Author Editor Hum Daise View all posts
(بیٹے سینئر صحافی آ غا محمد علی فرید کی زبانی)
“آج آ پ کو ایک جوان بیٹے اور اسکی گاڑی میں سوار اس کے بوڑھے والد کا قصہ یاد آرہا ہے 2006ءکی بات ہے ۔۔۔جوان بیٹا اپنے والد کو ایک ہفتے بعد اپنے بڑے بھائی کے گھر سے گاڑی پر لیکر آ رہا ہے بیٹا گاڑی چلا رہا ہے اور فرنٹ سیٹ پر اس کے والد سوچوں میں گم بیٹھے ہیں اور ہلکی ہلکی اواز میں اپنے آپ سے باتیں بھی کررہے تھے اور ایسے باتیں کرنا ان کی عادت بھی تھی۔ابھی گھر تک پہنچنے کا فاصلہ آدھا پونے گھنٹے کا تھا۔ والد کے حکم پر بیٹا 20 ’25 کلومیٹر کی سپیڈ پر گاڑی چلا رہا تھا ۔۔والد کو گاڑی میں موسیقی پسند نہیں تھی اسلئے ٹیپ ریکارڈر بھی خاموش تھا گاڑی میں خاموشی تھی کہ گاڑی چلاتے جوان بیٹے نے ہچکیوں کے ساتھ رونے کی آواز سنی تو گاڑی چلاتے والد کو ہچکیوں کے ساتھ روتے دیکھا ۔۔۔ نوجوان بیٹے نے ساری زندگی اپنے والد کو روتے نہیں دیکھا تھا وہ حیرت زدہ تھا اس کے والد کو کیا ہوگیا ہے جو رونا شروع کردیا ہے اس نے گاڑی روکی والد جو سر جھکاکر رورہے تھے ۔۔۔کاندھے پر ہاتھ کر پوچھا ابو خیر ہے آ پ کیوں رورہے ہیں کوئی درد تکلیف ہے تو ڈاکٹر کے پاس چلیں ۔۔۔ اس کے والد نے روتے ہوئے کہا کہ “مجھے اپنا گھر شدت سے یاد آ رہا ہے” ۔۔۔۔ بیٹے نے والد کو پانی دیا اور یہ سمجھا کہ اس کے والد کافی دنوں بعد گھر جارہے ہیں اور ان کو وہ گھر یاد آ رہا ہے اس لیے اس نے کہا کہ ابو بس آ دھے پونے گھنٹے میں گھر پہنچ جائیں گے ۔۔۔۔تو اس کے والد نے کہا “نہیں یار” یہ ان کا انداز تھا
میں اس گھر کی بات نہیں کررہا ہوں ۔۔۔ بیٹے نے پوچھا پھر کونسے گھر کی یاد نے آ پ کو ہچکیوں کے ساتھ رلادیا ہے ۔۔۔!!! تو اس کے والد نے کہا مجھے 74 سال قبل کا انڈیا روہتک حصار میں اپنی حویلی ۔۔۔ کشادہ گھر یاد آ رہا ہے ۔۔۔ جسے 1947 ء میں ایک رات جب وہ 15 سال کے تھے تو ان کو اپنی امی ابو ایک بڑے بھائی اور دو چھوٹے بھائیوں کے ساتھ رات کے اندھیرے میں چھوڑ نا پڑگیا تھا ۔پھر کبھی اس بھرے پرے گھر کو دیکھنا نصیب نہیں ہوا تھا اور پھر بعد میں وہ کبھی ہندوستان بھی نہیں جاسکے تھے اور اور ۔۔۔۔ وہ گھر بھی نہیں دیکھ سکے تھے ” اب آ پ سوچ رہے ہونگے آ غا صاحب نے ایک بوڑھے والد ایک جوان بیٹے کا درد بھرا قصہ تو سنادیا تھا مگر یہ نہیں بتایا کہ یہ ہیں کون اور اس کے بعد اس بیٹے کے والد کی مزید کیا کہانی ہے ۔۔۔!!! دراصل وہ جوان بیٹا میں آ غا محمد علی فرید خود ہوں اور وہ میرے والد محترم آ غا وسیم احمد خان مرحوم ہیں اور ہم بڑے بھائی محترم ڈاکٹر آ غا ندیم احمد خان کے گھر سے واپس آ رہے تھے ۔ جو اب نشتر ہسپتال سے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک نجی میڈیکل کالج میں نوجوان ڈاکٹرز کو زیور تعلیم سے آراستہ کررہے ہیں
اب میں آپ کو اپنے والد محترم کی کہانی جو کہ دنیا سے ایک ڈیڑھ برس قبل 2006 ءیعنی 20 برس قبل سنائی تھی میں نے سن لی تھی اور اب ان کی 20 ویں ب11 مئی 2026ءبرسی کے موقع پر پیش کررہا ہوں یہ نہیں معلوم مجھے اب کیوں شدت سے یاد آ رہی ہے !!! ۔۔۔ بس یہ سمجھ لیں ایک بیٹا اپنے والد محترم کی زبان سے پیش کی گئی کہانی پیش کرکے اپنی محبت کا اظہار کررہا ہے ویسے کوئی دن ایسا نہیں گزرا ہے جب وہ میری دعاؤں میں شامل نہ ہوں تمام امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے دعاؤں کے بعد میں اپنے جو بھی قریبی عزیز اس فانی دنیا کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں ان کا نام لیکر دعا نہ کرتا ہوں۔۔۔ اسے میں نے اپنی زندگی کا معمول بنا رکھا ہے اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس عمل پر ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق دیتا رہے آ مین ۔۔۔۔۔۔اب وہیں سے کہانی شروع کرتے ہیں جب والد محترم اپنے بھارت والے گھر کو میرے سامنے گاڑی میں یاد کرکے رورہے تھے تو والد محترم نے بتایا کہ انکے والد اور میرے دادا آ غا بشیر احمد خان ایک بڑے بزنس مین اور مین غلہ منڈی میں کاروبار کرتے تھے اور جہاں ہماری حویلی تھی جوکہ کشادہ اور خوبصورت تھی اس میں کئی کمرے تھے وہاں پر سکھوں اور ہندوؤں کے گھر بھر ساتھ ساتھ تھے سب مل جل کر رہتے تھے تو والد کو ایک سکھ بزنس مین نے جو کہ دوست تھا اس نے بتایا کہ آ غا بشیر صاحب آ ج رات سکھوں کا آ پ کے علاقے میں قتل وغارت کا پروگرام بنا ہے اندھیرے میں وہ مسلمانوں کے گھروں پر حملہ کریں گے آ پ اپنا بندوبست کرلیں ۔۔ والد گھر والدہ جو کہ وہاں سکول میں پڑھاتی تھیں کے پاس آ ئے اور گھر چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا والدہ محترمہ نے اپنے زیور نقدی بڑے بھائی آ غا نسیم احمد خان جو کہ گریجویٹ تھے اپنا کتابوں والا بیگ جس میں دوتین سوٹ بھی تھے ‘ میں نہم کلاس میں پڑھتا تھا میں نے اپنا بستہ چھوٹے بھائی آ غا جمشید خان اور اس سے چھوٹے بھائی آ غا شمیم احمد خان کتابیں پکڑی ہوئی تھیں مغرب اور عشاء کے درمیان پچھلے دروازے کو تالا لگا کر نئی منزل پاکستان کی طرف روانہ ہوگئے۔کئی گھنٹوں کی پیدل مسافت کے بعد ریلوے اسٹیشن تک پہنچے تو مسلمان بڑی تعداد میں اس ٹرین میں سوار ہو کر اپنے نئے دیس کے خواب سجائے اور دل میں ایک نئے وطن کی خوشی اور خواب اپنی نسلوں کے بہتر مستقبل کے نشے میں سرشار تھے کیا معلوم تھا کہ ابھی بڑی قربانیاں منتظر ہے گاڑی لاہور کی جانب آ ہستہ آ ہستہ بڑھ رہی تھی کہ ۔۔۔اچانک جھٹکے سے ٹرین رک گئی اور پھر ٹرین پر ہندوؤں اور سکھوں نے حملہ کردیا ٹرین کے ڈبوں سے چیخ و پکار بلند ہورہی تھی خوف کا عالم تھا پھر اچانک ٹرین چلنا شروع ہو ئی اور ڈرائیور جتنی تیزی سے چلا سکتا تھا اس نے دوڈانا شروع کر دی لگتا ہے ٹرین ڈرائیور کو صورتحال کا اندازہ ہوگیا تھا بس پھر ٹرین لاہور سٹیشن پر جاکر رکی تو رات کا اندھیرا چھٹ رہا تھا اور اجالا ہورہا تھا ایسے میں (علی بیٹا) ابو مجھے اس نام سے پکارتے تھے اور علی بھائی میرا نک نیم بھی ہے گھر والے قریبی اسی نام سے مجھے پکارتے ہیں ۔۔۔۔ ابو جان نے بتایا ٹرین میں خون ہی خون اور لاشیں ہی لاشیں تھیں زخمی تکلیف سے آوازیں نکال رہے تھے ایسے میں بڑے ہم دونوں بھائیوں نے لوگوں کے ساتھ اس کام میں مدد شروع کردی چند گھنٹوں کے بعد سٹیشن پر علی بیٹا تمہارے دادا اور دادی نے فیصلہ کیا کہ ملتان چلتے ہیں اس کی وجہ یہ تھی کہ والد محترم کاروبار کے سلسلے میں ملتان اتے جاتے رہے تھے لیکن ہمارا وہاں کوئی عزیز واقارب نہیں تھا پھر اگلے دن پاکستان کی سرزمین پر ٹرین کے ذریعے ملتان پہنچ گئے تھے مہاجرین کے لیے کینٹ کے مقام پر مسلمان بھائیوں اور افسران کی جانب سے لگائے گئے کیمپ میں آ گئے ۔دو سے تین ماہ ان کیمپ میں رہے میں اور بڑے بھائی اس کیمپ میں انے والوں کی خدمت کرتے اور جس قدر ہوتی ان کی مدد کر تے تھے اسی دوران ہمیں اندرون شہر ہنو کے چھجے میں ایک کئی منزلہ عمارت الاٹ ہو گئی جو اس وقت کی سب سے بلند عمارت تھی جس کے تین حصے تھے پھر ہم اس مکان میں اگئے اور اپنے پڑھائی کا سلسلہ شروع کر دیا بڑے بھائی فوج میں چلے گئے اور میں نے مسلم سکول میں نائنتھ کلاس میں داخلہ لے لیا میٹرک وہیں سے کیا اس کے بعد ایمرسن کالج ملتان میں گریجویشن کی اور بی ٹی کیا ایم اے میں تھا کہ گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول عام خاص باغ میں بطور ٹیچر سلیکشن ہو گئی وہاں پر انگلش اور اردو کے پیریڈز پڑھاتا تھا وقت گزرتا رہا اور میں نے پہلے ایم اے اردو کیا پھر ایم اے پولیٹیکل سائنس اور پھر ایم اے ہسٹری کی اسی طرح 70 کی دہائی کے اخر میں جب میں عام خاص باغ ہائی سکول میں ڈپٹی ہیڈ ماسٹر ہو چکا تھا اور سپورٹس کا بھی انچارج تھا ان دنوں عام خاص باغ کی کرکٹ کی بہترین ٹیم تھی 1972 میں جب ملک کے دوسرے اسکولوں کی طرح عام خاص باغ ہائی سکول بھی نیشنلائز ہو گیا تھا یعنی گورنمنٹ اسلامی ہائی سکول عام خاص باغ بن گیا تھا-77ء میں ترقی ہو کر میں گورنمنٹ جوہر ہائی سکول ملتان جو کہ غلہ منڈی اور پل شیدی لعل کے پاس ہوا کرتا تھا وہاں پر ہیڈ ماسٹر جوائن کر لیا ڈیڑھ ایک سال کے بعد مسلم ہائی سکول ملتان میں بطور ہیڈ ماسٹر جوائن کر لیا ان سے پہلے چوہدری عبدالرحمن صاحب ہیڈ ماسٹر ہوتے تھے مسلم ہائی سکول کے کے جی پرائمری سیکشن کے ساتھ ہی چوہدری عبدالرحمن صاحب کی رہائش ہوتی تھی بعد میں وہ کے جی سیکشن کا حصہ بن گئی تھی مسلم ہائی سکول میں بھی پڑھائی کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی طلبہ وہ حصہ دلایا جاتا تھا اور مسلم ہائی سکول اس وقت ملتان کے دو تین بیسٹ سکولوں میں شمار ہوتا تھا سکاؤٹنگ کے میدان میں بھی گورنمنٹ مسلم ہائی سکول کا پورے پاکستان میں بڑا نام تھا اور وہ پورے پاکستان بلکہ ایران میں بھی اس سکول کے طلبہ نے بطور سکاؤٹنگ شرکت کی تھی اور انعام حاصل کیا تھا ایسے ہی میوزک میں عبدالغنی اور پھر تنویر سندھو اور امجد ٹیم میں شامل ہو گئے تھے اور بڑے سریلے بچے سکول سے نکلے چوہدری عبدالرحمن صاحب کے زمانے سے مسلم ہائی سکول کا ڈاچی ڈانس بہت مشہور تھا اس سلسلے کو بھی جاری رکھا گیا ہے اور سکاؤٹنگ کیمپ میں بھی ڈاچی ڈانس دکھایا جاتا تھا۔۔ ٹیچر منیر شامی بھولا کا بہت اچھا کریکٹر کرتے اور داد لیتے تھے ایسے ہی کرکٹ کے میدان میں بھی کئی نامور کھلاڑی اس سکول سے نکلے ہیں جن میں نمایاں نام پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق کا ہے جن کو سکول کے زمانے میں “افل” کہا جاتا تھا ایسے ہی غلام رسول ‘ رضوان ستار اور بہت سے طالب علموں نے کرکٹ میدان میں اپنا نام بنایا ہے ایسے ہی 1992 میں ایک طالب علم نے پورے ملتان میں ٹاپ کیا تھا اور سکول کا نام روشن کیا تھا یہ ابا جی نے اپنے اس دور کے دوستوں کو یاد کرنا شروع کر جن میں ہیڈ ماسٹر عبدالرحیم شاہ’ مہر گل ‘ محمد شوکت حسین ‘اے ڈبلیو ناصر صاحب ملک بشیر صاحب ملک نظیر احمد اعوان صاحب جہانگیر انصاری صاحب۔۔۔ اور پھر بتایا کہ سکول کے دو آ فس مین تھے اور دونوں کے نام محمد بخش تھا اور ایک کو پکارتے تو دونوں متوجہ ہو جاتے تھے اس لیے ایک کو رنگ گورا ہونے کی وجہ سے محمد بخش چٹا کہا جانے لگا تھا سکول میں بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا بھی خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا اور سکول میں دو بڑے گیٹ کے ساتھ ہی پہلے گیٹ پر جو کہ سپورٹس گراؤنڈ کی طرف تھا ادھر داخل ہوتے ہی لیفٹ ہینڈ پر ایک کنٹین ہوا کرتی تھی جس میں پہلے بڑا جیرا صاحب اور دیگر جیرے برادران بھی اپنا کام کیا کرتے تھے اس کینٹین پہ بوتلیں چائے دودھ اور ملائی لگا بند وغیرہ فروخت ہوتا تھا اور اسی کے ساتھ مسجد بھی ہے جبکہ کلمہ چوک والی سائیڈ پہ دوسرے گیٹ پہ داخل ہو تو سیدھے ہاتھ پر پہلے بکس سٹال ہوتا اور اس کے ساتھ ہی کونے پر چھوٹا جیرا بیٹھا ہوتا تھا جو کہ ڈولی روٹی چنے چاول دال مونگ دہی بلے فروخت کیا کرتا تھا۔۔ والد محترم سینیئر ہیڈ ماسٹر ا وسیم احمد 60 برس کے ہونے پر 23 مارچ 1992 کو سکول سے ریٹائر ہو گئے ان کے اعزاز میں ایک بڑی الودائی پارٹی کا بھی انتظام کیا گیا تھا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی تھی ریٹائرمنٹ کے بعد والد محترم کو بڑے بھائی کرنل اغا نسیم صاحب جو کہ فوج سے ریٹائر ہو گئے تھے انہوں نے بڑی کوشش کی کہ والد محترم کوئی پرائیویٹ سکول شروع کردیں اور اس سلسلے میں انہوں نے کئی گھر شاہ رکن عالم کالونی میں بھی دکھائے۔۔۔ مگر والد صاحب نے دلچسپی نہ لی اس دوران ان کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی تھی کیونکہ ان کو پہلا ہارٹ اٹیک ہو گیا تھا اس کے بعد والد صاحب نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے گھر بنانے کی ڈیوٹی اپنے سر لے لی تھی اور اپنی نگرانی میں ان گھروں کی تعمیر کرائی شام کے وقت وہ اپنا تھوڑا وقت گھر کے نزدیک میونسپل کارپوریشن موجودہ دفتر کی ایک سائیڈ پر ایک بیٹھک لگتی تھی جس میں ریٹائرڈ ہیڈماسٹر ا جایا کرتے تھے اور گپ شپ ہو جاتی والد محترم نے اپنے پانچوں بیٹوں اور پانچوں بیٹیوں کی شادیوں کے فرائض سے سبک دوش ہو گئے تھے اور پھر 11 مئی 2007 کا دن اگیا اس روز جمعہ المبارک تھا دنیا سے جانے سے ایک روز قبل بھی والد صاحب دن میں گھر کی تعمیر میں مصروف تھے کہ شام کو ان کو دل میں تکلیف محسوس ہوئی اور ہسپتال پہنچنے تک وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے ہم سب بہن بھائیوں کے سر سے والد کا سایہ اٹھ گیا تھا ہم سب بھائی بہن پریشان تھے لیکن پھر بڑے بھائی ڈاکٹر آ غا ندیم احمد خان صاحب اور میں نے فیصلہ کیا کہ والد صاحب کا نماز جنازہ ممتاز اباد گول پلاٹ میں ادا کیا جائے گا جبکہ چہلم گلگشت کالونی کی رہائش گاہ پر ہوگی۔والد محترم کا اغا وسیم احمد کے پانچ بیٹے ہیں جن میں ڈاکٹر اغا ندیم احمد خان جو کہ کچھ عرصہ قبل نشتر ہسپتال میڈیکل کالج ملتان سے ریٹائر ہونے کے بعد اج کل ایک نجی میڈیکل کالج میں ڈاکٹرز بننے والے طلباء طالبات کو پڑھا رہے ہیں اور بڑی محبت اور پیار سے ہم سب بہن بھائیوں پر دست شفقت رکھے ہوئے ہیں اس کے بعد اغاعامر احمد خان جو کہ بزنس کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور تیسرے نمبر پر میں (آ غا محمد علی فرید) جو کہ صحافت کے میدان میں 34برس سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں اس کے بعد چھوٹا بھائی پروفیسر اغا مسعود احمد خان جو کہ ان دنوں گورنمنٹ سائنس کالج ملتان میں انگلش کے پروفیسر اور پی ایچ ڈی کر رہے ہیں چھوٹا بھائی اغا احمد علی خان اسٹیٹ لائف کارپوریشن ملتان میں جاب کر رہے ہیں۔۔۔اج والد صاحب کی برسی کے حوالے سے میں تھوڑی سی باتیں کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ اپنے والد صاحب کو جو کہ 11 مئی 2007 کو اس دنیا سے رخصت ہوئے اج ان کو بھی 20 برس ہو گئے ہیں تو میں اپنے والد محترم کو بتا دوں کہ ابو جی اپ کے دنیا سے جانے کے بعد بڑے بھائی ڈاکٹر اغا ندیم احمد خان کی محبتوں اور شفقتوں کی بدولت ہم سب بہن بھائی اتفاق ومحبت سے زندگی بسر کررہے ہیں ہم دس بہن بھائیوں میں ایک بہن چار برس قبل اس دنیا سے رخصت ہو گئی ہے اور اپ سے ان کی ملاقات ہو گئی ہوگی ابو جان اپ کو یہ جان کر بڑی خوشی ہو گئی کہ اپ کے جانے کے بعد ہم سب بہن بھائی ۔۔۔ جیسا کہ اپ چاہتے تھے اتفاق پیار محبت سے ایک مٹھی کی طرح زندگی گزار یں تو الحمد اللہ گزارہے ہیں اور سب بہن بھائی ایک دوسرے کے دکھ تکلیف میں اور خوشیوں میں بھی اکٹھے ہوتے ہیں ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اخر میں ابو جی یہی دعا کرتا ہوں اور ہم سب بہن بھائیوں کی بھی دعا ہے کہ ہمارے والدین جو کہ دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں اللہ تعالی ان کی مغفرت اور جنت میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرما ئے ۔اور پڑھنے والوں سے بھی دعاؤں کی درخواست ہے ۔
















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *