مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


جنت میں بھٹکے لوگ…

جنت میں بھٹکے لوگ…

  Author Hum Daise View all posts

 

شوکت جاوید
دنیا میں بعض خطے ایسے ہوتے ہیں جنہیں قدرت اپنی خاص عنایتوں سے نوازتی ہے۔ بلند و بالا پہاڑ، سرسبز و شاداب وادیاں، شفاف جھیلیں، بہتے چشمے اور دل موہ لینے والے مناظر انہیں زمین پر جنت کا نمونہ بنا دیتے ہیں۔ کشمیر بھی ایسا ہی ایک خطہ ہے جسے بجا طور پر “جنتِ ارضی” کہا جاتا ہے۔ صدیوں سے سیاح، شاعر، ادیب اور مصور کشمیر کی خوبصورتی سے متاثر ہوتے رہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہ جنت نظیر وادی کئی دہائیوں سے سیاسی کشمکش، تشدد، نفرت اور عدم استحکام کا شکار ہے۔گزشتہ دنوں پیش آنے والے واقعات نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ چند شرپسند عناصر اپنے محدود مفادات، انتہا پسندانہ سوچ یا سیاسی مقاصد کی خاطر ایک خوبصورت خطے کے امن کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جب بھی کسی علاقے میں نفرت اور تشدد کی آگ بھڑکتی ہے تو سب سے زیادہ نقصان عام انسانوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ معصوم بچے، خواتین، بزرگ اور روزگار کمانے والے افراد سب اس کے اثرات سے متاثر ہوتے ہیں۔
کشمیر کی تاریخ صرف تنازعات کی تاریخ نہیں بلکہ یہ تہذیب، ثقافت، رواداری اور محبت کی تاریخ بھی ہے۔ اس سرزمین نے مختلف مذاہب، ثقافتوں اور روایات کو اپنے اندر سموئے رکھا ہے۔ یہاں کے لوگ امن پسند اور محنتی ہیں جو اپنے خاندانوں کے بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے سیاسی تنازعات اور پرتشدد واقعات نے ان کی زندگیوں کو مسلسل متاثر کیا ہے۔
تشدد کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ یہ انسانوں کے دلوں میں خوف پیدا کرتا ہے۔ جب بچے دھماکوں، فائرنگ یا بدامنی کے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں تو ان کا بچپن متاثر ہوتا ہے۔ تعلیم، صحت اور سماجی ترقی کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ سیاحت، جو کشمیر کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے، شدید متاثر ہوتی ہے۔ ہوٹل، دکاندار، ٹرانسپورٹر اور ہزاروں خاندان معاشی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔دنیا کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بندوقیں کبھی مستقل امن قائم نہیں کر سکتیں ۔ جنگیں وقتی طور پر کچھ نتائج پیدا کر سکتی ہیں لیکن پائیدار امن ہمیشہ مذاکرات، انصاف، برداشت اور انسانی حقوق کے احترام سے حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بڑے تنازعات بھی بالآخر مکالمے کی میز پر ہی حل ہوئے۔ کشمیر کے مسئلے سمیت ہر تنازعے کا حل بھی امن، دانشمندی اور انسانی وقار کے احترام میں پوشیدہ ہے۔مذہبی تعلیمات بھی ہمیں امن، محبت اور بھائی چارے کا درس دیتی ہیں۔ اسلام، مسیحیت، ہندو مت، سکھ مت اور دیگر مذاہب انسانوں کے درمیان احترام اور محبت کو فروغ دینے کی تعلیم دیتے ہیں۔ جب مذہب کو نفرت یا تشدد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو درحقیقت اس کی اصل روح کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے جان و مال اور عزت کا احترام کیا جائے۔میڈیا، تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ نفرت کی بجائے برداشت، تشدد کی بجائے مکالمے اور تقسیم کی بجائے اتحاد کو فروغ دیں۔ نوجوان نسل کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ اختلاف رائے زندگی کا حصہ ہے لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا معاشروں کو تباہ کر دیتا ہے۔
کشمیر کے عوام امن کے مستحق ہیں۔ وہ بھی دنیا کے دیگر انسانوں کی طرح سکون، ترقی، تعلیم اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ان کے بچے خوف کے سائے میں نہیں بلکہ امید اور اعتماد کے ماحول میں پروان چڑھیں۔ ان کے خواب بھی اتنے ہی قیمتی ہیں جتنے دنیا کے کسی دوسرے خطے میں بسنے والے انسانوں کے خواب ہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام متعلقہ فریق تحمل، بردباری اور دور اندیشی کا مظاہرہ کریں۔ نفرت کے بیج بونے والے عناصر کو مسترد کیا جائے اور امن کے پیغام کو فروغ دیا جائے۔ معاشروں کی ترقی جنگوں سے نہیں بلکہ تعلیم، انصاف، معاشی استحکام اور انسانی احترام سے ممکن ہوتی ہے۔
کشمیر واقعی جنت کی وادی ہے، اور جنتوں کو محفوظ رکھنے کے لیے محبت، امن اور انسانیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم نفرت، تشدد اور انتہا پسندی کے راستے کو ترک کر دیں تو یہ وادی ایک بار پھر امن، خوشحالی اور حسن کی علامت بن سکتی ہے۔ تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو عزت دیتی ہے جو امن قائم کرتے ہیں، جبکہ نفرت پھیلانے والے صرف تباہی کی یادگاریں چھوڑ جاتے ہیں۔
آئیے دعا کریں کہ کشمیر میں امن قائم ہو، انسانیت سرخرو ہو اور یہ جنت نظیر وادی آنے والی نسلوں کے لیے امید، محبت اور خوشحالی کا پیغام بن جائے۔

Author

Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author