Author Editor Hum Daise View all posts
سموئیل بشیر
اسلام آباد میں وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے کم عمر مسیحی لڑکی، ماریہ بی بی، کی مسلمان نوجوان سے شادی کو قانونی قرار دینے کے حالیہ فیصلے نے ملک بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف قانونی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ پاکستان میں اقلیتی حقوق، کم عمری کی شادی اور مذہب کی تبدیلی جیسے حساس موضوعات کو بھی دوبارہ مرکزِ نگاہ بنا دیتا ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں اس امر کو بنیاد بنایا کہ لڑکی نے نکاح سے قبل اسلام قبول کیا تھا، اور چونکہ اسلامی اصولوں کے مطابق مسلمان مرد اہلِ کتاب خواتین سے نکاح کر سکتا ہے، اس لیے نکاح کو درست قرار دیا گیا۔ مزید برآں، عدالت نے واضح کیا کہ چائلڈ میریج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 کم عمری کی شادی کو جرم تو قرار دیتا ہے، مگر اس میں نکاح کو کالعدم قرار دینے کی کوئی صریح شق موجود نہیں۔یہ فیصلہ پاکستان کے قانونی نظام میں موجود ایک بنیادی تضاد کو بے نقاب کرتا ہے۔ ایک طرف قانون کم عمری کی شادی کو قابلِ سزا جرم قرار دیتا ہے، جبکہ دوسری طرف اسی شادی کو برقرار رکھا جاتا ہے۔ اس تضاد کے باعث نہ صرف قانون کی عملداری متاثر ہوتی ہے بلکہ عدالتی فیصلوں میں یکسانیت بھی قائم نہیں رہتی۔مزید برآں، مختلف صوبوں میں شادی کی عمر کے حوالے سے قوانین میں فرق بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے، جس سے ایک واضح اور ہم آہنگ قانونی فریم ورک کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔پاکستان میں کم عمری کی شادی ایک دیرینہ سماجی مسئلہ ہے، جو غربت، ناخواندگی اور صنفی عدم مساوات سے جڑا ہوا ہے۔ جب عدالتیں ایسے نکاح کو برقرار رکھتی ہیں، تو اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ قانونی سزائیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں جبکہ نکاح کو تحفظ حاصل ہے۔اس کے نتیجے میں بچیوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے-صحت کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے-معاشی خودمختاری کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں-مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسیحی اور ہندو لڑکیوں کے حوالے سے جبری مذہب تبدیلی کے الزامات پہلے ہی انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس میں سامنے آتے رہے ہیں۔ ایسے کیسز میں اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آیا مذہب کی تبدیلی اور شادی واقعی رضامندی سے ہوئی یا کسی دباؤ کا نتیجہ تھی۔
کم عمر افراد کے کیسز میں رضامندی کا تعین مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ اس عمر میں فیصلہ سازی کی مکمل آزادی اور شعور پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے-پاکستان اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن (UNCRC) سمیت متعدد بین الاقوامی معاہدوں کا فریق ہے، جو بچوں کو جبری شادی اور استحصال سے تحفظ فراہم کرنے پر زور دیتے ہیں۔ ایسے عدالتی فیصلے عالمی سطح پر پاکستان کی ذمہ داریوں اور ساکھ کے حوالے سے سوالات کو جنم دے سکتے ہیں۔ماہرین قانون اور انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق، اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں-کم عمری کی شادی کے قوانین میں واضح ترمیم، جس میں نکاح کو بھی کالعدم قرار دینے کی شق شامل ہو۔
مذہب کی تبدیلی کے لیے کم از کم عمر اور عدالتی نگرانی کا تعین۔اقلیتی برادریوں کے تحفظ کے لیے خصوصی قانونی مکانیزم-عدالتی نظام میں یکساں تشریح اور عمل درامد۔وفاقی آئینی عدالت کا یہ فیصلہ ایک اہم نظیر بن سکتا ہے، مگر اس کے اثرات محض ایک کیس تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ فیصلہ اس وسیع تر سوال کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان میں قانون، شریعت اور انسانی حقوق کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔جب تک واضع قانون سازی، موثر عملی درآمد اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جاتے، ایسے فیصلے نہ صرف قانونی بحث کو جنم دیتے رہیں گے بلکہ معاشرتی عدم تحفظ کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔
















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *