مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


مینارٹی فورم فار سوشل جسٹس کے زیر اہتمام سیمنار

مینارٹی فورم فار سوشل جسٹس کے زیر اہتمام سیمنار

 

 

رپورٹ: وقاص بھٹی

مینارٹی فورم فار سوشل جسٹس(MFSJ) کے زیر اہتمام   Women and Their Indepence کے موضوع پر ایک سیمینار منقد کیا گیا, جس میں مہمان خصوصی ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی نوید اینتھنی نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ عورت فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر مہناز رحمان , نزہت شیرین (وومن کمیشن اُن دی اسٹیٹس اف وومن), مس رخسانہ , (لیگل ایڈ سوسائٹی) مس درخشان , سفینہ جاوید , نومی بشیر , سیما مہیشوری , ارم جاوید اور چندن کمار  (نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس) نے اظہار خیال کیا۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ملک کے تمام شعبہ جات میں کام کرنے والی خواتین کو مردوں کے برابر تنخواہ اور صحت اور تحفظ کی سہولیات فراہم کی جائیں اور گھروں میں کام کرنے والی خواتین, سڑکوں پر کام کرنے والے مرد و خواتین, بھٹہ پر کام کرنے والی خواتین و بچوں کو تحفظ اور صحت کی سہولیات دی جائیں ملک کی تمام خواتین, اقلیتوں اور خواجہ سراؤں کو صحت اور معیاری تعلیم تک رسائی دی جائے اور انہیں آئی ٹی کی ٹریننگ کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ میں کوشش کروں گا کہ خواتین کے کوکس کو دوبارہ فعال کیا جائے تاکہ خواتین اپنے مسائل کو وہاں اجاگر کر سکیں اور اسی طرح بہت جلد اسمبلی میں اقلیتی ارکان پر مشتمل مینارٹی کوکس کی تشکیل کی کوشش کروں گا اورانہوں نے مزید کہا کہ ہماری پارٹی ہمیشہ مارجنلائز طبقے کو اپ لفٹنگ کے لیے کام کرتی ہے جس طرح خواجہ سرا کو سٹی گورنمنٹ میں مخصوص نشستیں دے کر ان کو سیاسی دھارے میں لانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ خواتین کی سفری سہولت کے لیے بھی ہماری پارٹی کچھ اقدامات کر رہی ہے اور یہ بھی کہا کہ  کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے اور 5% (پرسنٹ) کوٹہ پر تمام گریڈ پر اسامیوں کو پر کرنے کی کوشش کرواؤں گا’پروگرام کے آخر میں مینارٹی فورم فور سوشل جسٹس کی طرف سے قرارداد پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ طلبہ یونین کو بحال کیا جائے اور ریاستی جبر کا خاتمہ کیا جائے اور مختلف شعبوں کے ورکرز کو کم از کم مقرر کی گئی تنخواہ فراہم کی جائے, سینٹری ورکرز, سیکورٹی گارڈ, پیٹرول پمپ پر کام کرنے والے مزدور, ریلوے پر کام کرنے والے کانٹریکٹ ملازمین کو کم از کم تنخواہ اور صحت کی سہولت فراہم کی  جائیں, قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ گھریلو کام کرنے والے ملازمت ایکٹ 2018 کو نافذ کیا جائے اور وفاقی حکومت ٹرانس جینڈر پرسنز ایکٹ 2018 کو اپنی اصل حالت میں بحال کیا جائے۔ مینارٹی فورم فور سوشل جسٹس نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جیلانی ججمنٹ پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے اور مینارٹی کمیشن کو موجودہ پارلیمنٹ سے بل پاس کروا کر با اختیار ادارہ بنایا جائے اور یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ کم عمری کی شادی کی روک تام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ اور ارٹیکل A۔22  کو فوری طور پر لاگو کیا جائے اور جبری تبدیلی مذہب کی روک تھام کی جائے اور یہ بھی کہا گیا کہ قائد اعظم کی 11 آگست 1947 کی تقریر کو آئین اور نصاب کا حصہ بنایا جائے

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos