Author Editor Hum Daise View all posts
سمیر اجمل
خبر یہ ہے کہ کراچی سمیت ملک بھر میں ڈرگ سپلائی کرنے والی انمول عرف پنکی کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا ہے یہ خبر تو اتنی بڑی نہیں تھی مگر جس طرح سے یہ گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے اور اس کے بعد مبینہ طور پر اس ڈرگ کوئین کی جانب سے جو انکشافات کئے جارہے ہیں اس نے اس خبر کو بڑا بنا دیاہے نیشنل میڈیا کے پرائم ٹائم سے لیکر اخبارات کے پہلے صفحے تک اسی ڈرگ کوئین کی گرفتاری اور انکشافات کے چرچے ہیں یہ انکشافات اس قدر خوفناک ہیں کہ سندھ حکومت کو دھان پان سی نظر آنے والی اس لڑکی سے تفتیش کے لئے جے آئی ٹی بنا نا پڑی ہے جو اس کیس سے جڑے معاملات بارے انکوائری کرے گی یہ کیس شاید اتنا ہائی لائٹ نہ ہوتا اور جے آئی ٹی بھی نہ بنتی اگر اس کے تانے بانے تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی سے نہ ملتے یہی وہ معاملہ ہے جس نے ہر ذی شعور کو ہلا کر رکھ دیا ہے کہ وہ جگہ جہاں پر لوگ اپنے بچوں کو مستقبل سنوارنے کے لئے بھیجتے ہیں وہاں پر ان کا حال بگاڑنے اور مستقبل تاریک کرنے والوں کی مکمل رسائی ہے اور تعلیمی اداروں کے اندر منشیات سپلائی کا مکمل نیٹ ورک موجود ہے طلباء بغیر روک ٹوک کے کوکین اور دیگر موذی نشے کو حاصل اور استعمال کر رہے ہیں ممکن ہے کہ اس ڈرگ کوئین کی گرفتاری اور انکشافات کے بعدحکام بالا کو تعلیمی اداروں کی حالت زارپر رحم آجائے اور ایسے اقدامات کئے جائیں جس سے مستقبل کے معماروں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچ جائے کیونکہ اس وقت تعلیمی اداروں کا جو ماحول ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی کی خبریں پہلے بھی آتی رہتی ہیں مگر ان کو کبھی سیریس نہیں لیا گیا نہ کبھی کوئی جے آئی ٹی بنی اور نہ ہی اس نیٹ ورک کو توڑنے کی کوشش کی گئی جس کے ذریعے تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی کی جاتی ہے اور نہ کبھی ان معاملات کا جائزہ لیا گیا ہے جس سے تعلیمی اداروں کا ماحول آلودہ ہورہا ہے اور اس میں صرف منشیات سپلائی ہی نہیں اور بھی بہت سے معاملات ہیں جن پر حکومت وقت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے تعلیمی اداروں کی عمارتوں سے لیکر ان کے اندر ہونے والی ایکٹویٹزتک ہر چیز کی مانیٹرنگ کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں وہ ہوتا ہے جس کی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا‘ ایسی مخدوش حال عمارتیں موجود ہیں جن کے نیچے بچے موت کے سائے کے نیچے بیٹھنے کے مترادف تعلیم حاصل کر نے پر مجبور ہیں ابھی چند روز پہلے ہی ڈیرہ غازی خان میں ایسے ہی ایک تعلیمی ادارے کی عمارت گرنے سے تین معصوم بچے موت کے منہ میں چلے گئے تھے حالانکہ یہ قانون موجود ہے عمارتوں اور ماحول کے حوالے سے ہر سال فٹنس سرٹیفکیٹ کا حصول لازم ہے مگر اس پر عملدرآمد نادار ہے کبھی کسی نے نہیں پوچھا کہ ہر سال کتنے فٹنس سرٹیفکیٹس جاری کئے جاتے ہیں جو عمارتیں حادثات کی نظر ہو جاتی ہیں ان کو فٹنس سرٹیفکیٹس کون جاری کرتا ہے؟قانو ن تو یہ بھی موجود ہے کہ تعلیمی اداروں کے اندر انرجی ڈرنکس فروخت نہیں کئے جا سکتے مگر بقول ڈرگ کوئین یہاں پر تو منشیات تک فروخت کی جاتی ہیں پھر انرجی ڈرنکس کو کون پوچھنے والا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ڈرگ کوئین کے انکشافات کے بعد اٹھنا شروع ہوگئے ہیں اس لئے حکومت وقت کو ان سوالات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اس سے پہلے کہ معاملات ہاتھ سے نکل جائیں

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *