مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


توازن — ایک بابرکت زندگی کی کنجی

توازن — ایک بابرکت زندگی کی کنجی

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

شوکت جاوید
آج کے تیز رفتار اور بے ہنگم دور میں انسان سب سے زیادہ جس چیز سے محروم نظر آتا ہے، وہ “توازن” ہے۔ کہیں کام کی زیادتی ہے تو کہیں عبادت میں سستی، کہیں جذبات کی شدت ہے تو کہیں بے حسی کی انتہا۔ یہی عدم توازن انسان کی ذاتی، روحانی اور معاشرتی زندگی میں بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ بائبل مقدس ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک کامیاب اور بابرکت زندگی کے لیے توازن نہایت ضروری ہے۔
توازن کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چیز کو برابر وقت دیا جائے، بلکہ اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ہر چیز کو اُس کی درست ترجیح اور مناسب جگہ دی جائے۔ یہی حکمت انسان کو ایک متوازن اور پُرسکون زندگی کی طرف لے جاتی ہے۔
بائبل مقدس میں لکھا ہے:
“ہر چیز کا ایک وقت ہے، اور آسمان کے نیچے ہر کام کا ایک موقع ہے” (واعظ 3:1)۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کے ہر پہلو کا ایک مناسب وقت اور ترتیب ہے۔ اگر انسان اس ترتیب کو سمجھ لے تو وہ بے سکونی اور انتشار سے بچ سکتا ہے۔
اسی طرح امثال میں لکھا ہے:
“جھوٹا ترازو خداوند کو مکروہ ہے، لیکن پورا باٹ اُس کی خوشنودی ہے” (امثال 11:1)۔
یہ حوالہ ہمیں بتاتا ہے کہ خدا انصاف اور دیانت میں توازن کو پسند کرتا ہے۔ چاہے کاروبار ہو یا تعلقات، دیانتداری ہی حقیقی توازن کی بنیاد ہے۔
یسوع مسیح نے بھی توازن کی اعلیٰ مثال پیش کی۔ اُنہوں نے فرمایا:
“خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل… محبت رکھ… اور اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ” (متی 22۔ 37
یہ تعلیم ہمیں واضح کرتی ہے کہ ایک مومن کی زندگی میں خدا اور انسانوں کے ساتھ تعلق میں توازن ہونا چاہیے۔ صرف عبادت کافی نہیں، بلکہ دوسروں سے محبت بھی ضروری ہے۔
پولس رسول لکھتے ہیں:
“تمہاری نرمی سب آدمیوں پر ظاہر ہو” (فلپیوں 4:5)۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ رویوں میں نرمی اور اعتدال بھی توازن کا اہم حصہ ہے۔ سختی اور شدت پسندی اکثر تعلقات کو خراب کر دیتی ہے، جبکہ نرمی دلوں کو جوڑتی ہے۔
مزید برآں بائبل نصیحت کرتی ہے:
“سب کام شائستگی اور قرینے سے ہوں” (1 کرنتھیوں 14:40)۔
یہ اصول ہمیں زندگی کے ہر میدان میں نظم و ضبط اپنانے کی تلقین کرتا ہے، کیونکہ بے ترتیبی عدم توازن کو جنم دیتی ہے۔
آج کے معاشرے میں عدم توازن کی کئی صورتیں نظر آتی ہیں۔ کچھ لوگ دنیاوی ترقی میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ روحانی زندگی کو بھول جاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ دنیاوی ذمہ داریوں سے کنارہ کش ہو کر صرف عبادت تک محدود ہو جاتے ہیں۔ بائبل ہمیں دونوں انتہاؤں سے بچنے کی تعلیم دیتی ہے۔
ایک متوازن زندگی وہ ہے جس میں
انسان خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط رکھے.اپنےخاندان اورمعاشرے کے حقوق ادا کرے
اپنی صحت اور آرام کا خیال رکھے
اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھے
توازن دراصل حکمت، صبر اور خدا پر بھروسے کا نتیجہ ہے۔ جب انسان خدا کے کلام کو اپنی زندگی کا معیار بناتا ہے تو اس کی زندگی خود بخود توازن کی طرف مائل ہو جاتی ہے۔
توازن صرف ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی روحانی ضرورت ہے جو انسان کو ایک بامقصد، پُرسکون اور بابرکت زندگی عطا کرتی ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں بائبل کی تعلیمات کے مطابق توازن پیدا کریں تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی سنورے گی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی امن اور محبت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
لیکن ان دنوں میں یہ گنہگار آنکھیں کسی ملک کے بادشاہ کو اپنا زہنی توازن کھوتا ہوا دیکھ رہی ہیں وہ ملک جو باسیوں نےصدیاں لگاکر سپر طاقت بنایا ہے اسے ہیرو سے زیرو کرنے کے درپے ہے کبھی سوئے ہوئے ملک کے حکمرانوں کو یرغمال بنا رہا ہے تو کبھی کسی ملک کے معصوم بچوں کو لقمہ اجل بنا رہا ہے۔ان دنوں تو انکا توازن کچھ ضرورت سے زیادہ بگڑ چکا ہے وہ اپنی ٹویٹ میں ایسے کارنامے سرانجام دے رہا ہے جو آپ یقینا اس سے آشنا ہونگے لیکن یہ بادشاہ شاید یہ نہیں جانتا کہ معصوم مسیحیوں کو جس نے بھی تنگ کیا ہے اوپر والے نے ضرور اسےجلد بہ دیر سزا دی ہے۔خدا پاکستان کو اس کے شر سے محفوظ رکھے کیونکہ ان دنوں وہ پاکستان کے ساتھ بہت پیار کی پینگیں چڑھا رہا ہے۔
پاکستان پائندہ باد

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author