Author Editor Hum Daise View all posts
شوکت جاوید
پرند ، چرند ، جانور یا وہ انسان ہو جب بھی کوئی مخلوق اس دھرتی پر آنکھ کھولتی ہے تو سب سے پہلے ماں کی محبت بھری موجودگی کو اپنے قریب پاتی ہے-قدرت کے وسیع اور حیرت انگیز نظام میں اگر کوئی جذبہ سب سے زیادہ خالص، بے لوث اور آفاقی ہے تو وہ ” ماں” کی محبت ہے۔شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اس کائنات میں سب سے پہلا رشتہ ماں کا ہے اور سب سے پہلی پہچان بھی ماں ہی ہوتی ہے۔ انسان ہو یا کوئی ننھا پرندہ، جنگل کا درندہ ہو یا صحرا کا چرند، زندگی کی پہلی سانس کے ساتھ جو وجود سب سے پہلے قریب محسوس ہوتا ہے وہ ماں کا وجود ہوتا ہے۔یہ محض ایک جذباتی جملہ نہیں بلکہ سائنسی، فطری، سماجی اور روحانی حقیقت بھی ہے۔ ماہرینِ نفسیات، حیاتیات دان اور سماجی علوم کے محققین اس بات پر متفق ہیں کہ ماں اور اولاد کا تعلق فطرت کے مضبوط ترین تعلقات میں سے ایک ہے۔ یہی تعلق زندگی کی بقا، تربیت اور جذباتی استحکام کی بنیاد بنتا ہے۔قدرت کے نظام پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ماں کا کردار صرف انسان تک محدود نہیں۔ ایک چڑیا اپنے بچوں کے لیے تنکے تنکے سے گھونسلا بناتی ہے۔ شدید گرمی، بارش یا طوفان میں بھی وہ اپنے پروں کے سائے میں بچوں کو محفوظ رکھتی ہے۔ عقاب جیسا طاقتور پرندہ بھی اپنے بچوں کو اڑنا سکھانے کے لیے اپنی زندگی خطرے میں ڈالتا ہے۔ جانوروں کی دنیا میں شیرنی اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی خطرے سے ٹکرا جاتی ہے۔ گائے، بکری، ہرنی اور اونٹنی اپنے بچوں کو پہچاننے اور ان کی بھوک، خوف اور ضرورت کو محسوس کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتی ہیں۔
یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ ماں کی محبت کسی مذہب، نسل یا مخلوق کی قید میں نہیں بلکہ یہ قدرت کا عطا کردہ عالمگیر جذبہ ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ماں اور بچے کے درمیان تعلق پیدائش سے پہلے ہی قائم ہو جاتا ہے۔ انسانی دماغ میں ایسے ہارمونز موجود ہوتے ہیں جو ماں میں شفقت، تحفظ اور قربانی کے جذبات پیدا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ماں اپنی نیند، آرام اور خواہشات قربان کرکے اپنی اولاد کے لیے جیتی ہے۔انسانی معاشروں میں ماں کو ہمیشہ عزت اور تقدس حاصل رہا ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب اور تہذیبوں نے ماں کے احترام کو بنیادی اخلاقی قدر قرار دیا۔ اسلام میں ماں کے قدموں تلے جنت رکھی گئی، جبکہ بائبل مقدس میں والدین کے احترام کو خدائی حکم کہا گیا۔ مقدسہ مریم کی شخصیت ایک عظیم ماں کے طور پر آج بھی احترام کی علامت ہے۔ قرآن و بائبل دونوں میں ماں کی قربانیوں کا ذکر انسان کو عاجزی اور شکرگزاری کا درس دیتا ہے۔بدقسمتی سے جدید دور میں انسان ترقی تو کر گیا مگر رشتوں کی حرارت کہیں کم ہوتی جا رہی ہے۔ آج مادیت کی دوڑ نے انسان کو اتنا مصروف کر دیا ہے کہ وہ اپنی ماں کی تنہائی، اس کی خاموش دعاؤں اور اس کی قربانیوں کو نظرانداز کرنے لگا ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے اس دور میں کئی گھر ایسے ہیں جہاں ماں موجود تو ہوتی ہے مگر اولاد کے پاس اس کے لیے وقت نہیں ہوتا۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ معاشروں میں اولڈ ہاؤسز بڑھ رہے ہیں۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنی جوانی اولاد کی پرورش میں گزار دی، بڑھاپے میں تنہائی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہ صورتحال صرف مغرب تک محدود نہیں بلکہ مشرقی معاشروں میں بھی خاندانی نظام کمزور پڑ رہا ہے۔ حالانکہ ایک ماں صرف گھر کی فرد نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر ماں مضبوط، باوقار اور مطمئن ہو تو نسلیں سنور جاتی ہیں۔ماہرینِ تعلیم اور نفسیات کہتے ہیں کہ بچے کی شخصیت سازی میں سب سے بنیادی کردار ماں ادا کرتی ہے۔ بچے کی زبان، رویہ، اخلاق، اعتماد اور جذباتی توازن کی تشکیل ابتدائی برسوں میں ماں کی گود میں ہوتی ہے۔ ایک محبت کرنے والی ماں معاشرے کو پُرامن اور متوازن انسان دیتی ہے، جبکہ بے توجہی اور محرومی کئی سماجی مسائل کو جنم دیتی ہے۔پاکستان جیسے معاشروں میں ماں کا کردار اور بھی زیادہ اہم ہے۔ یہاں لاکھوں مائیں غربت، مہنگائی اور سماجی دباؤ کے باوجود اپنے بچوں کی بہتر زندگی کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی ہیں۔ دیہات کی عورتیں کھیتوں میں کام بھی کرتی ہیں اور گھر بھی سنبھالتی ہیں۔ شہروں میں ملازمت پیشہ خواتین دفتر اور گھر دونوں کی ذمہ داریاں نبھاتی ہیں۔ اس کے باوجود ماں کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی۔قدرت نے ماں کے دل میں عجیب طاقت رکھی ہے۔ بچہ اگر بیمار ہو تو ماں ساری رات جاگ سکتی ہے۔ اولاد اگر ناکام ہو جائے تو پوری دنیا کے برعکس ماں امید کا دامن نہیں چھوڑتی۔ یہی وہ ہستی ہے جو اولاد کی کامیابی پر سب سے زیادہ خوش اور اس کے دکھ پر سب سے زیادہ دکھی ہوتی ہے۔
شاعر نے شاید اسی حقیقت کو محسوس کرکے کہا تھا
ماں ایسی روشنی ہے جو کبھی مدھم نہیں ہوتی
یہ وہ ہستی ہے جو حالات سے برہم نہیں ہوتی
میں نے فردوس تو نہیں دیکھا مگر اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ
” ماں کے قدموں میں ہی راحت کا جہاں ہوتا ہے”
حیاتیاتی تحقیق بھی ثابت کرتی ہے کہ ماں کی قربت بچے کی ذہنی نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ وہ بچے جنہیں ابتدائی عمر میں ماں کی محبت اور توجہ ملتی ہے، ان میں اعتماد، ہمدردی اور جذباتی استحکام زیادہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اب مدر اینڈ چائلڈ کیئر پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔اگر ہم پرندوں اور جانوروں کی دنیا کا مشاہدہ کریں تو وہاں بھی ماں کی قربانی حیران کن نظر آتی ہے۔ ایک مرغی اپنے چوزوں کو بچانے کے لیے بڑے سے بڑے جانور کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ ایک بلی اپنے بچوں کو منہ میں اٹھا کر محفوظ جگہ منتقل کرتی ہے۔ یہ تمام مناظر انسان کو یہ سبق دیتے ہیں کہ ماں کی محبت فطرت کا سب سے طاقتور جذبہ ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان نے ترقی کے ساتھ حساسیت کھو دی ہے۔ ہم کامیابیوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے اس ہستی کو بھول جاتے ہیں جس نے ہمیں چلنا، بولنا اور جینا سکھایا۔ ماں کی خدمت صرف ایک اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ انسانیت کی معراج ہے۔ ماں کی دعا انسان کے لیے وہ طاقت ہے جو بڑے بڑے طوفانوں کا رخ موڑ سکتی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ماں کے احترام کو صرف ایک دن یا رسمی تقریب تک محدود نہ رکھیں۔ ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں اپنی ماؤں کے لیے وقت نکالنا ہوگا، ان کے احساسات کو سمجھنا ہوگا اور ان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا ہوگا۔ کیونکہ ماں صرف جنم دینے والی ہستی نہیں بلکہ زندگی کو معنی دینے والا وجود ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات میں محبت کی سب سے پہلی زبان ماں ہے۔ پرند ہوں، چرند ہوں یا انسان، ہر مخلوق زندگی کی ابتدا ماں کے لمس، اس کی آواز اور اس کی محبت سے کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماں کا رشتہ وقت، فاصلے اور حالات سے بالاتر ہوتا ہے۔
آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ اگر دنیا میں محبت، ایثار اور خلوص کو ایک نام دینا ہو تو وہ صرف ” ماں” ہے۔ کیونکہ ماں وہ واحد ہستی ہے جو اپنی اولاد کے لیے خود جلتی ہے مگر اس کی زندگی کو روشن کر دیتی ہے۔ خدا ہر بچے کی ماں کو محفوظ رکھے۔















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *