Author Editor Hum Daise View all posts
تحریر و تحقیق : انیسہ کنول
احمد پور شرقیہ کے نواحی گاؤں مہراب والا قلندر کالونی میں پیش آنے والا صابرہ شریف کا دل دہلا دینے والا واقعہ صرف ایک خاتون کے قتل کی کہانی نہیں بلکہ اس سماجی سوچ کا عکس ہے جو آج بھی عورت کو مرد کی ملکیت سمجھتی ہے اور ”غیرت“ کے نام پر تشدد کو جواز فراہم کرتی ہے۔صابرہ شریف ایک عام خاتون نہیں تھیں؛ وہ ایک ماں، ایک بیوی اور ایک اسکول ٹیچر تھیں، جو اپنے علاقے کے بچوں کو تعلیم دے کر ایک بہتر مستقبل کی امید جگا رہی تھیں۔ مگر افسوس کہ اسی تعلیم یافتہ اور خودمختار خاتون کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا- ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم، جو مقتولہ کا شوہر تھا، نے ”کردار کے شبہ“ کا الزام لگا کر ان پرحملہ کیا۔ تیز دھار آلے سے جسم پر متعدد وار کرنے کے بعد ان کے ناک اور کان کاٹے گئے اور آخرکار سر تن سے جدا کر دیا گیا۔ اس سفاکانہ قتل نے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے علاقے کو خوف اور صدمے میں مبتلا کر دیا-صابرہ شریف کے بھائی صابر علی نے قلندر کالونی میں کریانہ کی دوکان بنا رکھی ہےاس نے گزشتہ سال جولائی مین ایف آئی آر درج کروائی کہ آج میں اپنے گھر موجود تھا کہ میری همشیره مسماہ صابرہ شریف زوجہ مقصود احمد قوم راجپوت سکنہ مظفر کالونی کا پیغام آیا کہ میرا خاوند مقصود احمد روز میرے ساتھ جھگڑا کرتا ہے اور مجھ پر شک کرتا ہے۔ آپ آئیں چنانچہ میں، فیض محمد ،اور محمد خلیل اپنی ہمشیرہ مسماۃ صابرہ شریف کے گھر تقریباً شام کو پہنچے جو نہی اندر داخل ہوئے تو دیکھا ایک کسی نامعلوم الاسم نے میری بہن صابرہ شریف کو ٹانگوں سے پکڑا ہوا تھا اور اس کا شوہر مقصود احمد ناک کاٹ دی تھی اور گلے پر چھری چلا رہا تھا۔ جبکہ علی حیدر عرف چاند مقصود احمد کا بیٹا بھی ساتھ کھڑا ہوا تھا-ہم نے ملزمان کو پکڑنے کی کوشش کی تو ملزمان نے دھمکی دی کہ خبر دار اگر قریب آئے تو تمہارا بھی یہی حشر ہوگا اور ملزمان چھری لہراتے ہوئے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر فرار ہو گئے۔ مقصود احمد اور علی حیدر و ایک کسی نامعلوم ملزمان نے غیرت کے نام پر میری ہمشیرہ صابرہ بی بی کو ناحق قتل کیا ہے۔ ہم نے پولیس کو اطلاع کی تو پولیس آ گئی اور کاروائی کی- متاثرہ خاندان کے ایک قریبی رشتہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مقتولہ کو کافی عرصے سے شوہر کی جانب سے تشدد اور دباؤ کا سامنا تھا۔ ان کے مطابق شوہر بار بار اس بات پر زور دیتا تھا کہ وہ اپنے والد سے جائیداد کا حصہ طلب کرے، اور اکثر اسی معاملے پر جھگڑے ہوتے تھے۔ رشتہ دار کا کہنا تھا کہ بظاہر قتل کی اصل وجہ یہی جائیداد کا تنازع تھا، تاہم واقعے کو ”کردار کے الزام“ کا رنگ دے کر اسے معاشرتی جواز دینے کی کوشش کی گئی۔علاقے میں اس قدر خوف پایا جاتا ہے کہ بہت سے لوگ کھل کر بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔مقامی افراد کو خدشہ ہے کہ اگر انہوں نے اس واقعے کے بارے میں آواز اٹھائی تو مستقبل میں انہیں بھی خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔متعلقہ تھانے ڈیرہ نواب کے ایس ایچ او اعتزاز حسین کے مطابق واقعے کا مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 ت، پ 311, ت،پ, 34 ت،پ دفعات کے تحت درج کیا گیا اور ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی گئی۔ تفتیشی افسرعمران وڑائچ کا کہنا ہے کہ کیس کی مکمل چھان بین کی گئی ہے اور شواہد کی بنیاد پر چالان بھی عدالت میں پیش کیا گیا ہے جس کی بنیاد پر ملزم ابھی زیر حراست ہے اور کورٹ میں مقدمہ بھی ابھی زیر سماعت ہے- تاہم انسانی حقوق کے کارکن علی رضا ہاشمی کا کہنا ہے کہ صرف مقدمہ درج ہونا یا گرفتاری ہونا انصاف کی ضمانت نہیں ہوتا؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایسے مقدمات اکثر کمزور تفتیش، سماجی دباؤ یا صلح کےباعث منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتے۔پاکستان کریمنل ترمیمی ایکٹ 2016 کے تحت غیرت کے نام پر قتل کو روکنے کے لیے قوانین سخت کیے گئے۔ اس قانون کے مطابق اگرچہ ورثا قاتل کو معاف کر بھی دیں، تب بھی عدالت ریاست کی جانب سے سزا برقرار رکھ سکتی ہے اور مجرم کو عمر قید تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔ مگر قانون کی موجودگی کے باوجود اس پر مؤثر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان ( ایچ آر سی پی ) کی رپورٹ کے مطابقہ پاکستان میں ہر سال سینکڑوں خواتین غیرت کے نام پر قتل کا شکار ہوتی ہیں گزشتہ دہائی کے دوران ہزاروں کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں بڑی تعداد پنجاب سے سامنے آئی حالیہ رپورٹس کے مطابق 2024 میں ملک بھر میں پانچ سو سے زائد ایسے واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ اکثر کیس رپورٹ ہی نہیں دیہی علاقوں میں جرگہ سسٹم، خاندانی دباؤ اور معاشی کمزوری بھی انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔ کئی خاندان عدالتوں کے طویل اور مہنگے عمل سے بچنے کے لیے صلح کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں مجرموں کے حوصلے بلند رہتے ہیں۔ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ جام خالد بونہ اس جرم کے بارے قانونی سزائیں جو ہو سکتی ہیں بتائیں قتلِ عمد یہ سب سے بنیادی اور سنگین دفعہ ہے۔ اس کے تحت سزا: سزائے — PPC دفعہ 302 موت، یا عمر قید ساتھ میں دیت )خون بہا( بھی عائد ہو سکتی ہے )عدالت کے فیصلے کے مطابق( اگر عدالت قتل کو ”غیرت کے نام پر قتل“ قرار دے تو عام طور پر سزا میں سختی کی جاتی ہے اور فِساد فی العرض یہ دفعہ PPC معافی کے باوجود بھی سزا برقرار رہ سکتی ہے دفعہ 311 اس وقت لگتی ہے جب جرم انتہائی سفاکانہ، عوامی خوف پیدا کرنے والا یا معاشرے کے لیے خطرناک نوعیت کا ہو۔ اس کے تحت: عدالت قاتل کو سزائے موت یا عمر قید دے سکتی ہے-یہ سزا ورثاء کی معافی کے باوجود بھی برقرار رہ سکتی ہے یعنی اگر مقتول کے ورثاء معاف بھی کرنا چاہیں تو سزا مشترکہ ارادہ اس کا مطلب ہے کہ جرم ایک سے زیادہ — PPC سے بری نہیں ہو سکتے دفعہ 34 افراد نے مشترکہ منصوبہ بندی یا ارادے سے کیا، لہٰذا: تمام شریک ملزمان کو برابر ذمہ دار سمجھا جائے گا اور ان پر بھی وہی سزا لاگو ہو سکتی ہے جو مرکزی ملزم پر ہو- انھوں نے بتایا کہ یہ قانونی سزائیں ہیں اگر ان سزاؤں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور کسی بھی صورت معافی کے ذریعے سزا سے بچنے کا راستہ نہ رہے تو ایسے جرائم میں واضح کمی آ سکتی ہے۔بدقسمتی سے اکثر کیسز میں کمزور تفتیش، گواہوں کا ڈر جانا اور مالی اثر و رسوخ انصاف کےعمل کو متاثر کرتا ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست کو چاہیے کہ ایسے مقدمات میں خصوصی پراسیکیوشن یونٹس قائم کرے، تاکہ کیسز کو تیزی سے منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔گزشتہ چند برسوں میں پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے غیرت کے نام پر قتل کے متعدد واقعات سامنے آئے، جن میں اکثر متاثرہ خواتین کو شادی کے انتخاب، تعلیم جاری رکھنے یا محض شبہ کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔
انسانی حقوق کے لَیے کام کرنے والی سوشل ورکر رضیہ جوزف کے مطابق ایسے واقعات کی بڑی وجہ وہ ذہنیت ہے جو عورت کی آزادی اور خودمختاری کو مرد کی عزت سے جوڑ دیتی ہے۔ جب تک اس سوچ میں تبدیلی نہیں آتی، صرف
قانون سازی مسئلے کا مکمل حل نہیں ہو سکتی- عورت فاؤنڈیشن, ایچ آر سی پی اور دیگر تنظیموں کا موقف بھی یہی ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے خاتمے کے لیے صرف قانونی اقدامات کافی نہیں بلکہ سماجی سطح پر شعور بیدار کرنا بھی ضروری ہے۔ ان کےمطابق خواتین کے خلاف تشدد کے مقدمات میں فوری اور مؤثر تفتیش کو یقینی بنایا جائے متاثرہ خاندانوں کو قانونی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جائے-تعلیمی اداروں اور میڈیا کے ذریعے آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ غیرت کے نام پر تشدد کو معاشرتی طور پر ناقابلِ قبول بنایا جا سکے – ایک اجتماعی ذمہ داری کے طور پر صابرہ شریف جیسی خواتین معاشرے کی روشنی ہوتی ہیں۔ وہ تعلیم دیتی ہیں، نئی نسل کو سنوارتی ہیں اور سماج کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ مگر جب یہی خودمختاری فرسودہ سوچ سے ٹکراتی ہے تو اکثر اس کا انجام تشدد کی صورت میں نکلتا ہے۔ صابرہ شریف کا قتل ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر کب تک عورت کی زندگی کو مرد کی غیرت کے پیمانے سے ناپا جاتا رہے گا؟یہ واقعہ صرف ایک جرم نہیں بلکہ ایک اجتماعی سوال ہے — کیا ہم واقعی ایک ایسے معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں عورت کو جینے کا بنیادی حق حاصل ہو؟ اگر معاشرہ، ریاست اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر مؤثر اقدامات نہ کریں تو کل کوئی اور صابرہ، کوئی اور ماں اورکوئی اور بیٹی اسی انجام کا شکار ہو سکتی ہے- صابرہ شریف کی کہانی انصاف، برابری اور انسانیوقار کے لیے ایک پکار ہے۔ اس پکار کو سننا اور اس پر عمل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے-

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *