک ایسی مقناطیسی قوت ہوتی ہے جو دوسرے مزاہب کےلوگوں کو بھی اپنی طرف کھینچ لیتی ہے وہ علیحدہ بات ہے کہ دنیا اس وقت عجیب دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف ترقی، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور جدید سائنس کے دعوے ہیں، تو دوسری طرف مذہب، نسل، زبان اور عقیدے کے نام پر نفرتوں کی دیواریں بلند کی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا نے انسانوں کو قریب تو کر دیا، مگر دلوں کے فاصلے کم نہ ہو سکے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی سیاست دان، اداکار یا سماجی رہنما انسانیت، محبت اور مذہبی ہم آہنگی کی بات کرے تو وہ محض ایک بیان نہیں رہتا بلکہ امید کی کرن بن جاتا ہے۔ انہی دنوں وجے جوزف کا یہ کہنا کہ
مسلمان میری بہنیں ہیں اور ان کا تحفظ میری ذمہ داری ہے۔یہ جملہ بظاہر مختصر ہے، مگر اپنے اندر ایک وسیع سماجی اور انسانی فلسفہ رکھتا ہے۔ اس بیان نے لاکھوں لوگوں کے دلوں کو چھوا کیونکہ آج کے نفرت زدہ ماحول میں محبت اور تحفظ کی زبان کم سنائی دیتی ہے۔ خاص طور پر برصغیر جیسے خطے میں، جہاں مذہبی شناخت اکثر سیاست کا ہتھیار بن جاتی ہے، وہاں کسی عوامی شخصیت کا اس انداز میں اقلیتوں یا دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے حق میں کھڑا ہونا ایک مثبت پیغام تصور کیا جاتا ہے۔
Tamil Nadu ہمیشہ سے نسبتاً ایک روشن خیال اور سماجی انصاف کی سیاست کا مرکز رہا ہے۔ وہاں کی سیاسی روایت میں مذہبی رواداری اور کمزور طبقات کے حقوق کی بات کی جاتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وجے جوزف نے مسلمانوں کے تحفظ کی بات کی تو بہت سے لوگوں نے اسے انسانیت کا پیغام قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے لکھا کہ سیاست اگر نفرت کے بجائے انسانیت کی بات کرے تو معاشرے بدل سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ہر مذہبی تعلیم انسانیت، محبت اور احترام کا درس دیتی ہے۔ اسلام میں ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ مسیحیت محبت اور معافی کی تعلیم دیتی ہے۔ ہندومت رواداری اور عدم تشدد کا درس دیتا ہے۔ سکھ مت خدمت اور بھائی چارے کی بات کرتا ہے۔ مگر افسوس کہ اکثر اوقات مذہب کو امن کے بجائے نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی رہنما یہ کہتا ہے کہ “دوسرے مذہب کی عورتیں بھی میری بہنیں ہیں” تو یہ دراصل مذہب کی اصل روح کی طرف واپسی کا پیغام ہوتا ہے۔برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں مختلف مذاہب اور ثقافتوں نے صدیوں ساتھ زندگی گزاری۔ مسجد کی اذان، مندر کی گھنٹی، چرچ کی عبادت اور گردوارے کی دعائیں ایک ہی فضا میں گونجتی رہیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد اگرچہ سیاست نے لوگوں کے درمیان دیواریں کھڑی کیں، مگر عوام کے دلوں میں آج بھی انسانیت کی شمع روشن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کہیں کسی اقلیت پر ظلم ہوتا ہے تو دوسرے مذاہب کے لوگ بھی آواز اٹھاتے ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا یہاں بھی کوئی اکثریتی مذہب سے تعلق رکھنے والا رہنما یہ کہہ سکتا ہے کہ “مسیحی، ہندو یا سکھ خواتین ہماری بہنیں ہیں اور ان کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے”؟ یقیناً کہہ سکتا ہے، اور بہت سے لوگ کہتے بھی ہیں۔ پاکستان کے بانی Muhammad Ali Jinnah نے اپنی تاریخی تقریر میں واضح کیا تھا کہ ریاست کے تمام شہری برابر ہیں اور ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہوگی۔ یہی وہ تصور تھا جس پر ایک پرامن پاکستان کی بنیاد رکھی گئی۔
بدقسمتی سے وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں مذہبی عدم برداشت کے واقعات بھی سامنے آئے۔ اقلیتوں پر حملے، عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے کے واقعات اور جبری تبدیلیٔ مذہب جیسے مسائل نے دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ کو متاثر کیا۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرا پاکستان بھی موجود ہے؛ وہ پاکستان جہاں مسلمان چرچوں کی حفاظت کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، جہاں ہندوؤں کے مندروں کی تعمیر میں حصہ لیا جاتا ہے، جہاں سکھ یاتریوں کے استقبال کے لیے پھول برسائے جاتے ہیں، اور جہاں لوگ ایک دوسرے کے مذہبی تہواروں میں شریک ہوتے ہیں۔ یہی وہ پاکستان ہے جو امید دلاتا ہے کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔
اصل مسئلہ صرف بیان دینے کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ اگر کسی معاشرے میں اقلیت خود کو محفوظ محسوس نہ کرے تو خوبصورت الفاظ اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں۔ خواتین کے تحفظ، مذہبی آزادی اور انسانی مساوات کو صرف تقریروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ قانون، تعلیم اور معاشرتی رویوں میں بھی نظر آنا چاہیے۔ اسکولوں میں بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ مذہب اختلاف کا نہیں بلکہ احترام کا نام ہے۔ میڈیا کو نفرت کے بجائے مثبت مثالوں کو اجاگر کرنا ہوگا۔ مذہبی رہنماؤں کو اپنے خطبات میں انسانیت اور رواداری کا پیغام دینا ہوگا۔وجے کے بیان کی مقبولیت دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام نفرت سے تھک چکے ہیں۔ لوگ ایسے لیڈروں کو پسند کرنے لگے ہیں جو تقسیم کے بجائے اتحاد کی بات کریں۔ آج کا نوجوان مذہب کے نام پر لڑائی سے زیادہ امن اور ترقی چاہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ نفرت کبھی معاشروں کو مضبوط نہیں کرتی۔ قومیں اُس وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کے شہری ایک دوسرے کے عقیدے، ثقافت اور شناخت کا احترام کریں۔اگر ہم دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کو دیکھیں تو وہاں قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے۔ ریاست کسی شہری کو اس کے مذہب کی بنیاد پر کم یا زیادہ اہمیت نہیں دیتی۔ یہی اصول جنوبی ایشیا میں بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جب ایک مسیحی، مسلمان کے دکھ میں شریک ہو اور ایک مسلمان، ہندو یا سکھ کے تحفظ کے لیے کھڑا ہو، تبھی معاشرہ حقیقی معنوں میں مضبوط بنتا ہے۔سوشل میڈیا نے اگرچہ نفرت کو پھیلانے میں کردار ادا کیا، مگر یہی پلیٹ فارم محبت اور انسانیت کی آواز بھی بن سکتا ہے۔ وجے کے بیان کو لاکھوں لوگوں نے شیئر کیا کیونکہ لوگ دل سے چاہتے ہیں کہ دنیا میں امن ہو۔ انسان تھک چکا ہے مذہبی جنگوں، تعصبات اور نفرتوں سے۔ اب وہ ایسے الفاظ سننا چاہتا ہے جو دلوں کو جوڑیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صرف اپنے مذہب کے لوگوں کو نہیں بلکہ ہر انسان کو عزت دینا سیکھیں۔ کیونکہ عورت کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہو، اُس کی عزت، تحفظ اور آزادی پوری انسانیت کی ذمہ داری ہے۔ اگر معاشرے کا طاقتور طبقہ کمزور کے تحفظ کے لیے کھڑا ہو جائے تو بہت سی نفرتیں خودبخود ختم ہو سکتی ہیں۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ دنیا ابھی مکمل طور پر اندھیروں میں نہیں ڈوبی۔ اگر کہیں کوئی انسان دوسرے انسان کے لیے محبت اور تحفظ کی بات کرتا ہے، اگر کوئی رہنما نفرت کے بجائے انسانیت کا پیغام دیتا ہے، اگر کوئی شخص مذہب سے بالاتر ہو کر دوسرے کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ
“انسانیت ابھی زندہ ہے”
اور جب تک انسانیت زندہ ہے، امید بھی زندہ رہے گی

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *