مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


منجی تھلے ڈانگ پھیرنے کا سیاسی بیان اور بعض حلقوں کا احتجاج!

منجی تھلے ڈانگ پھیرنے کا سیاسی بیان اور بعض حلقوں کا احتجاج!

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

سمیر اجمل
پنجا بی ایک وسیع زبان ہے جس کے پاس الفاظ اور محاورے کا ذخیرہ موجود ہے یہ الفاظ اور محاورے حسب ضرورت موقع محل کی مناسبت سے استعمال کئے جائیں تو حسن تخاطب کو بڑھانے کے ساتھ اس تقریب یا محفل کو چار چاند لگادیتے ہیں جس میں بیان کئے جارہے ہوں لیکن اگر یہی الفاظ یا محاورے شعوری یا لاشعوری طور پر ایسی جگہ استعمال کئے جائیں جہاں ان کی ضرورت نہ ہو تو مشکل کھڑی ہوجاتی ہے جیسے کہ آجکل ہمارے یہاں ایک سیاسی شخصیت کو ایک محاورے کی وجہ سے مشکلات کا سامناہے اور اس کی وجہ پنجابی زبان کی وسعت ہے پنجابی کے ایک ایک لفظ اور محاورے کے کئی معنی ہیں پنجابی کے کئے محاورے زبان زد عام ہیں اور سیانے لوگ اپنے بات کو سمجھانے اور واضح کرنے کے لئے ان کا بکثرت استعمال کرتے ہیں ”منجی تھلے ڈانگ پھیرنا“ بھی انہی محاوروں میں سے ایک ہے جس کا مطلب خود احتسابی ہے چند روز قبل سابق صوبائی وزیر اور موجودہ ایم پی اے اعجاز آگسٹین نے ایک تقریب کے دوران یہ محاورہ چرچ کے حوالے سے استعمال کیا تھا جس کے سوشل میڈیا پر وائر ل ہونے کے بعد مذہبی حلقوں کی جانب سے اس پر کافی احتجاج دیکھنے کو مل رہا ہے کچھ لوگ تو لائٹر موڈ میں انہیں ہدف تنقید بنا رہے ہیں جبکہ بعض حلقوں کی جانب سے تیز و تند بیانات بھی جاری کئے جارہے ہیں اور انہیں چرچ سے معافی مانگنے کا کہا جا رہا ہے۔ اگر سیاق و سباق کے ساتھ یہ پورا بیان سنا جائے تو صاف واضح ہو جاتاہے کہ یہ بیان خود احتسابی کے زمرے میں ہی جاری کیا گیاہے مگر سوشل میڈیا پر ان کا بیان چونکہ کٹ کرکے وائرل کیا گیا ہے اس لئے سیاستدانوں کو ہدف تنقید بنانے والے اپنی مرضی کے معنی نکال کرا نہیں تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں اور جس طرح سے یہ بیان وائر ل کیا گیاہے اس سے نظر یہی آرہا ہے کہ اس کا مقصد سیاسی شخصیات خاص کر جنہوں نے یہ بیان دیا ہے کو ہدف تنقید بنانا ہے۔ اعجاز آگسٹین تیز و تند بیانات کی وجہ سے مشہور ہیں وہ ایسے بیان دینے کے بعد ان پر قائم بھی رہتے ہیں مگر اب چونکہ معاملہ چرچ کا ہے اس لئے ان کی جانب سے کسی حد تک وضاحتی بیان بھی جاری کیا جا چکاہے جس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے جو بیان دیا تھا وہ چرچ کے حوالے سے ہے جس میں وہ خود بھی شامل ہیں یہ چرچ لیڈر شپ کے حوالے سے نہیں حالانکہ اس وضاحت کی بھی ضرورت نہیں تھی مگر جس طرح سے چرچ لیڈر شپ یا مذہبی رہنماؤں کی عزت یا عزت نفس بہت نازک ہوتی ہے سیاستدانوں کی بھی یہی حال ہے وہ بھی عوامی رد عمل سے خوفزدہ رہتے ہیں یہاں معاملہ چونکہ چرچ کا اس لئے انہیں یہ وضاحت نما بیان جاری کرنا پڑا ہے جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکاہے کہ اپنی تقریر میں جو محاورہ انہوں نے استعمال کیا یہ خود احتسابی کے ذمرے میں آتا ہے اور اسے کوئی دوسرا رنگ دینا مناسب نہیں مگر مخصوص حلقو ں کی جانب سے اسے ایسا رنگ دیا جا رہا ہے جس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ انہوں نے بطور سیاستدان چرچ یا مذہبی حلقوں کی توہین کی ہے‘ چرچ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور چرچ سیاست سے مبرا ہے حالانکہ معاملہ اس کے الٹ ہے پاکستان میں چرچ اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے اور اب بھی ہے جداگانہ انتخابات کے دور میں چرچ اپنے نمائندگان کو منتخب کرواتا ہے رہا ان میں سے بعض تو چرچ کی روایتی پہچان (چوغے) کے ساتھ بھی منتحب ہوئے جیسے فادر ڈیرک مسکیٹا اور فادر روفن جولیس‘ جبکہ بعض چرچ کی آشیر آباد سے منتحب ہوتے رہے ہیں (جن کی لمبی فہرست ہے)اور جب یہ مخلو ط طریقہ انتخاب آیا ہے تو اس میں بھی چرچز کے ذریعے ہی سیاسی کمپین چلائی جاتی رہی ہے اور اب بھی چلائی جارہی ہے کونسا سیاسی عمل ہے جو چرچ میں نہیں ہوتا‘ عبادتوں میں سیاسی شخصیات کی شمولیت‘ سیاسی تقریریں‘ سیاسی تقریبات اوریہاں تک کہ مسیحوں کے نزدیک جو مقدس ترین مقام ہے (پلپٹ) اس پر بھی سیاسی شخصیات (جو کہ غیر مسیحی ہوتے ہیں)کو کھڑا کرکے تقاریر کروائی جاتی ہیں ایسے میں اگر ایک سیاست دان یہ کہہ دیا ہے کہ چرچ میں احتسابی عمل ہونا چاہئے تو اس پر اس قدر شور و غل کی کیا ضرورت ہے؟ اس سیاسی بیان کے حوالے سے تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے چرچ کے حوالے سے جنہوں کے بیان دیا کیا انہوں نے اپنی جماعت یا سیاسی قیادت کے حوالے سے کبھی بات کی ہے یا انہیں اپنی منجی کے نیچے ڈانگ پھیرنے کا کہا ہے تو اس حوالے سے عرض ہے کہ سیاست دانوں کی منجی کے نیچے تو ڈانگ پھرتی رہتی ہے کبھی نیب ان کی منجی کے نیچے ڈانگ پھیر تی ہے تو کبھی کوئی اور ادارہ‘ ان کو تو اپنے عملوں کا جواب دینا پڑتا ہے جیلیں بھی کاٹنی پڑتی ہیں مگر دوسری طرف؟ ان کو تو اگر ایف آئی اے والے پوچھ لیں کہ باہر سے غریبوں کے نام پر کتنے پیسے آئے ہیں اور کہاں خرچ ہوئے ہیں تو ایمان خطرے میں پڑجاتاہے پریس کانفرنسیں شروع ہوجاتی ہیں کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہورہی ہے ہمارے سے حساب کتاب نہ لیا جائے تو پھر غصہ کس بات کا؟ اس لئے جو بات جس زمرے میں کہی گئی ہے اگر اس کو اس سیاق و سباق میں دیکھا جائے تو یہ غیر ضروری تنقید کا سلسلہ بند ہوسکتا ہے

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author